اقوام عالم میں اکثر دو یا دو سے زائد ممالک میں کسی نہ کسی معاملے میں کشیدگی قائم ہوتی رہتی ہے اور اکثر معاملات میں باہمی اختلافات اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ نوبت جنگ تک پہنچ جاتی ہے اس کے پیچھے پس پردہ کچھ نادیدہ قوتوں کا عمل دخل بھی شامل حال ہوتا ہے جو ان اختلافات ہو بڑھاوا دینے اور بہکانے میں اپنا شیطانی کردار ادا کرنے کے لیے اپنی پراکسی کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ جس کی وجوہات میں ان کے اپنے مذموم مقاصد ہوتے ہیں جن میں اسلحے کی فروخت، معاشی عدم استحکام، ناپسندیدہ حکمرانوں کے تخت الٹنا، رجیم چینج، عدم استحکام وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔
دنیا کے ممالک کے ان مسائل کے حل کے لیے دو مقتدرہ ادارے قائم کیے گئے پہلا UN دوسرا مسلم ممالک کی OIC۔ ان اداروں کے اجلاس منعقد ہوتے ہیں بحث و تکرار، ممبران کے اعلیٰ عہدیداروں کی تقاریر ہوتی ہیں، جن کے زریعے معاملات کی نوعیت کو سے آگاہی فراہم کی جاتی ہے آخر میں قراردادیں پیش کی جاتی ہیں ان پر رائے حاصل کرنے کے لیے ووٹنگ کے ذریعے قراردادوں کی منظوری کی جاتی ہے یا مسترد کی جاتی ہیں۔
لیکن اصل تلخ حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ عملی طور پر صرف ایک فلاحی ادارے کے طور پر تو بہت مؤثر ادارہ ہے جس کے درجن سے زائد ذیلی ادارے اور تنظیمیں دنیا بھر میں بہترین خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ لیکن جنرل اسمبلی میں منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد ناپید ہے بلکل ایسے ہی جیسے پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ فیصلے تو جاری کرتی ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کروانا ان کے اپنے بس میں بھی نہیں ہوتا یہی حال OIC کا بھی کے جس کے منعقدہ اجلاس محض رسمی کاروائیوں کے علاؤہ کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔
گزشتہ چند دہائیوں سے دنیا بھر میں مختلف جنگوں، بارڈرز کی جھڑپوں، اندرونی و بیرونی سازشوں، پراکسی کے زریعے، خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹس کی خفیہ کاروائیوں کئی ممالک کے تخت بھی الٹے گئے، حکومتوں کو بدلا گیا قتل و غارتگری، دہشتگردی کی کارروائیوں کے زریعے متعدد ریاستوں کی عوام کو شدید ترین متاثر کیا گیا لاکھوں لوگ یتیموں، بیواؤں، لاوارث، بے آسرا و بے سروسامان، بے گھر، کہیں سڑکوں یا فٹ پاتھوں پر تو کہیں پناہ گاہوں میں کہیں دوسرے ممالک میں ہجرت پر مجبور کر دیے گئے دوسرے لفظوں میں ہر جگہ انسانیت کی بھرپور تزلیل کی گئی، انسانیت کو روندھا گیا، جس کی واضح اور ژندہ مثال فلسطین، شام، لبنان، عراق، لبیا، سریا، چیچنیا، برما اور افریقہ کے متعدد ممالک و دیگر کئیں ممالک کے شہر و قصبے دنیائے عالم کی نظروں کے سامنے ہیں۔
دور حاضر کی اشد ترین ضرورت ہے کہ ایک بین الاقوامی سطح پر صرف اور صرف انسانیت کی بنیاد پر ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائے جس میں دنیا کے تمام مقتدر ممالک کو ممبر بنایا جائے انہیں میں سے کسی ایک کو اس ادارے کا سربراہ مقرر کیا جائے اور ضرورت کے مطابق چند با اختیار کمیٹیاں ترتیب دی جائیں طاقت کا محور و اختیارات کا حق صرف ادارے کا سربراہ اور ان کمیٹیوں کو بنایا جائے ہر قرارداد ووٹنگ کے زریعے منظور یا مسرد کی جائے کسی کو بھی ویٹو کا انفرادی اختیار حاصل نہ ہو کر فیصلہ میرٹ پر کیا جائے اور سب سے اہم منظور کی گئی قرارداد پر سختی سے عملدرآمد کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ اور اسے یقینی بنایا جائے کہ جو ملک عملدرآمد سے انکاری ہو یا اس کی مخالفت کرے تمام ممالک اس سے ہر فورم پر قطع تعلق اختیار کرے اس کے ساتھ ہر نوعیت کے معاہدے فل فور منسوخ کر دیے جائیں تجارت پر سخت پابندی نافظ کر دی جائے اور تمام ممالک سے سفارتی تعلقات بھی ختم کر دیے جائیں اور اس ملک میں موجود تمام سفارت خانے بند کر دیے جائیں یعنی اس ملک کو مکمل طور پر دنیا سے لاتعلق اور تنہا کر دیا جائے۔
تحریر: اسد الحق قریشی
چیئرمین ابابیل خیرالبشر موومنٹ
+923122717987

