علامہ اقبال کا کلام جب آپ نے مانگا تو دل خوش ہو گیا۔ اقبال کی شاعری میں نبی اکرم ﷺ کی محبت اور مسجد کی عظمت کو جس انداز میں بیان کیا گیا ہے، وہ واقعی بے مثال ہے۔ پیش ہے علامہ اقبال کے منتخب اشعار جو آپ کے ذوق کے مطابق ہیں:
🕌 مسجد اور بندگی کی حسرت
یہ مشہور شعر اقبال کی وہ آواز ہے جو ہر اس شخص کی ترجمانی کرتی ہے جو ایمان کی حرارت تو رکھتا ہے مگر اپنی کمزوریوں کو بھی محسوس کرتا ہے:
> مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
> من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
اس شعر کے ساتھ اقبال کے مزید اشعار بھی ہیں جو خود احتسابی سکھاتے ہیں:
> کیا خوب امیرِ فیصل کو سنوسی نے پیغام دیا
> تو نام و نسب کا حجازی ہے پر دل کا حجازی بن نہ سکا
> تر آنکھیں تو ہو جاتی ہیں پر کیا لذت اس رونے میں
> جب خونِ جگر کی آمیزش سے اشک پیازی بن نہ سکا
> اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
> گفتار کا یہ غازی تو بنا کردار کا غازی بن نہ سکا
💖 نبی اکرم ﷺ سے محبت کے اشعار
اقبال کا پورا کلام نبی اکرم ﷺ کی محبت سے معمور ہے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ
> سالارِ کارواں ہے میرِ حجازؐ اپنا
> اِس نام سے ہے باقی آرامِ جاں ہمارا
آپ ﷺ کی ذات گرامی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں:
> ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنّم بھی نہ ہو
> چمنِ دہر میں کلیوں کا تبسّم بھی نہ ہو
> یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو، خُم بھی نہ ہو
> بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو
> خیمہ افلاک کا اِستادہ اسی نام سے ہے
> نبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
اور اپنی مشہور نظم "لوح و قلم" میں فرماتے ہیں:
> لَوح بھی تُو , قلم بھی تُو ، تیرا وجود الکتاب
> گنبدِ آبگینہ رنگ ، تیرے محیط میں حباب
> عالم آب و خاک میں ، تیرے ظہور کا فروغ
> ذرہ ریگ کو دیا تُو نے طلوعِ آفتاب
> شوکتِ سنجر و سلیم ، تیرے جلال کی نمود
> فقرِ جنید و با یزید ، تیرا جمالِ بے نقاب
> شوق تیرا اگر نہ ھو ، میری نماز کا امام
> میرا قیام بھی حِجاب ، میرا سجود بھی حِجاب
📿 مسجد قرطبہ کے مشہور اشعار
اقبال کی طویل نظم "مسجد قرطبہ" ان کا شاہکار ہے جس میں مسجد کی عظمت اور عشق رسول ﷺ کو بیان کیا گیا ہے۔ اس نظم کے چند منتخب اشعار
> عشق ہے اصلِ حیات، موت ہے اس پر حرام
> عشق دمِ جبرئیل، عشق دلِ مصطفیٰؐ
> عشق خدا کا رسول، عشق خدا کا کلام
اور وہ مشہور شعر جو ہر مسلمان کی زبان پر ہے:
> کافرِ ہندی ہوں میں، دیکھ مرا ذوق و شوق
> دل میں صلوٰۃ و درود، لب پہ صلوٰۃ و درود
🔍 وضاحت
یہ اشعار علامہ اقبال کے مختلف مجموعہ ہائے کلام سے لیے گئے ہیں۔ "مسجد تو بنا دی" والے اشعار میں اقبال نے ایک ایسے شخص کی عکاسی کی ہے جو بڑی بڑی باتیں تو کرتا ہے مگر عمل میں کمزور ہے ۔ یہ اشعار دراصل اقبال کا وہ آئینہ ہیں جو وہ امت کے سامنے رکھتے ہیں۔
نعتیہ اشعار میں اقبال کا عقیدہ صاف جھلکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی ذات ہی اس کائنات کی روح ہے اور آپ ﷺ کا ذکر ہی دل کو سکون بخشتا ہے ۔
امید ہے یہ اشعار آپ کے ذوق کے مطابق ہوں گے۔ علامہ اقبال کا کلام سمندر کی مانند ہے، جتنا پڑھیں گے اتنا ہی مزہ آئے گا۔

