جواب شکوہ (Jawab-e-Shikwa) علامہ اقبال کی شاہکار نظم مکمل تشریح و اسباق کے ساتھ

0 Admin


تحقیق و ترتیب: عمر مختار رند

جواب شکوہ (Jawab-e-Shikwa)

علامہ اقبال کی شاہکار نظم مکمل تشریح و اسباق کے ساتھ
تعارف

"جواب شکوہ" علامہ اقبال کی وہ لازوال نظم ہے جو ان کی مشہور نظم "شکوہ" کا تکملہ ہے۔ "شکوہ" 1911ء میں لکھی گئی جس میں اقبال نے مسلمانوں کی زبانی اللہ تعالیٰ سے شکوہ کیا تھا کہ باوجود وفاداری کے مسلمان زوال کا شکار کیوں ہیں؟ اس نظم نے علمی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا اور کچھ لوگوں نے اقبال پر گستاخی کا الزام بھی لگایا ۔

چنانچہ 1913ء میں انجمن حمایت اسلام کے جلسہ عام میں اقبال نے "جواب شکوہ" پیش کی، جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان شکووں کا جواب دیا گیا ۔ یہ نظم اتنی مقبول ہوئی کہ ہر شعر پر داد دی گئی اور اشعار نیلام کیے گئے، جس سے جمع شدہ رقم بلقان فنڈ میں دی گئی ۔

آئیے، اب ہم "جواب شکوہ" کا مکمل متن پڑھتے ہیں اور ہر بند کی تشریح و اسباق پر غور کرتے ہیں۔

مکمل متن نظم "جواب شکوہ"

بند نمبر 1

دل سے جو بات نکلتی ہے، اثر رکھتی ہے
پر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

قدسی الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہے
خاک سے اٹھتی ہے، گردوں پہ گزر رکھتی ہے

عشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مرا
آسماں چیر گیا نالۂ بے باک مرا

بند نمبر 2

پیرِ گردوں نے کہا سن کے، کہیں ہے کوئی
بولے سیارے، سرِ عرشِ بریں ہے کوئی

چاند کہتا تھا، نہیں! اہلِ زمیں ہے کوئی
کہکشاں کہتی تھی، پوشیدہ یہیں ہے کوئی

کچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھا
مجھے جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھا

بند نمبر 3

تھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیا
عرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیا!

تا سرِ عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیا!
آگئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیا!

غافل آداب سے سکّانِ زمیں کیسے ہیں
شوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیں!

بند نمبر 4

اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہے
تھا جو مسجودِ ملائک، یہ وہی آدم ہے!

عالمِ کیف ہے، دانائے رموزِ کم ہے
ہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے

ناز ہے طاقتِ گفتار پہ انسانوں کو
بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو

بند نمبر 5

آئی آواز، غم انگیز ہے افسانہ ترا
اشکِ بے تاب سے لبریز ہے پیمانہ ترا

آسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ ترا
کس قدر شوخ زباں ہے دلِ دیوانہ ترا

شکر شکوے کو کیا حُسنِ ادا سے تو نے
ہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نے

بند نمبر 6

ہم تو مائل بہ کرم ہیں، کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے، رہروِ منزل ہی نہیں

تربیت عام تو ہے، جوہرِ قابل ہی نہیں
جس سے تعمیر ہو آدم کی، یہ وہ گِل ہی نہیں

کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

بند نمبر 7

ہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر ہیں
اُمتی باعثِ رسوائیِ پیغمبرؐ ہیں

بُت شکن اٹھ گئے، باقی جو رہے بُت گر ہیں
تھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیں

بادہ آشام نئے، بادہ نیا، خُم بھی نئے
حرمِ کعبہ نیا، بُت بھی نئے، تم بھی نئے

بند نمبر 8

وہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھا
نازشِ موسمِ گُل لالۂ صحرائی تھا

جو مسلمان تھا، اللہ کا سودائی تھا
کبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھا

کسی یکجائی سے اب عہدِ غلامی کر لو
ملتِ احمدِ مرسلؐ کو مقامی کر لو!

بند نمبر 9

کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے
ہم سے کب پیار ہے! ہاں نیند تمہیں پیاری ہے

طبعِ آزاد پہ قیدِ رمضاں بھاری ہے
تمہی کہہ دو، یہی آئینِ وفاداری ہے؟

قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں، تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیں

بند نمبر 10

جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن، تم ہو
نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن، تم ہو

بجلیاں جس میں ہوں آسودہ، وہ خرمن تم ہو
بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن، تم ہو

ہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کرکے
کیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے

بند نمبر 11

صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نے؟
نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نے؟

میرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نے؟
میرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نے؟

تھے تو آبا وہ تمہارے ہی، مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!

بند نمبر 12

کیا کہا! بہرِ مسلماں ہے فقط وعدۂ حور
شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور

عدل ہے فاطرِ ہستی کا ازل سے دستور
مسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصور

تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں
جلوۂ طور تو موجود ہے، موسیٰ ہی نہیں

بند نمبر 13

منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک

حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

بند نمبر 14

کون ہے تارکِ آئینِ رسولِ مختارؐ؟
مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار؟

کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار؟
ہوگئی کس کی نگہ طرزِ سلف سے بیزار؟

قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغامِ محمدؐ کا تمہیں پاس نہیں

بند نمبر 15

جا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا، تو غریب
زحمتِ روزہ جو کرتے ہیں گوارا، تو غریب

نام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا، تو غریب
پردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا، تو غریب

امرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سے
زندہ ہے ملتِ بیضا غربا کے دم سے

بند نمبر 16

واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی، شعلہ مقالی نہ رہی

رہ گئی رسمِ اذاں، روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحبِ اوصافِ حجازی نہ رہے

بند نمبر 17

شور ہے، ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود!

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!

بند نمبر 18

دمِ تقریر تھی مسلم کی صداقت بے باک
عدل اس کا تھا قوی، لوثِ مراعات سے پاک

شجرِ فطرتِ مسلم تھا حیا سے نم ناک
تھا شجاعت میں وہ اک ہستیِ فوق الادراک

خود گدازی نمِ کیفیّت صہبایش بود
خالی از خویش شدن صورتِ مینایش بود

بند نمبر 19

ہر مسلماں رگِ باطل کے لیے نشتر تھا
اس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھا

جو بھروسا تھا اسے قوّتِ بازو پر تھا
ہے تمہیں موت کا ڈر، اس کو خدا کا ڈر تھا

باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
پھر پسر قابلِ میراثِ پدر کیونکر ہو

( ماخوذ از: اقبال اردو بلاگ  اور علامہ اقبال کنکورڈنس ,)

تشریح و اسباق

بند نمبر 1: شِکوہ کی قبولیت

اشعار

دل سے جو بات نکلتی ہے، اثر رکھتی ہے
پر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

قدسی الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہے
خاک سے اٹھتی ہے، گردوں پہ گزر رکھتی ہے

عشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مرا
آسماں چیر گیا نالۂ بے باک مرا

تشریح

یہ بند "جواب شکوہ" کا دیباچہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو بات دل سے نکلتی ہے، وہ ضرور اثر پیدا کرتی ہے۔ اگرچہ اس میں پر نہیں ہوتے (یعنی ظاہری وسائل نہیں ہوتے)، لیکن پرواز کی طاقت ضرور رکھتی ہے ۔

یہ آواز قدسی الاصل ہے (یعنی روحانی ہے)، بلندیوں پر نظر رکھتی ہے۔ یہ خاک سے اٹھتی ہے لیکن آسمانوں پر گزر رکھتی ہے۔

اقبال کا عشق فتنہ گر، سرکش اور چالاک تھا، اور اس کے بے باک نالے نے آسمان کو چیر دیا ۔

سبق

اس بند میں ہمیں سچے جذبات کی طاقت کا پتہ چلتا ہے۔ جو کام دل سے کیا جائے، اس میں تاثیر ہوتی ہے۔ اقبال کا شکوہ محض ایک شاعرانہ اظہار نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والی آواز تھی، اسی لیے اس نے آسمان تک رسائی حاصل کی۔

یہ بند ہمیں بتاتا ہے کہ اگر ہمارے جذبات سچے ہوں، تو وہ تمام رکاوٹوں کو عبور کر سکتے ہیں۔

بند نمبر 2: کائنات کا حیران ہونا

اشعار

پیرِ گردوں نے کہا سن کے، کہیں ہے کوئی
بولے سیارے، سرِ عرشِ بریں ہے کوئی

چاند کہتا تھا، نہیں! اہلِ زمیں ہے کوئی
کہکشاں کہتی تھی، پوشیدہ یہیں ہے کوئی

کچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھا
مجھے جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھا

تشریح

جب اقبال کا شکوہ آسمان تک پہنچا تو کائنات کی ہر شے حیران رہ گئی۔ آسمان (پیر گردوں) نے کہا کہ یہ آواز کہیں سے آ رہی ہے۔ سیاروں نے کہا کہ یہ عرش الٰہی پر ہے۔ چاند نے کہا نہیں، یہ زمین والوں میں سے ہے۔ کہکشاں نے کہا کہ یہیں ہمارے درمیان چھپا ہوا ہے ۔

رضوان (جنت کا داروغہ) ہی تھا جس نے اقبال کے شکوے کو سمجھا اور اسے جنت سے نکالے گئے انسان (آدم) کی مانند سمجھا ۔

سبق

یہ بند انسان کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ انسان کی آواز کائنات میں گونجتی ہے اور تمام مخلوقات اس پر حیران ہوتی ہیں۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ رضوان نے اقبال کو آدم علیہ السلام سے تشبیہ دی، جو اس بات کی علامت ہے کہ سچا عاشقِ رسول وہی مقام پا لیتا ہے جو آدم کو حاصل تھا۔

بند نمبر 3: فرشتوں کی حیرت

اشعار

تھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیا
عرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیا!

تا سرِ عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیا!
آگئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیا!

غافل آداب سے سکّانِ زمیں کیسے ہیں
شوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیں!

تشریح

فرشتے بھی حیران ہیں کہ یہ کس قسم کی آواز ہے۔ عرش والے بھی اس راز کو نہیں سمجھ پا رہے۔ کیا واقعی انسان عرش تک دوڑ لگا سکتا ہے؟ کیا مٹی کی چٹکی (انسان) کو بھی پرواز مل گئی ؟

پھر فرشتے کہتے ہیں کہ زمین والے آداب سے غافل کیسے ہیں؟ یہ پستی میں رہنے والے اتنے شوخ اور گستاخ کیسے ہیں؟

سبق

یہ بند انسان کے مقام و مرتبے کو ظاہر کرتا ہے کہ اس کی آواز فرشتوں تک پہنچتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی تنبیہ بھی ہے کہ انسان کو اپنے مقام کا پتہ ہونا چاہیے اور آداب سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔

یہاں اقبال نے اشارہ دیا ہے کہ شکوہ کرنا کوئی بری بات نہیں، لیکن اس کے آداب ہوتے ہیں۔

بند نمبر 4: انسان کی حقیقت

اشعار

اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہے
تھا جو مسجودِ ملائک، یہ وہی آدم ہے!

عالمِ کیف ہے، دانائے رموزِ کم ہے
ہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے

ناز ہے طاقتِ گفتار پہ انسانوں کو
بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو

تشریح

فرشتے کہتے ہیں کہ یہ انسان اتنا شوخ ہے کہ اللہ سے بھی ناراض ہو گیا۔ کیا یہ وہی آدم ہے جسے فرشتوں نے سجدہ کیا تھا ؟

یہ سچ ہے کہ انسان کیفیات سے واقف ہے اور بہت سے راز جانتا ہے، لیکن عجز کے اسرار سے ناواقف ہے۔ اسے اپنی طاقت گفتار پر ناز ہے، لیکن بات کرنے کا سلیقہ نہیں ۔

سبق

یہ بند انسان کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ انسان نے بہت کچھ سیکھ لیا، علم حاصل کر لیا، لیکن عاجزی اور انکسار نہیں سیکھا۔ یہی اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔

اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ علم کے ساتھ عجز بھی ضروری ہے۔ بغیر عجز کے علم انسان کو سرکش بنا دیتا ہے۔

بند نمبر 5: اللہ کا جواب

اشعار

آئی آواز، غم انگیز ہے افسانہ ترا
اشکِ بے تاب سے لبریز ہے پیمانہ ترا

آسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ ترا
کس قدر شوخ زباں ہے دلِ دیوانہ ترا

شکر شکوے کو کیا حُسنِ ادا سے تو نے
ہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نے

تشریح

اب اللہ تعالیٰ کی آواز آتی ہے: "اے انسان! تیرا افسانہ غم انگیز ہے۔ تیرا پیمانہ بے تاب آنسوؤں سے لبریز ہے۔ تیرا مستنہ نعرہ آسمان تک پہنچ گیا۔ تیرا دیوانہ دل کتنا شوخ زبان ہے ۔"

"شکر ہے کہ تو نے شکوے کو حسن ادا سے کیا۔ تو نے بندوں کو خدا سے ہم کلام کر دیا" ۔

سبق

یہ بند بہت اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اقبال کے شکوے کو قبول فرمایا اور اسے حسن ادا سے تعبیر کیا۔ یہ اقبال کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے کہ ان کی نظم کو بارگاہ ربانی میں قبولیت ملی۔

یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اگر سچے دل سے کی جائے، تو دعا، مناجات بلکہ شکوہ بھی مقبول ہو سکتا ہے۔

بند نمبر 6: مسئلہ سائل کا ہے

اشعار

ہم تو مائل بہ کرم ہیں، کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے، رہروِ منزل ہی نہیں

تربیت عام تو ہے، جوہرِ قابل ہی نہیں
جس سے تعمیر ہو آدم کی، یہ وہ گِل ہی نہیں

کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

تشریح

اللہ فرماتا ہے کہ ہم تو کرم کرنے کو تیار ہیں، لیکن کوئی مانگنے والا نہیں۔ ہم راستہ دکھائیں کسے؟ کوئی راستہ چلنے والا ہی نہیں ۔

تربیت تو عام ہے، لیکن جوہر قابل نہیں۔ جس مٹی سے آدم کی تعمیر ہوتی ہے، وہ مٹی نہیں ۔

اگر کوئی قابل ہو تو ہم اسے کئی شانیں دیتے ہیں۔ ڈھونڈنے والوں کو ہم نئی دنیا بھی دے دیتے ہیں۔

سبق

یہ بند مسلمانوں کے زوال کی اصل وجہ بتاتا ہے۔ اللہ کی رحمتیں تو نازل ہو رہی ہیں، لیکن قبول کرنے والے نہیں۔ مسلمانوں میں وہ جوہر ہی نہیں رہا جو انہیں قابلِ تربیت بنائے۔

یہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم نے اپنی اصلاحی صلاحیت کھو دی ہے۔ ہم وہ "گِل" نہیں رہے جس سے آدم علیہ السلام بنائے گئے تھے۔

بند نمبر 7: مسلمانوں کی حالت

اشعار

ہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر ہیں
اُمتی باعثِ رسوائیِ پیغمبرؐ ہیں

بُت شکن اٹھ گئے، باقی جو رہے بُت گر ہیں
تھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیں

بادہ آشام نئے، بادہ نیا، خُم بھی نئے
حرمِ کعبہ نیا، بُت بھی نئے، تم بھی نئے

تشریح

اللہ فرماتا ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھ بے زور ہیں، دل الحاد (بے دینی) کے عادی ہو چکے ہیں۔ یہ امتی اپنے پیغمبرؐ کی رسوائی کا باعث ہیں ۔

بت شکن (ابراہیم علیہ السلام جیسے) اٹھ گئے، باقی جو رہے وہ بت گر ہیں (بت بنانے والے)۔ باپ ابراہیم تھا اور بیٹے آزر ہیں ۔

شراب پینے والے نئے ہیں، شراب نئی ہے، مٹکے نئے ہیں۔ کعبہ کا حرم نیا ہے، بت نئے ہیں اور تم خود بھی نئے ہو ۔

سبق

یہ بند مسلمانوں کی مذمت میں سب سے سخت بند ہے۔ اقبال نے واضح کیا کہ مسلمان اپنے اسلاف کی طرح بت شکن نہیں رہے بلکہ خود بت پرست بن گئے ہیں۔ ان کے دل الحاد کے عادی ہو چکے ہیں۔

یہاں "نئے کعبے" اور "نئے بتوں" سے مراد وہ نئی اقدار ہیں جو مسلمانوں نے اپنا لیں۔ وہ دولت، عہدے، جاگیروں اور قومیت کے بت پوجنے لگے ۔

بند نمبر 8: ماضی کی عظمت

اشعار

وہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھا
نازشِ موسمِ گُل لالۂ صحرائی تھا

جو مسلمان تھا، اللہ کا سودائی تھا
کبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھا

کسی یکجائی سے اب عہدِ غلامی کر لو
ملتِ احمدِ مرسلؐ کو مقامی کر لو!

تشریح

اللہ فرماتا ہے کہ وہ بھی دن تھے جب مسلمان (لالۂ صحرائی) میری رعنائی کا باعث تھے اور موسم گل کی نازش تھے ۔

جو مسلمان تھا، وہ اللہ کا سودائی تھا (دیوانہ تھا)۔ جسے تم آج ہرجائی (بے وفا) کہہ رہے ہو، وہی کبھی تمہارا محبوب تھا۔

اگر مجھے ہرجائی سمجھتے ہو تو جاؤ کسی یکجائی (وفادار) سے عہد غلامی کر لو۔ محمد رسول اللہؐ کی آفاقی ملت کو مقامی (محدود) کر لو ۔

سبق

یہ بند طنز کی انتہا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ اگر تم مجھے بے وفا سمجھتے ہو تو جاؤ کسی اور کو اپنا خدا بنا لو۔ اگر میری آفاقی ملت تمہیں پسند نہیں تو اسے کسی ملک یا نسل تک محدود کر لو ۔

اقبال نے درپردہ یہ تلقین کی ہے کہ مسلمانوں کی سربلندی کا واحد راستہ توحید اور عالمگیر اخوت پر یقین ہے ۔

بند نمبر 9: عمل کی کمی

اشعار

کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے
ہم سے کب پیار ہے! ہاں نیند تمہیں پیاری ہے

طبعِ آزاد پہ قیدِ رمضاں بھاری ہے
تمہی کہہ دو، یہی آئینِ وفاداری ہے؟

قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں، تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیں

تشریح

اللہ فرماتا ہے کہ تم پر صبح اٹھنا (فجر کی نماز) بھاری ہے۔ تمہیں مجھ سے پیار نہیں، نیند پیاری ہے ۔

آزاد طبیعت پر روزے کی پابندی بھاری ہے۔ تم ہی بتاؤ کیا یہ وفاداری کا طریقہ ہے ؟

قوم مذہب کی وجہ سے قائم ہوتی ہے۔ اگر مذہب نہیں تو تم بھی نہیں۔ جذبۂ باہمی نہیں تو محفلِ انجم (ستاروں کی محفل) بھی نہیں ۔

سبق

یہ بند مسلمانوں کی عملی زندگی کی کمزوریوں کو واضح کرتا ہے۔ نماز سے غفلت، روزے سے جی چرانا، یہ وہ علامات ہیں کہ ایمان کمزور ہو گیا ہے۔

اقبال نے واضح کیا کہ قوم کی بقا کا انحصار مذہب پر ہے۔ جب مذہب کمزور ہو گا تو قوم بھی ختم ہو جائے گی۔

بند نمبر 10 قوم کی پہچان

اشعار

جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن، تم ہو
نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن، تم ہو

بجلیاں جس میں ہوں آسودہ، وہ خرمن تم ہو
بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن، تم ہو

ہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کرکے
کیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے

تشریخ

اللہ فرماتا ہے کہ جنہیں دنیا میں کوئی فن نہیں آتا، وہ تم ہو۔ جس قوم کو اپنے گھر کی فکر نہیں، وہ تم ہو ۔

جس خرمن میں بجلیاں آسودہ ہوں (یعنی جو تباہی کے لیے تیار ہو)، وہ تم ہو۔ جو اپنے اسلاف کی قبریں بیچ کھاتے ہو، وہ تم ہو ۔

تم قبروں کی تجارت کرکے نیک نام ہو رہے ہو۔ اگر پتھر کے بت مل جائیں تو کیا نہیں بیچو گے؟

سبق

یہ بند مسلمانوں کی تجارتی ذہنیت پر کڑی تنقید ہے۔ وہ اپنے اسلاف کی قبروں کو سیاحت کا ذریعہ بنا کر پیسے کما رہے ہیں، لیکن ان کے اخلاق و کردار سے دور ہیں۔

اقبال نے خبردار کیا کہ یہی لوگ اگر بت مل جائیں تو انہیں بھی بیچ دیں گے۔ یعنی اصولوں کی کوئی پرواہ نہیں، صرف مفاد مطلوب ہے۔

بند نمبر 11 اسلاف کا موازنہ

اشعار

صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نے؟
نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نے؟

میرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نے؟
میرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نے؟

تھے تو آبا وہ تمہارے ہی، مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!

تشریح

اللہ پوچھتا ہے کہ دنیا سے باطل کس نے مٹایا؟ انسان کو غلامی سے کس نے چھڑایا ؟

میرے کعبے کو پیشانیوں سے کس نے آباد کیا؟ میرے قرآن کو سینوں سے کس نے لگایا ؟

وہ تمہارے آباء و اجداد تھے، لیکن تم کیا ہو؟ تم تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے کل کا انتظار کر رہے ہو ۔

سبق

یہ بند موازنہ کا بند ہے۔ اللہ مسلمانوں کو ان کے اسلاف کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے دنیا بدل دی، باطل کا خاتمہ کیا، انسانوں کو غلامی سے آزاد کیا۔

اور آج کے مسلمان؟ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں، کچھ کرنا نہیں چاہتے، صرف قسمت کا انتظار کر رہے ہیں۔

بند نمبر 12 عدل الٰہی

اشعار

کیا کہا! بہرِ مسلماں ہے فقط وعدۂ حور
شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور

عدل ہے فاطرِ ہستی کا ازل سے دستور
مسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصور

تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں
جلوۂ طور تو موجود ہے، موسیٰ ہی نہیں

تشریح

اللہ فرماتا ہے کہ تم نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے صرف حور کا وعدہ ہے؟ شکوہ بے جا بھی کرے تو شعور تو ہونا چاہیے ۔

عدل کائنات کا ازل سے دستور ہے۔ اگر مسلمان طریقے پر کوئی کافر ہو جائے تو اسے بھی حور و قصور ملے گا ۔

تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں۔ جلوۂ طور تو موجود ہے، موسیٰ نہیں ۔

سبق

یہ بند عدل الٰہی کی وضاحت کرتا ہے۔ اللہ کسی سے ناانصافی نہیں کرتا۔ جو جیسا کرے گا، ویسا بھرے گا۔

"جلوۂ طور تو موجود ہے، موسیٰ نہیں" بہت مشہور مصرع ہے۔ یعنی اللہ کی تجلیات تو ہر جگہ موجود ہیں، لیکن انہیں دیکھنے والے موسیذ جیسے باہمت نہیں رہے۔

بند نمبر 13 اتحاد کی ضرورت

اشعار

منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک

حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

تشریح

اللہ فرماتا ہے کہ اس قوم کا نفع ایک ہے، نقصان ایک ہے۔ سب کا نبی ایک ہے، دین ایک ہے، ایمان ایک ہے ۔

حرم پاک ایک ہے، اللہ ایک ہے، قرآن ایک ہے۔ کتنی بڑی بات ہوتی اگر مسلمان بھی ایک ہوتے ۔

لیکن آج کہیں فرقہ بندی ہے، کہیں ذاتیں ہیں۔ کیا زمانے میں ترقی کی یہی باتیں ہیں ؟

سبق

یہ بند مسلمانوں کی فرقہ بندی پر کڑی تنقید ہے۔ اتنی چیزیں مشترک ہونے کے باوجود مسلمان متحد نہیں ہو سکتے۔ یہی ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔

اقبال نے خبردار کیا کہ فرقہ بندی اور ذات پات کے نظام سے قومیں ترقی نہیں کر سکتیں۔

بند نمبر 14 رسولؐ کی تعلیمات سے دوری

اشعار

کون ہے تارکِ آئینِ رسولِ مختارؐ؟
مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار؟

کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار؟
ہوگئی کس کی نگہ طرزِ سلف سے بیزار؟

قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغامِ محمدؐ کا تمہیں پاس نہیں

تشریح

اللہ پوچھتا ہے کہ رسولؐ مختار کے طریقے کو کس نے چھوڑا؟ وقت کی مصلحت کس کے عمل کا معیار بن گئی ؟

کس کی آنکھوں میں غیروں کا طور طریقہ سمایا؟ کس کی نظر اسلاف کے طریقے سے بیزار ہو گئی ؟

دلوں میں سوز نہیں، روحوں میں احساس نہیں۔ تمہیں محمدؐ کے پیغام کا کچھ بھی پاس نہیں ۔

سبق

یہ بند مسلمانوں کی مغرب زدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے غیروں کے طریقے اپنا لیے اور اپنے اسلاف کے طریقوں سے بیزار ہو گئے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ دل میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اور سنت سے دوری نے مسلمانوں کو بے جان بنا دیا۔

بند نمبر 15 غریبوں کا کردار

اشعار

جا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا، تو غریب
زحمتِ روزہ جو کرتے ہیں گوارا، تو غریب

نام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا، تو غریب
پردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا، تو غریب

امرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سے
زندہ ہے ملتِ بیضا غربا کے دم سے

تشریح

اللہ فرماتا ہے کہ مساجد میں صف آرا غریب ہوتے ہیں۔ روزے کی زحمت گوارا کرنے والے غریب ہوتے ہیں ۔

اگر کوئی ہمارا نام لیتا ہے تو وہ غریب ہے۔ اگر کوئی تمہارا پردہ رکھتا ہے تو وہ غریب ہے ۔

امیر لوگ دولت کے نشے میں غافل ہیں۔ یہ سفید پوش ملت (مسلمانوں کی قوم) غریبوں کے دم سے زندہ ہے ۔

سبق

یہ بند غریبوں کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ امیر لوگ دولت کے نشے میں دین سے غافل ہو جاتے ہیں، لیکن غریب اپنی سادگی میں اللہ کو یاد رکھتے ہیں۔

اقبال نے واضح کیا کہ مسلمانوں کی بقا کا انحصار انہی غریبوں پر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں اور اللہ کا نام لیتے ہیں۔

بند نمبر 16 روحانیت کا فقدان

اشعار

واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی، شعلہ مقالی نہ رہی

رہ گئی رسمِ اذاں، روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحبِ اوصافِ حجازی نہ رہے

تشریح

اللہ فرماتا ہے کہ قوم کے واعظ کی وہ پختہ خیالی نہ رہی۔ وہ برق کی سی تیزی نہ رہی، وہ شعلہ بیانی نہ رہی ۔

اذان کی رسم تو رہ گئی، لیکن بلالؓ کی روح نہ رہی۔ فلسفہ رہ گیا، لیکن غزالی کی تلقین نہ رہی ۔

مسجدیں مرثیہ پڑھ رہی ہیں کہ نمازی نہ رہے۔ یعنی وہ صاحبِ اوصافِ حجازی نہ رہے ۔

سبق

یہ بند مسلمانوں کی روحانی زوال کی عکاسی کرتا ہے۔ ظاہری رسوم تو باقی ہیں، لیکن ان کے اندر وہ روح نہیں رہی جو صحابہ اور بزرگان دین میں تھی۔

اذان تو دی جاتی ہے، لیکن اس کا اثر نہیں۔ فلسفہ پڑھا جاتا ہے، لیکن غزالی کا سوز نہیں۔ یہی المیہ ہے۔

بند نمبر 17 مسلمانوں کی شناخت

اشعار

شور ہے، ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود!

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!

تشریح

اللہ فرماتا ہے کہ شور ہے کہ مسلمان دنیا سے نابود ہو گئے۔ ہم تو کہتے ہیں کہ کبھی مسلمان تھے بھی کہیں ؟

تمہاری وضع قطع میں نصاریٰ ہو، تمدن میں ہندو ہو۔ یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر یہود شرمائیں ؟

یوں تو تم سید ہو، مرزا ہو، افغان ہو۔ تم سب کچھ ہو، بتاؤ مسلمان بھی ہو ؟

سبق

یہ بند مسلمانوں کی شناخت کے بحران کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کی وضع قطع، تہذیب، تمدن سب غیروں جیسا ہو گیا۔ پھر ان میں اور غیرمسلموں میں کیا فرق رہ گیا؟

اقبال نے زوردار طنز کیا ہے کہ تمہارے پاس تو بہت سے القابات ہیں: سید، مرزا، افغان۔ لیکن کیا تم میں مسلمان ہونے کی صفت باقی ہے؟

بند نمبر 18 ماضی کا مسلمان

اشعار

دمِ تقریر تھی مسلم کی صداقت بے باک
عدل اس کا تھا قوی، لوثِ مراعات سے پاک

شجرِ فطرتِ مسلم تھا حیا سے نم ناک
تھا شجاعت میں وہ اک ہستیِ فوق الادراک

خود گدازی نمِ کیفیّت صہبایش بود
خالی از خویش شدن صورتِ مینایش بود

تشریح

یہ بند ماضی کے مسلمان کی صفات بیان کرتا ہے۔ اس کی تقریر میں صداقت بے باک تھی۔ اس کا عدل قوی تھا اور مراعات کے دھبے سے پاک تھا ۔

مسلمان کی فطرت کا درخت حیاء سے نم ناک تھا۔ شجاعت میں وہ ایک ایسی ہستی تھی جو سمجھ سے بالا تھی ۔

وہ اپنی کیفیت کی نم سے خود کو جلا دیتا تھا۔ اپنے آپ سے خالی ہو جانا اس کی آرائش تھی ۔

سبق

یہ بند ماضی کے مسلمان کا خوبصورت خاکہ ہے۔ وہ سچا، عادل، باحیاء اور بہادر تھا۔ اس کی سب سے بڑی صفت یہ تھی کہ وہ خدا کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دیتا تھا۔

"خالی از خویش شدن" یعنی اپنی ذات سے خالی ہو جانا، یہی اس کی زینت تھی۔ وہ انا سے پاک تھا، صرف خدا کی رضا چاہتا تھا۔

بند نمبر 19 عمل کی اہمیت

اشعار

ہر مسلماں رگِ باطل کے لیے نشتر تھا
اس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھا

جو بھروسا تھا اسے قوّتِ بازو پر تھا
ہے تمہیں موت کا ڈر، اس کو خدا کا ڈر تھا

باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
پھر پسر قابلِ میراثِ پدر کیونکر ہو

تشریح

آخری بند میں اللہ فرماتا ہے کہ ہر مسلمان باطل کی رگ کے لیے نشتر تھا (یعنی باطل کو ختم کرنے والا)۔ اس کے وجود کے آئینے میں عمل جوہر تھا ۔

اسے اپنی قوت بازو پر بھروسا تھا۔ تمہیں موت کا ڈر ہے، اسے خدا کا ڈر تھا ۔

اگر بیٹے کو باپ کا علم ازبر نہ ہو (یعنی یاد نہ ہو)، تو پھر بیٹا باپ کی میراث کا حقدار کیسے ہو سکتا ہے ؟

سبق
یہ آخری بند نظم کا نتیجہ ہے۔ اللہ نے واضح کر دیا کہ مسلمانوں کا زوال ان کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اپنے اسلاف کی تعلیمات کو بھلا دیا، ان کے اخلاق و کردار کو ترک کر دیا، تو وہ ان کی میراث کے حقدار کیسے ہو سکتے ہیں؟

اقبال نے خبردار کیا کہ محض نسب کی بنیاد پر کوئی مسلمان نہیں ہو جات۔ عمل درکار ہے، کردار درکار ہے، قوت بازو درکار ہے۔

مجموعی جائزہ اور اسباق

"جواب شکوہ" علامہ اقبال کا وہ شاہکار ہے جس نے "شکوہ" میں اٹھائے گئے سوالات کے مدلل جوابات دیے۔ اس نظم میں اللہ تعالیٰ خود بولتے ہیں اور مسلمانوں کو ان کی کمزوریوں سے آگاہ کرتے ہیں ۔

اس نظم کے اہم اسباق

1. عمل کی اہمیت

2.  محض دعوؤں سے کچھ نہیں ہوتا۔ عمل درکار ہے۔ مسلمانوں کا زوال ان کے اعمال کا نتیجہ ہے ۔

2. اتحاد کی ضرورت مسلمانوں کا نبی ایک، دین ایک، قرآن ایک، لیکن وہ خود متحد نہیں۔ یہی ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے ۔

3. اسلاف کی پیروی

4.  مسلمانوں نے اپنے اسلاف کے طریقے چھوڑ دیے اور غیروں کی تقلید شروع کر دی۔ یہی زوال کا باعث بنا ۔

4. غریبوں کی اہمیت

5.  امیر لوگ دولت کے نشے میں غافل ہو گئے، لیکن غریب اپنی سادگی میں دین کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔

5. روحانیت کا فقدان

6.  ظاہری رسوم تو باقی ہیں، لیکن ان میں روح نہیں رہی۔ اذان ہے مگر بلالؓ کا اثر نہیں، فلسفہ ہے مگر غزالی کا سوز نہیں ۔

6. شناخت کا بحران مسلمانوں کی وضع قطع اور تمدن غیروں جیسا ہو گیا۔ اب ان میں اور غیروں میں کیا فرق رہ گیا؟

7. وراثت کا حق


8.  محض نسب کی بنیاد پر کوئی اسلاف کا وارث نہیں بن سکتا۔ عمل درکار ہے ۔

حاصلِ کلام

"جواب شکوہ" صرف ایک نظم نہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے ایک آئینہ ہے۔ اقبال نے اس نظم میں مسلمانوں کی تمام کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے اور انہیں بتایا ہے کہ ان کا زوال ان کے اپنے ہاتھوں ہے ۔

یہ نظم مایوسی کی بجائے امید پیدا کرتی ہے۔ اگر مسلمان اپنی کمزوریوں کو دور کر لیں، اپنے اسلاف کی راہ پر چلیں، اتحاد کو اپنائیں، اور عمل کو اپنا شعار بنائیں، تو اللہ کی رحمتیں پھر سے نازل ہو سکتی ہیں ۔

اقبال کا پیغام آج بھی اتنا ہی متعلقہ ہے جتنا 1913ء میں تھا۔ آج کے مسلمان بھی انہی مسائل میں مبتلا ہیں: فرقہ بندی، مغرب زدگی، عمل کی کمی، اور شناخت کا بحران۔

"جواب شکوہ" ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ اٹھو، اپنی غفلت سے بیدار ہو، اور دیکھو کہ تم کہاں کھڑے ہو اور تمہیں کہاں جانا ہے۔

حوالہ جات

1. اقبال اردو بلاگ - جواب شکوہ

2. علامہ اقبال کنکورڈنس - جواب شکوہ

3. فیس بک - پیام اقبال

4. اقبال اردو بلاگ - جواب شکوہ تشریح

5. کتاب و سنت ڈاٹ کام - شکوہ جواب شکوہ مع ترجمہ و تشریح

6. فیس بک - Lovers Of Allama Iqba

l

 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

داستان گو

ہم اردو زبان کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں ۔ آپ اسے اور بہتر بنانے کے لئے مشورہ دیں۔ کیوں کہ آپ کا مشورہ ہمارے لئے انتہائی اہم ہے۔