واخان کاریڈور، پاکستان کے لیے معدنی دولت کی راہداری یا نئے تنازعات کا دروازہ؟ (تحقیقی جائزہ)

0 Admin


تحقیق و ترتیب: عمر مختار رند

تعارف،  وہ پٹی جس نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی

پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں سے متصل ایک ایسا علاقہ جو صدیوں سے تاریخ کا خاموش تماشائی رہا، آج ایک بار پھر عالمی سیاست کی زینت بنا ہوا ہے۔ یہ ہے " واخان کاریڈور  " — افغانستان کے شمال مشرقی صوبہ بدخشاں میں واقع ایک تنگ اور لمبی پٹی، جو چین، تاجکستان اور پاکستان کے سنگم پر واقع ہے۔

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایسی خبروں کا طوفان آیا ہے کہ پاکستان اس تزویراتی راہداری پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ یہ افواہیں اس وقت مزید گرم ہوئیں جب دسمبر 2024 میں پاکستانی انٹیلیجنس افسر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے تاجکستان کا دورہ کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ " واخان کاریڈور ہے کیا، اس کی کیا اہمیت ہے، اور آخر یہ پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟ " کیا واقعی پاکستان اس پر قبضہ کر سکتا ہے؟ کیا یہ افغان طالبان کے لیے وارننگ ہے؟ ان سوالوں کے جوابات جاننے کے لیے ہمیں تاریخ کے اوراق پلٹنے ہوں گے اور موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتِ حال کا بغور جائزہ لینا ہوگا۔

واخان کاریڈور، تاریخ، جغرافیہ اور تشکیل

جغرافیائی حیثیت

واخان کاریڈور دراصل ایک " 350 کلومیٹر طویل اور 13 سے 65 کلومیٹر چوڑی پہاڑی پٹی " ہے۔ یہ افغانستان کے نقشے پر اس کے شمال مشرقی کونے سے نکلتی ہوئی ایک " چمنی نما " راہداری ہے جو افغانستان کو چین کے صوبے سنکیانگ سے ملاتی ہے۔ اس کی شمالی سرحد پر تاجکستان ہے جبکہ جنوبی سرحد پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان سے ملتی ہے۔

یہ علاقہ " ہندوکش اور پامیر کے پہاڑی سلسلوں " کے درمیان واقع ہے، جہاں نوشاخ کی چوٹی 7750 میٹر بلند ہے۔ یہیں سے دریائے آمو (جیحوں) کا منبع بھی نکلتا ہے، جو وسطی ایشیا کا ایک اہم دریا ہے۔

تاریخی پس منظر انگریزوں نے بفر زون کیوں بنایا؟

واخان کاریڈور کی تشکیل کا مقصد سمجھنے کے لیے ہمیں 19ویں صدی کے "عظیم کھیل" (Great Game) " میں جانا ہوگا، جب برطانوی سلطنت اور روسی سلطنت وسطی ایشیا پر کنٹرول کے لیے برسرِ پیکار تھیں۔

برطانیہ کو خدشہ تھا کہ روسی سلطنت جنوب کی طرف بڑھتی ہوئی برطانوی ہندوستان تک پہنچ جائے گی۔ اس لیے انگریزوں نے افغانستان کو ایک " بفر ریاست " کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی اپنائی۔ 1895 میں برطانیہ اور روس کے درمیان ایک معاہدے کے تحت " پامیر باؤنڈری کمیشن " قائم کیا گیا، جس نے واخان کاریڈور کی شمالی اور جنوبی سرحدوں کا تعین کیا۔

کیا افغان امیر عبدالرحمن پیسے لے کر اسے سنبھالنے پر رضا مند ہوا؟

تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ امیر عبدالرحمن خان کو اس علاقے کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی، مگر اس کے بدلے انہیں برطانوی یقین دہانیاں اور مالی امداد بھی ملی تھی۔ یہ کوئی خوش خریدی ہوئی چیز نہیں تھی بلکہ " دو نوآبادیاتی طاقتوں کے درمیان مفادات کا توازن " تھا۔ افغانستان اس راہداری کو سنبھالنے پر اس لیے رضا مند ہوا کیونکہ اسے اپنی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے برطانوی حمایت درکار تھی۔

اس طرح واخان کاریڈور کا قیام عمل میں آیا تاکہ

1. " برطانوی ہندوستان اور روسی سلطنت کے درمیان براہِ راست تصادم نہ ہو "۔

2. چین کے ساتھ افغانستان کی مشترکہ سرحد قائم ہو، جو روس کو مزید جنوب کی طرف بڑھنے سے روکے۔

3. برطانوی ہندوستان کے دفاع کی قدرتی لائن قائم ہو۔

آبادی اور ثقافت

آج واخان میں " واخی اور کرغیز قبائل " آباد ہیں، جن کی تعداد تقریباً 12 سے 17 ہزار کے درمیان ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر " ممیز مویشی پالنے اور زراعت " سے وابستہ ہیں۔ یہ علاقہ انتہائی پسماندہ اور دور دراز ہے جہاں جدید سہولیات تقریباً ناپید ہیں۔ تاہم یہاں " مارکو پولو کی بھیڑوں، برفانی چیتے، بھورے ریچھ " اور دیگر نایاب جنگلی حیات کی موجودگی نے اسے قومی پارک کا درجہ دلوایا ہے۔

حالیہ تنازع ، قبضے کی افواہیں اور حقیقت

طالبان مخالف اتحاد (نیشنل فرنٹ) نے دعوت کیوں دی؟

حالیہ دنوں میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ طالبان مخالف اتحاد "نیشنل فرنٹ" نے پاکستان کو واخان کاریڈور پر عارضی کنٹرول سنبھالنے کی دعوت دی ہے۔ اس کی وجوہات کا تجزیہ کریں تو:

1. " طالبان کے خلاف محاذ " نیشنل فرنٹ افغان طالبان کی حریف قوت ہے اور وہ چاہتی ہے کہ پاکستان طالبان پر دباؤ ڈالنے کے لیے اس راہداری کو استعمال کرے۔

2. " مقبوضہ علاقے کا مسئلہ " یہ اتحاد سمجھتا ہے کہ واخان پر پاکستانی قبضے سے طالبان کی توجہ بٹے گی اور انہیں عسکری طور پر کمزور کیا جا سکتا ہے۔

3. " بین الاقوامی حمایت کی تلاش " طالبان مخالف گروہ بین الاقوامی سطح پر اپنی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایسے اقدامات کر رہے ہیں۔

تاہم یہ بات اہم ہے کہ " پاکستان نے سرکاری سطح پر ایسے کسی منصوبے کی تصدیق نہیں کی " ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق مندوب " ملیحہ لودھی " نے بھی ان خبروں کو "محض افواہیں" قرار دیا ہے۔

طالبان اس حوالے سے اتنے حساس کیوں؟

افغان طالبان نے واخان کاریڈور کی حفاظت کے لیے غیر معمولی حساسیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

" ملا یعقوب اس پر قبضے کی خبر سن کر بھاگا بھاگا واخان کیوں گیا؟"

ملا یعقوب، جو طالبان کے بانی ملا عمر کے بیٹے اور موجودہ افغان دفاع کے قائم مقام وزیر ہیں، ان خبروں کے بعد فوری طور پر بدخشاں کا دورہ کیا اور واخان میں سیکیورٹی کا جائزہ لیا۔ اس کی وجوہات۔

1. " تزویراتی اہمیت " واخان طالبان کے لیے چین کا گیٹ وے ہے۔ اگر پاکستان یا کوئی اور طاقت یہاں قابض ہو جاتی ہے تو طالبان کی چین سے براہِ راست رسائی ختم ہو جائے گی۔

2. " ٹی ٹی پی کا مسئلہ " افغان طالبان پر الزام ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو پناہ دے رہے ہیں۔ اگر پاکستان واخان پر قبضہ کرتا ہے تو یہ ٹی ٹی پی کے خلاف ایک بڑی کارروائی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔

3. " عوامی حمایت کی بحالی " طالبان نے اپنے حامیوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ افغانستان کی خودمختاری کے محافظ ہیں۔ واخان پر کوئی بیرونی قبضہ ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچائے گا۔

4. " روس اور چین کا دباؤ " طالبان پر روس اور چین کی جانب سے بھی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے دباؤ ہے۔

بدخشاں پولیس کے ترجمان احسان اللہ کامگار نے واضح کیا ہے کہ "علاقے میں غیر ملکی فوجی دستوں کی موجودگی کی خبریں تصدیق شدہ نہیں ہیں" اور افغان فورسز سرحدوں کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔

پاکستان کے لیے واخان کاریڈور کی اہمیت: معدنی دولت سے لے کر تجارتی راستوں تک

اقتصادی پہلو

پاکستان کے لیے واخان کاریڈور کی اہمیت کئی جہتوں میں ہے

1. " وسطی ایشیا تک براہِ راست رسائی " اس وقت پاکستان کا وسطی ایشیا سے زمینی راستے سے تجارت کرنے کا واحد راستہ افغانستان ہے۔ واخان کاریڈور پاکستان کو " تاجکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں سے براہِ راست جوڑ سکتا ہے "، جس سے تجارتی راستے 1000 کلومیٹر سے زیادہ مختصر ہو جائیں گے۔

2. " معدنی دولت " غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں " سونے کے وسیع ذخائر " موجود ہیں۔ بعض سوشل میڈیا صارفین کا دعویٰ ہے کہ دنیا کا 46 فیصد سونا اس علاقے میں موجود ہے۔ اگرچہ یہ دعوے انتہائی مبالغہ آمیز ہیں، لیکن یہاں معدنی وسائل کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

3. " سی پیک کی توسیع " چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو وسطی ایشیا تک پھیلانے کے لیے واخان کاریڈور ایک قدرتی راستہ ہے۔ چین نے افغانستان کے ساتھ اس وادی میں " پل اور آئل پائپ لائن " بنانے کے مذاکرات بھی کیے ہیں۔

اسٹریٹجک پہلو

1. " بھارت کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ؟ ایک پرانا اندیشہ " ماضی میں یہ خدشہ پایا جاتا تھا کہ بھارت تاجکستان میں فضائی اڈے قائم کر کے پاکستان کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ تاہم، موجودہ صورتحال یکسر مختلف ہے۔ انڈیا نے حال ہی میں تقریباً 25 سال بعد تاجکستان میں قائم اپنا " عینی ایئر بیس (Ayni Air Base) " خالی کر دیا ہے، جو اس کا بیرون ملک واحد فوجی اڈہ تھا۔ اسے ماہرین نے انڈیا کی "سٹریٹجک ناکامی" قرار دیا ہے۔ طالبان کے 2021 میں افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اس اڈے کی افادیت ختم ہو گئی تھی، کیونکہ یہ اڈہ بنیادی طور پر طالبان کے خلاف شمالی اتحاد کی حمایت کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس اڈے کے انخلاء سے واضح ہوتا ہے کہ " وسطی ایشیا میں انڈیا کا اثر و رسوخ نمایاں طور پر کم ہوا ہے " اور اب وہاں انڈیا کی وہ سٹریٹجک موجودگی نہیں رہی جو کبھی پاکستان کے لیے تشویش کا باعث تھی۔

2. " تاجکستان کے بدلتے ہوئے تعلقات چین اور پاکستان کی طرف رخ "  انڈیا کی واپسی کے بعد، تاجکستان نے علاقائی طاقتوں خصوصاً چین اور پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی ہے۔

   " چین کے ساتھ مضبوط شراکت داری " حالیہ مہینوں میں تاجکستان اور چین کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جنوری 2026 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات میں سیاسی، تجارتی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا گیا اور اسے "اسٹریٹجک اعتماد اور افہام و تفہیم کی اعلیٰ سطح" قرار دیا گیا۔ چین تاجکستان کے ساتھ مل کر افغانستان میں "امن، استحکام اور تعمیرِ نو" کے لیے کام کرنے کا خواہاں ہے۔
   " طالبان کے ساتھ روابط کا احیاء " دلچسپ بات یہ ہے کہ تاجکستان، جو طالبان کا سخت مخالف رہا ہے، اب افغان طالبان حکومت کے ساتھ بھی اپنے تعلقات بحال کر رہا ہے۔ نومبر 2025 میں تاجکستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد (جس میں وزارتِ خارجہ اور سیکیورٹی کے نمائندے شامل تھے) نے کابل کا دورہ کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تاجکستان طالبان کے ساتھ عملی روابط اپنانے کی طرف بڑھ رہا ہے، جس میں پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

3. " حاصلِ کلام " ان پیشرفتوں کا مطلب یہ ہے کہ وسطی ایشیا میں پاکستان کے لیے " ایک نئی اور زیادہ سازگار صورتحال " پیدا ہو رہی ہے۔ جہاں ایک طرف انڈیا کا اثر و رسوخ کم ہوا ہے، وہیں چین اور تاجکستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔ تاجکستان کے ساتھ بہتر تعلقات اور مشترکہ مفادات (جیسے کہ افغانستان میں دہشت گردی کا خاتمہ) پاکستان کے لیے واخان کاریڈور کو سفارتی اور اقتصادی تعاون کے لیے استعمال کرنے کے نئے امکانات پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وسطی ایشیا تک رسائی کے لیے طالبان پر سفارتی دباؤ بڑھا سکتا ہے اور چین کی مدد سے علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں کو آگے بڑھا سکتا ہے۔

قبضے کے ممکنہ فوائد اور نقصانات

فوائد

- وسطی ایشیا تک براہِ راست زمینی راستہ

- معدنی وسائل تک رسائی

- ٹی ٹی پی کے خلاف موثر کارروائی

- بھارت کے علاقائی عزائم کی روک تھام

نقصانات

- " بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی " اقوام متحدہ کا چارٹر کسی خودمختار ملک پر قبضے کی اجازت نہیں دیتا۔

- " افغان طالبان سے مکمل تصادم "  اس سے پاکستان کو بھاری انسانی اور مالی قربانیاں دینی پڑ سکتی ہیں۔

- " دنیا میں تنہائی " امریکہ، روس، چین اور یورپ پاکستان کے اس اقدام کی مذمت کریں گے۔

- " چین کا ردعمل " چین افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد کی حفاظت خود کرتا ہے اور وہ پاکستان کو یہاں قبضہ کرتے دیکھنا پسند نہیں کرے گا۔

- " بھارت کو موقع " بھارت اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے خلاف عالمی رائے عامہ بنائے گا۔

بین الاقوامی ردعمل

بھارت کا ردعمل

بھارت نے پاکستان کے واخان کاریڈور پر قبضے کی افواہوں پر فوری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی موقف ہے کہ اس سے " افغانستان کی خودمختاری کو نقصان " پہنچے گا اور خطہ غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔ تاہم، تاجکستان سے اپنے فوجی اڈے کے انخلاء کے بعد بھارت کی علاقائی پالیسی میں واضح تبدیلی آئی ہے اور وہ اب زیادہ محتاط انداز اپنا رہا ہے۔

چین کا کردار

چین اس پوری صورتحال پر خاموشی سے نظر رکھے ہوئے ہے۔ چین کے لیے واخان کاریڈور اس کے "بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو" (BRI)" کا حصہ ہے اور وہ نہیں چاہے گا کہ یہاں کوئی عدم استحکام آئے۔ چین تاجکستان اور پاکستان دونوں کے ساتھ اپنے گہرے تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے علاقائی استحکام کے لیے کام کر رہا ہے۔

ایران اور روس

روس اور ایران بھی افغانستان کی خودمختاری کے حامی ہیں اور کسی بھی بیرونی مداخلت کے مخالف ہیں۔ تاہم، تاجکستان کے ساتھ چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات اور طالبان کے ساتھ تاجکستان کے نئے روابط نے خطے میں نئے توازن قائم کیے ہیں۔

سوشل میڈیا بیانیہ اور پاکستان مخالف پروپیگنڈا

اس ایشو سے جڑے کئی پہلو ایسے ہیں جہاں پاکستان مخالف طاقتوں نے سوشل میڈیا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے:

1. " انتشار پسند سیاسی پروپیگنڈا " پاکستان میں کچھ سیاسی عناصر اس قسم کی افواہوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوامی جذبات بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

2. " بھارتی سوشل میڈیا مہم " بھارتی میڈیا نے فوری طور پر ان خبروں کو ہوا دی اور پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر " جارحیت پسند " قرار دینے کی کوشش کی۔ تاہم، وسطی ایشیا سے بھارت کی واپسی نے ان بیانیوں کی اثر انگیزی کو کم کیا ہے۔

3. " افغان طالبان کا پروپیگنڈا " طالبان نے ان خبروں کو اپنے عوام کو " پاکستان مخالف جذبات " سے بھرنے کے لیے استعمال کیا۔

4. " مغربی میڈیا کا زاویہ " بعض مغربی میڈیا ادارے اس صورتحال کو " پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی " کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

کیا واخان والی بات افغان طالبان کے لیے ایک وارننگ ہے؟

ماہرین کے مطابق واخان کی یہ افواہیں افغان طالبان کے لیے ایک " واضح پیغام " ہیں:

1. " ٹی ٹی پی کا مسئلہ حل کرو " پاکستان طالبان کو متنبہ کر رہا ہے کہ اگر انہوں نے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی نہ کی تو پاکستان کو واخان کے ذریعے اپنے مفادات کے تحفظ کا کوئی اور راستہ تلاش کرنا پڑے گا۔

2. " ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ " افغان طالبان ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتے۔ پاکستان انہیں بتانا چاہتا ہے کہ اگر سرحدی تنازعات اٹھائے گئے تو پاکستان بھی واخان جیسے علاقوں میں اپنے دعوے پیش کر سکتا ہے۔

3. "اقتصادی راہداری کی اہمیت " پاکستان وسطی ایشیا تک رسائی چاہتا ہے اور وہ اس راستے میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کرے گا۔

واخان پر قبضہ - خواب یا حقیقت؟

تحقیق سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ واخان کاریڈور پر پاکستان کا قبضہ کوئی آسان کام نہیں۔ یہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو گی بلکہ اس سے پاکستان کو شدید سفارتی، اقتصادی اور عسکری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

تاہم، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ واخان پاکستان کے لیے اہم نہیں۔ اس کی تزویراتی اور اقتصادی اہمیت
سے انکار ممکن نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ:

1. سفارتی راستہ اختیار کیا جائے  افغان طالبان سے مذاکرات کے ذریعے واخان کے ذریعے وسطی ایشیا تک رسائی کا راستہ تلاش کیا جائے۔

2. ٹی ٹی پی کے خلاف مشترکہ کارروائی

3.  افغان طالبان کو قائل کیا جائے کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کریں۔

3. چین کا کردار چین کو اس معاملے میں ثالث بنایا جائے، کیونکہ چین کے مفادات بھی اس علاقے سے وابستہ ہیں اور اس کے تاجکستان اور پاکستان دونوں سے گہرے تعلقات ہیں۔

4. عوامی رائے عامہ

5.  پاکستان کو عوامی سطح پر اپنے مؤقف کی وضاحت کرنی چاہیے کہ وہ امن چاہتا ہے، قبضہ نہیں۔

5. تاجکستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنا تاجکستان کے ساتھ بہتر تعلقات اور چین کی ثالثی میں پاکستان وسطی ایشیا تک رسائی کے لیے نئے راستے تلاش کر سکتا ہے۔

" واخان کاریڈور " کی تاریخ ہمیں سبق دیتی ہے کہ یہ خطہ " بفر زون " کے طور پر بنا تھا اور آج بھی یہ بڑی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس توازن کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے قومی مفادات کے حصول کی کوشش کرے۔

آج جب کہ وسطی ایشیا میں نئے جغرافیائی سیاسی توازن قائم ہو رہے ہیں — بھارت کا اثر کم ہو رہا ہے، چین اور تاجکستان کے تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں، اور تاجکستان طالبان سے روابط بحال کر رہا ہے — پاکستان کے پاس ایک سنہری موقع ہے کہ وہ سفارت کاری اور علاقائی تعاون کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ چھوٹی سی چمنی نما پٹی پورے خطے کو جلانے والی آگ کا کام کر سکتی ہے۔

نوٹ

یہ مضمون تحقیقی نوعیت کا ہے اور اس میں پیش کردہ تجزیے مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔ قارئین سے گزارش ہے کہ وہ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے مزید ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔

مصنف 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

داستان گو

ہم اردو زبان کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں ۔ آپ اسے اور بہتر بنانے کے لئے مشورہ دیں۔ کیوں کہ آپ کا مشورہ ہمارے لئے انتہائی اہم ہے۔