علامہ اقبال کی نظم "شکوہ" (مکمل متن)

0 Admin


تحقیق و ترتیب : عمر مختار رند 

مکمل متنِ نظم "شکوہ"

شاعر: علامہ محمد اقبال

(مجموعہ: بانگِ درا)

کیوں زیاں کار بنوں، سُود فراموش رہوں

فکرِ فردا نہ کروں، محوِ غمِ دوش رہوں

نالے بلبل کے سُنوں اور ہمہ تن گوش رہوں

ہم نوا میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں

جُرأت آموز مری تابِ سخن ہے مجھ کو

شکوہ اللہ سے، خاکم بہ دہن ہے مجھ کو


ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم

قصّۂ درد سُناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

سازِ خاموش میں، فریاد سے معمور ہیں ہم

نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم

اے خدا! شکوۂ اربابِ وفا بھی سُن لے

خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گِله بھی سُن لے


تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذاتِ قدیم

پھول تھا زیبِ چمن پر نہ پریشان تھی شمیم

شرطِ انصاف ہے اے صاحبِ الطافِ عمیم

بوئے گُل پھیلتی کس طرح جو نہ ہوتی نسیم

ہم کو جمعیّتِ خاطر یہ پریشانی تھی

ورنہ امّت تیرے محبوبؐ کی دیوانی تھی


ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظر

کہیں مسجود تھے پتھر، کہیں معبود شجر

خوگرِ پیکرِ محسوس تھی انساں کی نظر

مانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکر؟

تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا؟

قوتِ بازوئے مسلم نے کیا کام ترا


بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی، تُورانی بھی

اہلِ چیں چین میں، ایران میں ساسانی بھی

اسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھی

اسی دنیا میں یہودی بھی تھے، نصرانی بھی

پر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نے؟

بات جو بگڑی ہوئی تھی، وہ بنائی کس نے؟


تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں

خشکیوں میں کبھی لڑتے، کبھی دریاؤں میں

دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں

کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں

شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاں داروں کی

کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی


ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیے

اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیے

تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیے

سر بکف پھرتے تھے کیا، کیا دہر میں دولت کے لیے؟

قوم اپنی جو زر و مالِ جہاں پر مرتی

بُت فروشی کے عوض بُت شکنی کیوں کرتی؟


ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے

پاؤں شیر کے بھی میداں سے اُکھڑ جاتے تھے

تجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے

تیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھے

نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے

زیرِ خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے


تُو ہی کہہ دے کہ اُکھاڑا درِ خیبر کس نے؟

شہر قیصر کا جو تھا، اُس کو کیا سر کس نے؟

توڑے مخلوقِ خداوندوں کے پیکر کس نے؟

کاٹ کے رکھ دیے کفّار کے لشکر کس نے؟

کس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کو؟

کس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کو؟


کون سی قوم فقط تیری طلبگار ہوئی؟

اور تیرے لیے زحمت کشِ پیکار ہوئی؟

کس کی شمشیر جہاں گیر، جہاں دار ہوئی؟

کس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئی؟

کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے؟

مُنہ کے بل گر کے "ھُو اللہُ اَحَد" کہتے تھے؟


آگیا عین لڑائی میں اگر وقتِ نماز

قبلہ رُو ہو کے زمیں بوس ہوئی قومِ حجاز

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز

نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے

تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے


محفلِ کون و مکاں میں سحر و شام پھرے

مئے توحید کو لے کر صفتِ جام پھرے

کوہ میں، دشت میں لے کر ترا پیغام پھرے

اور معلوم ہے تجھ کو، کبھی ناکام پھرے؟

دشت تو دشت ہیں، دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے

بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے


صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نے

نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے

تیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نے

تیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نے

پھر بھی ہم سے یہ گِلا ہے کہ وفادار نہیں

ہم وفادار نہیں، تُو بھی تو دلدار نہیں!


اُمتیں اور بھی ہیں، اُن میں گناہگار بھی ہیں

عجز والے بھی ہیں، مستِ مئے پندار بھی ہیں

ان میں کاہل بھی ہیں، غافل بھی ہیں، ہشیار بھی ہیں

سینکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیں

رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر

برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر


بُت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلماں گئے

ہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے

منزلِ دہر سے اونٹوں کے حدی خواں گئے

اپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئے

خندہ زن ہے کُفر، احساس تجھے ہے کہ نہیں؟

اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں؟


یہ شکایت نہیں، ہیں اُن کے خزانے معمور

نہیں محفل میں جنھیں بات بھی کرنے کا شعور

قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حُور و قصور

اور بیچارے مسلماں کو فقط وعدۂ حور

اب وہ الطاف نہیں، ہم پہ عنایات نہیں

بات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیں


کیوں مسلماں میں ہے دولتِ دنیا نایاب؟

تیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حساب

تُو جو چاہے تو اُٹھے سینۂ صحرا سے حباب

رہروِ دشت ہو سیلی زدۂ موجِ سراب

طعنِ اغیار ہے، رسوائی ہے، ناداری ہے

کیا تیرے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے؟


بنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیا

رہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیا

ہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیا

پھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیا

ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں تیرا نام رہے

کہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے، جام رہے؟


تیری محفل بھی گئی، چاہنے والے بھی گئے

شب کی آہیں بھی گئیں، صبح کے نالے بھی گئے

دل تجھے دے بھی گئے، اپنی صلا لے بھی گئے

آ کے بیٹھے بھی نہ تھے کہ نکالے بھی گئے

آئے عشّاق، گئے وعدۂ فردا لے کر

اب انہیں ڈھونڈ چلے جنتِ اعلیٰ لے کر


اپنی عظمت کا جہاں میں ہے یہی افسانہ

کہ ترے دلنشیں بیٹھے ہیں ترے خانہ

برگ گل اُڑتا ہے زنجیر سے پروانہ

اے مسلماں! ترا انداز ہے دیوانہ

ہو گا ناتواں تجھ سے جبیں سائی کا

اب تو بت خانہ پناہِ مسلماں ہونا


(ماخوذ از: ویکی ماخذ  اور انیس الرحمن بلاگ )

نظم "شکوہ" کی تشریح اور اس میں موجود اسباق

تعارف

"شکوہ" علامہ اقبال کی وہ شاہکار نظم ہے جس نے اردو شاعری میں ایک نئی روایت قائم کی۔ یہ نظم 1911ء میں انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں پڑھی گئی اور اس نے علمی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا ۔ اس نظم میں اقبال نے پہلی بار روایتی انداز سے ہٹ کر اللہ تعالیٰ سے شکوہ کیا ہے کہ مسلمانوں نے دین کی خدمت میں جو قربانیاں دیں، ان کے باوجود وہ زوال کا شکار کیوں ہیں؟

یہ نظم دراصل مسلمانوں کی اجتماعی آواز ہے جو اللہ سے سوال کرتی ہے کہ ہماری کوتاہی کیا ہے؟ اقبال نے اس نظم میں مسلمانوں کے عروج و زوال کے اسباب پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ آئیے، بند بند کر کے اس نظم کو سمجھتے ہیں۔

پہلا بند: شکوہ کی ابتدا

اشعار

کیوں زیاں کار بنوں، سُود فراموش رہوں

فکرِ فردا نہ کروں، محوِ غمِ دوش رہوں

نالے بلبل کے سُنوں اور ہمہ تن گوش رہوں

ہم نوا میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں

جُرأت آموز مری تابِ سخن ہے مجھ کو

شکوہ اللہ سے، خاکم بہ دہن ہے مجھ کو

تشریح

اس بند میں اقبال مسلمانوں کی طرف سے بول رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں کیوں اپنا نقصان خود کروں؟ کیوں فائدے سے غافل رہوں؟ کیوں مستقبل کی فکر نہ کروں اور صرف ماضی کے غم میں کھویا رہوں؟ 

بلبل جب پھول کے پاس آ کر رونے لگتی ہے تو پھول خاموش رہتا ہے۔ کیا میں بھی اس پھول کی طرح ہوں جو بلبل کی فریاد سن کر خاموش رہے؟ کیا مجھے اپنی قوم کی پریشانیوں کا احساس نہیں؟

اقبال کہتے ہیں کہ اللہ نے مجھے بولنے کی طاقت دی ہے، یہی طاقت مجھے جرات دیتی ہے کہ میں اپنا شکوہ پیش کروں۔ ورنہ میرے منہ میں خاک، میں کون ہوتا اللہ سے شکوہ کرنے والا ۔

سبق

اس بند میں اقبال نے مسلمانوں کو بے حسی سے نکالنے کا پیغام دیا ہے۔ جب تک قوم کے افراد اپنے معاشرے کے مسائل پر خاموش رہیں گے، حالات نہیں بدلیں گے۔ احساسِ غم اور دردِ دل ہی وہ محرک ہیں جو قوموں کو بیدار کرتے ہیں۔

دوسرا بند: عاجزی کا حلیف

اشعار

ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم

قصّۂ درد سُناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

سازِ خاموش میں، فریاد سے معمور ہیں ہم

نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم

اے خدا! شکوۂ اربابِ وفا بھی سُن لے

خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گِله بھی سُن لے

تشریح

اقبال کہتے ہیں کہ ہم مسلمان تو اطاعت اور تسلیم میں مشہور ہیں۔ ہم اپنے درد کا قصہ اس لیے سناتے ہیں کہ ہم مجبور ہیں۔ جیسے کوئی خاموش ساز ہوتا ہے مگر اس کے اندر فریاد بھری ہوتی ہے، ویسے ہی ہمارے دل میں بھی بہت کچھ ہے۔ اگر کبھی زبان پر شکوہ آ بھی جائے تو معاف کرنا ۔

اے خدا! وفادار بندوں کا شکوہ بھی سن لے۔ تو حمد و ثنا کا عادی ہے، لیکن تھوڑا سا گلہ بھی سن لے۔

سبق

یہ بند انسان اور خدا کے اس رشتے کی عکاسی کرتا ہے جس میں بندہ اپنے محبوب سے شکوہ بھی کر سکتا ہے۔ یہ اعلیٰ درجے کا قرب ہے کہ بندہ خدا سے اس طرح بے تکلف ہو کر بات کرے۔ اقبال نے یہ باور کرایا کہ خدا صرف حمد ہی نہیں، بندے کا گلہ بھی سنتا ہے۔

 تیسرا بند: انصاف کا تقاضا

اشعار

تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذاتِ قدیم

پھول تھا زیبِ چمن پر نہ پریشان تھی شمیم

شرطِ انصاف ہے اے صاحبِ الطافِ عمیم

بوئے گُل پھیلتی کس طرح جو نہ ہوتی نسیم

ہم کو جمعیّتِ خاطر یہ پریشانی تھی

ورنہ امّت تیرے محبوبؐ کی دیوانی تھی

تشریح

اے اللہ! تو ازل سے موجود ہے۔ جیسے پھول چمن میں ہوتا ہے مگر اس کی خوشبو نہیں پھیلتی، ویسے ہی تیرے کمالات تھے مگر ان کا ظہور نہیں ہوا تھا۔ پھول کی خوشبو پھیلانے کے لیے ہوا ضروری ہے۔

اقبال کہتے ہیں کہ ہمیں یہ پریشانی تھی کہ تیرے کمالات کیسے ظاہر ہوں۔ ورنہ ہم تو تیرے محبوبؐ کی امت ہیں اور انہی کی دیوانگی میں مبتلا ہیں ۔

سبق

اس بند میں اقبال نے مسلمانوں کو پیغمبر اسلام ﷺ کی امت ہونے کا فخر دلایا ہے۔ یہ فخر کوئی دعویٰ نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ مسلمان ہونے کا مطلب ہے نبی ﷺ کی تعلیمات کو اپنا نصب العین بنانا اور انہیں دنیا میں پھیلانا۔

چوتھا بند: شرک کا عالمی دور

اشعار

ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظر

کہیں مسجود تھے پتھر، کہیں معبود شجر

خوگرِ پیکرِ محسوس تھی انساں کی نظر

مانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکر؟

تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا؟

قوتِ بازوئے مسلم نے کیا کام ترا

تشریح

اقبال کہتے ہیں کہ ہم سے پہلے دنیا کا منظر عجیب تھا۔ کہیں پتھروں کو سجدہ کیا جاتا تھا، کہیں درخت پوجے جاتے تھے۔ انسان محسوس چیزوں کا عادی تھا، تو وہ کس طرح ان دیکھے خدا کو مانتا؟ 

اے اللہ! تجھے معلوم ہے، اس دور میں کوئی تیرا نام لینے والا تھا؟ مسلمانوں کے بازوؤں کی قوت نے تیرا نام روشن کیا۔

سبق

یہ بند توحید کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اسلام سے پہلے پوری دنیا شرک میں مبتلا تھی۔ مسلمانوں نے اس شرک کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور توحید کا پیغام پھیلایا۔ یہ مسلمانوں کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔

پانچواں بند: مختلف اقوام

اشعار

بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی، تُورانی بھی

اہلِ چیں چین میں، ایران میں ساسانی بھی

اسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھی

اسی دنیا میں یہودی بھی تھے، نصرانی بھی

پر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نے؟

بات جو بگڑی ہوئی تھی، وہ بنائی کس نے؟

تشریح

اس دنیا میں بہت سی قومیں آباد تھیں۔ سلجوقی، ترک، چینی، ایرانی، یونانی، یہودی اور عیسائی سب موجود تھے۔ لیکن بتا، تیرے نام پر تلوار کس نے اٹھائی؟ دنیا کی بگڑی ہوئی بات کو کس نے سنوارا؟ 

سبق

تاریخ گواہ ہے کہ مختلف قومیں آئیں اور گئیں، مگر کسی نے خدا کے دین کے لیے اس طرح جاں نثاری نہیں کی جیسے مسلمانوں نے کی۔ یہ مسلمانوں کا امتیاز ہے کہ انہوں نے محض خدا کی رضا کے لیے جنگیں لڑیں، قربانیاں دیں اور دنیا کو نیا راستہ دیا۔

چھٹا بند: جہاد فی سبیل اللہ

اشعار

تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں

خشکیوں میں کبھی لڑتے، کبھی دریاؤں میں

دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں

کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں

شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاں داروں کی

کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی

تشریح

ہم تیری جنگوں میں شریک تھے۔ کبھی خشکی پر لڑے، کبھی سمندروں میں۔ کبھی یورپ کے گرجا گھروں میں اذانیں دیں، کبھی افریقہ کے تپتے صحراؤں میں تیرا پیغام پہنچایا۔

دنیا کے بڑے بڑے حکمرانوں کی شان ہمیں کچھ نہیں لگتی تھی۔ ہم تلواروں کے سائے میں کلمہ پڑھتے تھے ۔

سبق

مسلمانوں نے اسلام کو صرف عرب تک محدود نہیں رکھا بلکہ تین براعظموں میں اس کا پیغام پھیلایا۔ یہ بند مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی یاد دلاتا ہے اور انہیں بتاتا ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد کا مشن کیا تھا۔

 ساتواں بند: جاں نثاری کی انتہا

اشعار

ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیے

اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیے

تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیے

سر بکف پھرتے تھے کیا، کیا دہر میں دولت کے لیے؟

قوم اپنی جو زر و مالِ جہاں پر مرتی

بُت فروشی کے عوض بُت شکنی کیوں کرتی؟

تشریح

ہم جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبتوں کے لیے، اور مرتے تھے تیرے نام کی عظمت کے لیے۔ ہم تلوار نہیں چلاتے تھے اپنی حکومت کے لیے۔ کیا ہم دولت کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر پھرتے تھے؟

ہماری قوم تو دنیا کے زر و مال پر مرتی ہے (یعنی ان کی قدر نہیں کرتی)، تو پھر ہم بت فروشی (بتوں کو بیچنے) کے بدلے بت شکنی کیوں کرتے؟ یعنی ہمیں دنیا سے کوئی غرض نہیں ۔

سبق

مسلمانوں کی جنگ دنیا حاصل کرنے کے لیے نہیں تھی۔ ان کا مقصد محض خدا کا کلمہ بلند کرنا تھا۔ یہ بند ہمیں بتاتا ہے کہ مسلمان کا مشن دنیا نہیں، دین ہے۔

آٹھواں بند: میدانِ جنگ میں

اشعار

ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے

پاؤں شیر کے بھی میداں سے اُکھڑ جاتے تھے

تجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے

تیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھے

نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے

زیرِ خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے

تشریح

ہم جنگ میں جم جاتے تھے، پھر ٹلتے نہیں تھے۔ شیروں کے بھی پاؤں میدان سے اکھڑ جاتے تھے (یعنی وہ بھی ہم سے ہار جاتے تھے)۔ جو بھی تجھ سے سرکشی کرتا، ہم اس پر بگڑ جاتے تھے۔ تلوار کیا چیز ہے، ہم توپوں سے لڑ جاتے تھے۔

ہم نے توحید کا نقش ہر دل پر بٹھایا اور تلوار کے نیچے بھی یہی پیغام سنایا ۔

سبق

مسلمان حق کے لیے اس طرح لڑے جیسے کوئی جاننے والا لڑتا ہے۔ ان کا مقصد محض دشمن کو زیر کرنا نہیں، بلکہ حق کا پیغام پہنچانا تھا۔

 نواں بند: کارنامے

اشعار

تُو ہی کہہ دے کہ اُکھاڑا درِ خیبر کس نے؟

شہر قیصر کا جو تھا، اُس کو کیا سر کس نے؟

توڑے مخلوقِ خداوندوں کے پیکر کس نے؟

کاٹ کے رکھ دیے کفّار کے لشکر کس نے؟

کس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کو؟

کس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کو؟

تشریح

اقبال مسلمانوں کی تاریخی فتوحات کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں: بتا، درِ خیبر کس نے اکھاڑا؟ قیصر کے شہر کا سر کس نے کیا؟ (یعنی فتح کیا)۔ خدا کے سوا معبودوں کے بت کس نے توڑے؟ کافروں کے لشکر کس نے کاٹ کر رکھ دیے؟

ایران کے آتش کدے کس نے ٹھنڈے کیے؟ خدا کا ذکر کس نے پھر زندہ کیا؟ ۔

سبق

یہ بند اسلامی تاریخ کے سنہری دور کی عکاسی کرتا ہے۔ خیبر کی فتح، رومی سلطنت پر فتح، ایران میں اسلام کی اشاعت، یہ سب مسلمانوں کے کارنامے ہیں۔

دسواں بند: امتیاز

اشعار

کون سی قوم فقط تیری طلبگار ہوئی؟

اور تیرے لیے زحمت کشِ پیکار ہوئی؟

کس کی شمشیر جہاں گیر، جہاں دار ہوئی؟

کس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئی؟

کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے؟

مُنہ کے بل گر کے "ھُو اللہُ اَحَد" کہتے تھے؟

تشریح

کون سی قوم تیری طلبگار ہوئی اور تیرے لیے جنگیں لڑی؟ کس کی تلوار دنیا گیر اور جہاں دار ہوئی؟ کس کی تکبیر سے دنیا تیرے لیے بیدار ہوئی؟ 

کس کی ہیبت سے بت سہمے ہوئے رہتے تھے اور منہ کے بل گر کر "ھو اللہ احد" کہتے تھے؟

سبق

اسلام نے بت پرستی کا خاتمہ کیا اور توحید کو فروغ دیا۔ مسلمانوں کی ہیبت سے بتوں کے پجاری بھی خدا کو ماننے لگے۔

گیارھواں بند: نماز کی پابندی

اشعار

آگیا عین لڑائی میں اگر وقتِ نماز

قبلہ رُو ہو کے زمیں بوس ہوئی قومِ حجاز

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز

نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے

تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے


تشریح

لڑائی کے دوران اگر نماز کا وقت آ جاتا تو قومِ حجاز (مسلمان) قبلہ رخ ہو کر زمین بوس ہو جاتے۔ محمود اور ایاز (بادشاہ اور غلام) ایک صف میں کھڑے ہو جاتے۔ نہ کوئی بندہ رہتا، نہ کوئی آقا۔ غلام، مالک، محتاج، امیر سب ایک ہو جاتے ۔

سبق

اسلام میں کوئی تفریق نہیں۔ بادشاہ اور غلام ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کی عظمت ہے کہ وہ اللہ کے سامنے یکساں ہیں۔

بارھواں بند: تبلیغِ اسلام

اشعار

محفلِ کون و مکاں میں سحر و شام پھرے

مئے توحید کو لے کر صفتِ جام پھرے

کوہ میں، دشت میں لے کر ترا پیغام پھرے

اور معلوم ہے تجھ کو، کبھی ناکام پھرے؟

دشت تو دشت ہیں، دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے

بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے

تشریح

ہم کائنات کی محفل میں صبح و شام پھرتے رہے، توحید کی شراب لے کر پھرتے رہے۔ پہاڑوں میں، صحراؤں میں تیرا پیغام لے کر پھرتے رہے۔ اور تجھے معلوم ہے، کبھی ناکام نہیں پھرے۔

صحرا تو صحرا ہیں، دریا بھی نہیں چھوڑے ہم نے۔ تاریک سمندروں میں گھوڑے دوڑا دیے ۔

سبق

مسلمانوں نے اسلام کی تبلیغ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ خشکی و تری، پہاڑ و صحرا، ہر جگہ ان کا پیغام پہنچا۔

تیرھواں بند: وفاداری کا صلہ

اشعار

صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نے

نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے

تیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نے

تیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نے

پھر بھی ہم سے یہ گِلا ہے کہ وفادار نہیں

ہم وفادار نہیں، تُو بھی تو دلدار نہیں!

تشریح

ہم نے دنیا سے باطل کو مٹایا، انسان کو غلامی سے آزاد کرایا۔ تیرے کعبے کو پیشانیوں سے آباد کیا، تیرے قرآن کو سینوں سے لگایا۔ پھر بھی ہم سے شکایت ہے کہ وفادار نہیں۔ اگر ہم وفادار نہیں، تو تو بھی تو دلدار نہیں (یعنی ہماری طرف توجہ نہیں کرتا) ۔

سبق

یہ بند نظم کا مرکزی نکتہ ہے۔ اقبال مسلمانوں کی خدمات گنواتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ پھر مسلمان زوال کا شکار کیوں ہیں؟ یہ سوال آج بھی اسی طرح اہم ہے۔

 چودھواں بند: غیروں پر عنایت 

اشعار

اُمتیں اور بھی ہیں، اُن میں گناہگار بھی ہیں

عجز والے بھی ہیں، مستِ مئے پندار بھی ہیں

ان میں کاہل بھی ہیں، غافل بھی ہیں، ہشیار بھی ہیں

سینکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیں

رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر

برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر

تشریح

دنیا میں اور بھی امتیں ہیں، ان میں گناہگار بھی، عاجز بھی، مغرور بھی، کاہل بھی، غافل بھی، ہوشیار بھی۔ سینکڑوں ایسے ہیں جو تیرے نام سے بیزار ہیں۔ لیکن تیری رحمتیں غیروں کے گھروں پر برس رہی ہیں، اور بجلی (عذاب) مسلمانوں پر گرتی ہے ۔

سبق

یہاں اقبال نے مسلمانوں کی پریشانی کا اظہار کیا ہے کہ غیر مسلم ترقی کر رہے ہیں اور مسلمان زوال کا شکار ہیں۔

پندرھواں بند: کفر کی خوشی

اشعار

بُت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلماں گئے

ہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے

منزلِ دہر سے اونٹوں کے حدی خواں گئے

اپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئے

خندہ زن ہے کُفر، احساس تجھے ہے کہ نہیں؟

اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں؟

تشریح

بت خانوں میں کافر کہتے ہیں کہ مسلمان چلے گئے۔ انہیں خوشی ہے کہ کعبے کے نگہبان چلے گئے۔ دنیا سے وہ لوگ چلے گئے جو اونٹوں پر سوار ہو کر حدیں پھاندتے تھے، جو اپنی بغلوں میں قرآن دبائے پھرتے تھے۔ کفر ہنس رہا ہے، تجھے احساس ہے؟ اپنی توحید کا کچھ پاس ہے؟ ۔

سبق

مسلمانوں کے زوال سے کفار خوش ہیں۔ یہ بند مسلمانوں کو جھنجھوڑتا ہے کہ اٹھو، ورنہ تمہاری توحید کا نشان مٹ جائے گا۔

سولھواں بند: کافروں پر انعام

اشعار

یہ شکایت نہیں، ہیں اُن کے خزانے معمور

نہیں محفل میں جنھیں بات بھی کرنے کا شعور

قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حُور و قصور

اور بیچارے مسلماں کو فقط وعدۂ حور

اب وہ الطاف نہیں، ہم پہ عنایات نہیں

بات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیں

تشریح

یہ شکایت نہیں کہ کافروں کے خزانے بھرے ہیں، حالانکہ انہیں بات کرنے کا شعور تک نہیں۔ قہر تو یہ ہے کہ کافر کو حور و قصور مل رہے ہیں اور مسلمان کو صرف حور کا وعدہ۔ اب وہ الطاف نہیں، عنایات نہیں۔ بات کیا ہے کہ پہلی سی محبت نہیں؟ ۔

سبق

یہاں اقبال نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ لیکن یاد رہے، یہ شکوہ ہے، اعتراض نہیں۔ اقبال جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی حالت ان کے اپنے اعمال کی وجہ سے ہے۔

سترھواں بند: دولت کی عدم موجودگی

اشعار

کیوں مسلماں میں ہے دولتِ دنیا نایاب؟

تیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حساب

تُو جو چاہے تو اُٹھے سینۂ صحرا سے حباب

رہروِ دشت ہو سیلی زدۂ موجِ سراب

طعنِ اغیار ہے، رسوائی ہے، ناداری ہے

کیا تیرے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے؟

تشریح

مسلمانوں میں دنیا کی دولت کیوں نایاب ہے؟ تیری قدرت کی کوئی حد نہیں۔ تو چاہے تو صحرا کے سینے سے پانی کے بلبلے اٹھا دے۔ صحرا نورد سراب کی لہروں میں ڈوب جائے۔ غیروں کے طعنے ہیں، رسوائی ہے، غربت ہے۔ کیا تیرے نام پر مرنے کا بدلہ ذلت ہے؟ ۔

سبق

اقبال نے معاشی زوال کا ذکر کیا ہے۔ مسلمان غریب کیوں ہیں؟ یہ سوال آج بھی اہم ہے۔

اٹھارھواں بند: خیالی دنیا

اشعار

بنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیا

رہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیا

ہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیا

پھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیا

ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں تیرا نام رہے

کہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے، جام رہے؟

تشریح

دنیا تو اب اغیار کی ہو گئی، ہمارے لیے ایک خیالی دنیا رہ گئی۔ ہم چلے گئے، اوروں نے دنیا سنبھال لی۔ پھر یہ نہ کہنا کہ دنیا توحید سے خالی ہو گئی۔ ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں تیرا نام رہے۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے مگر جام رہے؟ 

سبق

یہ بند بہت اہم ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر مسلمان نہ رہے تو توحید کا نام بھی نہیں رہے گا۔ جیسے ساقی کے بغیر جام بے معنی ہے۔

انیسواں بند: مایوس کن انجام

اشعار 

تیری محفل بھی گئی، چاہنے والے بھی گئے

شب کی آہیں بھی گئیں، صبح کے نالے بھی گئے

دل تجھے دے بھی گئے، اپنی صلا لے بھی گئے

آ کے بیٹھے بھی نہ تھے کہ نکالے بھی گئے

آئے عشّاق، گئے وعدۂ فردا لے کر

اب انہیں ڈھونڈ چلے جنتِ اعلیٰ لے کر

تشریح

تیری محفل بھی گئی، چاہنے والے بھی گئے۔ رات کی آہیں بھی گئیں، صبح کی فریادیں بھی گئیں۔ دل دے کر چلے گئے، اپنا صلہ لے کر چلے گئے۔ آ کر بیٹھے بھی نہ تھے کہ نکال دیے گئے۔ عاشق آئے اور کل کا وعدہ لے کر چلے گئے۔ اب انہیں تلاش کرو جو جنتِ اعلیٰ لے کر گئے ۔

سبق

یہ بند مایوسی کی انتہا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ عاشقِ رسول ﷺ تو چلے گئے، اب ان جیسا کوئی نہیں۔

بیسواں بند: انجام

اشعار

اپنی عظمت کا جہاں میں ہے یہی افسانہ

کہ ترے دلنشیں بیٹھے ہیں ترے خانہ

برگ گل اڑتا ہے زنجیر سے پروانہ

اے مسلماں! ترا انداز ہے دیوانہ

ہو گا ناتواں تجھ سے جبیں سائی کا

اب تو بت خانہ پناہِ مسلماں ہونا

تشریح

دنیا میں تیری عظمت کا یہی افسانہ ہے کہ تیرے دلنشین تیرے گھر میں بیٹھے ہیں (یعنی مسلمان کمزور ہو کر اپنے گھروں میں بیٹھ گئے)۔ پھول کی پنکھڑی اڑتی ہے اور پروانہ زنجیر سے بندھا ہے۔ اے مسلمان! تیرا انداز دیوانہ ہے۔ تجھ سے سجدہ کرنا بھی نہ ہو سکے گا۔ اب تو بت خانہ مسلمانوں کی پناہ گاہ بن گیا ہے ۔

سبق

آخری بند میں اقبال نے مسلمانوں کی المناک صورت حال بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلمان اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ سجدہ بھی نہیں کر سکتا۔ یہ بند ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔

حاصلِ کلام 

"شکوہ" علامہ اقبال کی وہ نظم ہے جو مسلمانوں کے عروج و زوال کی داستان ہے۔ اس نظم میں اقبال نے مسلمانوں کی تاریخی خدمات کا ذکر کیا اور پھر سوال کیا کہ ان خدمات کے باوجود مسلمان آج زوال کا شکار کیوں ہیں؟

یہ نظم دراصل مسلمانوں کے لیے ایک بیداری کا پیغام ہے۔ اقبال نے اس نظم میں مسلمانوں کی کمزوریوں کی نشاندہی کی اور انہیں بتایا کہ ان کا مقصد کیا ہے۔

"شکوہ" کا اصل پیغام یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے عروج کے اسباب کو سمجھنا چاہیے اور ان پر عمل کرنا چاہیے۔ یہ نظم مایوسی کی بجائے امید پیدا کرتی ہے کہ اگر مسلمان دوبارہ اپنے آباؤ اجداد کی راہ پر چلیں تو اللہ کی مدد ان کے ساتھ ہے ۔

اقبال نے بعد میں "جواب شکوہ" لکھ کر اس کا جواب دیا جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کو بتایا گیا کہ تمہارا زوال تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے ۔

حوالہ جات

1. کتاب وسنت ڈاٹ کام - شکوہ جواب شکوہ مع ترجمہ و تشریح 

2. اقبال رہبر ڈاٹ کام - جواب شکوہ 

3. انیس الرحمن بلاگ - علامہ اقبال؛ شکوہ و جواب شکوہ 

4. وکی ماخذ - شکوہ 

5. اقبال اردو بلاگ - Explanation of Jawab-e-Shikwa 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

داستان گو

ہم اردو زبان کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں ۔ آپ اسے اور بہتر بنانے کے لئے مشورہ دیں۔ کیوں کہ آپ کا مشورہ ہمارے لئے انتہائی اہم ہے۔