Ads

جنرل عاصم منیر اور امت مسلمہ کی امیدیں

0 Admin


 

تحریر: اسد الحق قریشی 
چیئرمین ابابیل خیرالبشر موومنٹ

موجودہ جنگ کا اچانک آغاز امریکہ نے اسرائیل کے اکسانے پہ کیا اور جواب میں ایران نے اسرائیل سمیت امریکہ کے گلف میں موجود اڈوں پر تابڑتوڑ حملے شروع کر دیے اور چند ہی دنوں میں اپنے دشمنوں کو اس حالت میں پہنچا دیا کہ جنگ بندی کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو گئیں جس کے لیے ٹرمپ نے پہلے اپنے دوست ممالک سے رجوع کیا لیکن حیرت انگیز طور پر نیٹو سمیت دیگر ممالک کے حکمرانوں نے بھی اس جنگ۔ میں امریکہ سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور اس کا ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا جس کے پیش نظر ٹرمپ نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کرنے کا عندیا دے ڈالا اس سے پہلے کہ وہ کسی جذباتی نوعیت کے فیصلے کی جانب بڑھتا دنیا نے ایک عجیب نظارہ دیکھا کہ دنیائے عالم کا ایک نڈر، بیباک مرد مجاہد اور دنیا کی عظیم اور طاقتور فوج کا سربراہ جسے اس کی قابلیت اور بہترین صلاحیتوں کے اعزاز میں فیلڈ مارشل کا اعزاز عطا کیا گیا تھا، یعنی پاکستانی افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شاہ صاحب میدان عمل میں اترے اور دونوں فریقوں کو اس بات پہ قائل بلکہ مجبور کر دیا کہ وہ جنگ روک کر مذاکرات کی میز پہ اکھٹے بیٹھ جائیں اور آپس کے تنازعات کو مذاکرات سے حل کریں اس کے لیے ہم ہر طرح کے تعاون کے ساتھ اپنے ملک میں دونوں فریقین کو دعوت دیتے ہیں۔ اور اس ثالثی کے لیے دیگر ممالک کو بھی اپنے ساتھ شامل کریں گے جو دونوں ممالک کے مابین امن کے خواہاں ہیں۔ 

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب کی کوششیں رنگ لائیں اور 40 سال کی طویل مدت کی دوریاں اور دشمنیاں بالائے طاق رکھ   دونوں فریقین کی اعلیٰ قیادت و دیگر نمائیندے پاکستان پہنچ گئے اور ایک مذاکراتی عمل کا حصہ بن کر اک دوجے سے ہاتھ ملا کر آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت شروع کر دی اور اپنے اپنے مطالبات ایک دوسرے کو پیش کیے۔ 

ثالثیوں کی موجودگی میں بہت سے مطالبات پر اتفاق بھی کر لیا اور مشترکہ بیانیہ اور اعلان کی تیاریاں بھی شروع ہو رہی تھیں کہ اچانک فریقین کے بڑوں کی مداخلت نے مذاکرات کے اس عمل کو ڈیڈ لاک میں بدل ڈالا اور مزاکرات کا پہلا دور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو کر اگلے مرحلے کے عظم و ارادے کے ساتھ تعطل کا شکار ہو گیا۔

جب دونوں فریقین کی اعلیٰ قیادت کی واپسی اور ملک میں اندرونی مشاورت کے متعدد اجلاسوں کے باوجود معاملات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے تو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب نے بذات خود ایران و دیگر ممالک کے دورے کیے اور ایک بہترین ثالث کی حیثیت سے دنا میں اپنی ایسی دھاک بٹھائی کہ دشمن بھی۔ تعریف کرنے پہ مجبور ہو گئے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کئیں دشمنوں کی چیخیں نکل گئیں اور ان کا واویلا ساری دنیا نے بھرپور انجوائے کیا۔ 
ٹرمپ کی اس بے مقصد اور اچانک شروع کرنے والی جنگ نے دنیا کو یہ بھی باور کرا دیا کہ مسلم امہ کی یکجہتی کے علمبردار عظیم حکمرانوں، شاہ فیصل، یاسر عرافات، صدام۔ حسین، ضیاء الحق، معمر قزافی و دیگر کے خاتمے کے باوجود دور حاضر میں بھی ایک ایسا ہی مسلم فوج کا سربراہ منظر عام پہ چھا چکا ہے جس کی قابلیت، زہانت، معاملہ فہمی، مدبرانہ اور منصفانہ و ماہرانہ صلاحیت کی دنیا بھر میں چرچے ہو رہے ہیں جسے قرآن مجید کا علم بھی حاصل ہے اور دنیاوی ٹیکنالوجی کے علوم کے ساتھ جنگی حکمت عملی کا بھی ماہر ہے۔ 

یہ بھی عاصم منیر صاحب کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے باوجود دونوں فریقین کی جانب سے محض دھمکی آمیز بیان بازی تو کی جا رہی ہے لیکن جنگ دوبارہ شروع کرنے سے دونوں ہی کترا بھی رہے ہیں اور مزاکرات کے دوسرے اور حتمی دور کے لیے خواہشمند ہیں۔ 

دوسری جانب امت مسلمہ کے مظلوم طبقات بھی شدت سے منتظر اور مکمل پُرامید ہیں کہ ان دونوں فریقین کے جنگ کے خاتمے کے اعلامیے اور معاہدے کے بعد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب ان کی دادرسی کے لیے بھی عملی طور پر ایسے اقدامات ضرور کریں گے جو انہیں ظالموں کے ظلم و بربریت سے انہیں نجات دلائیں گے جس میں سر فہرست فلسطین کے یتیم بچے اور معصوم عوام ہیں، اردن، شام، لبیا، عراق، برما جیسے دیگر مسلم ممالک کے ظلم کی چکی میں پسنے والے بے بس مجبور اور لاچار بوڑھے، لاوارث، معزور، نوجوان، مرد، خواتین، بیوائیں، یتیم ببچیاں، شیر خوار بچے، بے گھر، لٹے پٹے مسلمان شامل ہیں۔ ان سب کی نظریں اب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب کی جانب پُرامید نگاہیں بچھانے بیٹھے ہیں۔

برسوں بعد امت کے ان بے سہاروں کو ایک مسلم حکمران یا سپہ سالار دکھائی دیا ہے جو حقیقت میں مسلم امہ کے مظلوموں کی دادرسی کی قابلیت و صلاحیت رکھتا ہے۔

تحریر: اسد الحق قریشی 
چیئرمین ابابیل خیرالبشر موومنٹ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

داستان گو

ہم اردو زبان کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں ۔ آپ اسے اور بہتر بنانے کے لئے مشورہ دیں۔ کیوں کہ آپ کا مشورہ ہمارے لئے انتہائی اہم ہے۔