تحقیق و ترتیب: عمر مختار رند
مقدمہ
پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں سے متصل ایک علاقہ جو طویل عرصے تک تاریخ کی گود میں خاموش پڑا رہا، آج ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ ہے " واخان کاریڈور " افغانستان کے شمال مشرقی صوبہ بدخشاں میں واقع ایک تنگ اور لمبی پٹی، جو چین، تاجکستان اور پاکستان کے سنگم پر واقع ہے۔
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان اس تزویراتی راہداری پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ تاہم، اس بحث میں ایک بنیادی اور اہم ترین نکتہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ " وا خان کی پٹی کبھی بھی افغانستان کا مستقل اور موروثی حصہ نہیں رہی "
یہ مضمون درج ذیل نکات پر تفصیلی روشنی ڈالے گا:
1. واخان کاریڈور کیا ہے اور اس کی جغرافیائی و تاریخی حیثیت
2. یہ علاقہ برطانوی ہندوستان کا حصہ کیسے تھا اور کیسے افغانستان کو سونپا گیا
3. برطانیہ افغانستان کو اس علاقے کی دیکھ بھال کے لیے معاوضہ کیوں ادا کرتا تھا
4. موجودہ سیاسی صورتحال اور طالبان کی حساسیت
5. پاکستان کے لیے اس علاقے کی اہمیت اور ممکنہ راستے
واخان کاریڈور ، جغرافیائی حیثیت
واخان کاریڈور دراصل ایک " 350 کلومیٹر طویل اور 13 سے 65 کلومیٹر چوڑی پہاڑی پٹی " ہے ۔ یہ افغانستان کے نقشے پر اس کے شمال مشرقی کونے سے نکلتی ہوئی ایک " چمنی نما " راہداری ہے جو افغانستان کو چین کے صوبے سنکیانگ سے ملاتی ہے ۔ اس کی شمالی سرحد پر تاجکستان ہے جبکہ جنوبی سرحد پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان سے ملتی ہے۔
یہ علاقہ " ہندوکش اور پامیر کے پہاڑی سلسلوں " کے درمیان واقع ہے، جہاں نوشاخ کی چوٹی 7750 میٹر بلند ہے۔ یہیں سے دریائے آمو (جیحوں) کا منبع بھی نکلتا ہے، جو وسطی ایشیا کا ایک اہم دریا ہے۔
آج واخان میں " واخی اور کرغیز قبائل " آباد ہیں، جن کی تعداد تقریباً 12 سے 17 ہزار کے درمیان ہے ۔ یہ لوگ زیادہ تر " ممیز مویشی پالنے اور زراعت " سے وابستہ ہیں۔
تاریخی پس منظر واخان کی حقیقی حیثیت
انگریزوں نے بفر زون کیوں بنایا؟
واخان کاریڈور کی تشکیل کو سمجھنے کے لیے ہمیں 19ویں صدی کے "عظیم کھیل" (Great Game) " میں جانا ہوگا، جب برطانوی سلطنت اور روسی سلطنت وسطی ایشیا پر کنٹرول کے لیے برسرِ پیکار تھیں ۔
برطانیہ کو شدید خدشہ تھا کہ روسی سلطنت جنوب کی طرف بڑھتی ہوئی برطانوی ہندوستان تک پہنچ جائے گی۔ روسی فوجوں نے تاشقند، سمرقند، بخارا اور خوقند جیسے شہروں پر قبضہ کر لیا تھا جو برطانوی ہندوستان کے دروازے تصور کیے جاتے تھے ۔
انگریز اچھی طرح جانتے تھے کہ ہندوستان کی مکمل حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ روسیوں کو افغانستان تک پہنچنے سے روکا جائے۔ اسی لیے انہوں نے افغانستان کو ایک " بفر ریاست " کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی اپنائی ۔
کیا واخان افغانستان کا مستقل حصہ تھا؟
" یہاں وہ نکتہ آتا ہے جو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے: واخان کا علاقہ کبھی بھی افغانستان کا موروثی اور مستقل حصہ نہیں تھا "
حقیقت یہ ہے کہ یہ پوری پٹی برطانوی ہندوستان کے زیرِ اثر علاقوں کا حصہ تھی یا ان سے منسلک تھی۔ 1893 میں ڈیورنڈ لائن معاہدے کے تحت برطانیہ نے افغانستان کے ساتھ سرحدوں کا تعین کیا ۔ اس معاہدے میں امیر عبدالرحمن خان کو واضح طور پر بتایا گیا کہ وہ واخان سے لے کر فارسی سرحد تک کی سرحدوں پر عمل کریں گے ۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر واخان افغانستان کا حصہ تھا تو پھر برطانیہ اس کی دیکھ بھال کے لیے افغانستان کو معاوضہ کیوں دیتا تھا؟
معاوضے کی حقیقت
تاریخی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ برطانوی حکومت نے امیر عبدالرحمن خان کی دوستانہ روش کے اعتراف میں ان کی سالانہ سبسڈی بڑھا کر " اٹھارہ لاکھ روپے " کر دی تھی ۔ اس کے علاوہ انہیں اسلحہ درآمد کرنے کی مکمل اجازت دی گئی اور تحفے کے طور پر اسلحہ دینے کا بھی وعدہ کیا گیا ۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ:
1. " واخان ایک بفر زون تھا " جو برطانیہ اور روس کے درمیان تصادم روکنے کے لیے بنایا گیا تھا ۔
2. " افغانستان کو یہ علاقہ بطور امانت دیا گیا تھا " نہ کہ مستقل ملکیت کے طور پر۔
3. " برطانیہ باقاعدہ معاوضہ ادا کرتا تھا " تاکہ افغانستان اس علاقے کی دیکھ بھال کرے اور اسے روسی توسیع پسندی سے بچائے ۔
4. اگر یہ افغانستان کا موروثی حصہ ہوتا تو برطانیہ کو اس کی دیکھ بھال کے لیے معاوضہ دینے کی ضرورت نہ تھی۔
چنانچہ واخان درحقیقت " دو نوآبادیاتی طاقتوں کے درمیان ایک مصنوعی بفر زون " تھا جسے انتظامی سہولت کے لیے افغانستان کے سپرد کیا گیا تھا۔
1895 کا اینگلو-روسی معاہدہ
مارچ 1895 میں طویل مذاکرات کے بعد برطانوی اور روسی حکومتوں کے درمیان نوٹوں کا تبادلہ ہوا جس میں پامیر پر برطانیہ اور روس کے اثر و رسوخ کے علاقوں کا تعین کیا گیا ۔ ایک مشترکہ کمیشن نے سرحدوں کا تعین کیا جس میں برطانوی اور روسی مندوبین شامل تھے ۔
1895 میں برطانیہ اور روس نے " پامیر باؤنڈری کمیشن " قائم کیا جس نے واخان کی شمالی اور جنوبی سرحدوں کا تعین کیا ۔ اس میں یہ طے پایا کہ نہ چین اور نہ افغانستان اس علاقے میں مداخلت کریں گے — حالانکہ یہ علاقہ افغانستان کو دے دیا گیا تھا ۔
یہ واضح کرتا ہے کہ واخان کی حیثیت بین الاقوامی طاقتوں کے باہمی مفادات کے تحت طے پائی تھی، نہ کہ افغانستان کے موروثی حقوق کی بنیاد پر۔
حالیہ سیاسی صورتحال
طالبان مخالف اتحاد کی دعوت
حالیہ دنوں میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ طالبان مخالف اتحاد "نیشنل فرنٹ" نے پاکستان کو واخان کاریڈور پر عارضی کنٹرول سنبھالنے کی دعوت دی ہے۔ اس کی ممکنہ وجوہات:
1. " طالبان کے خلاف محاذ " نیشنل فرنٹ افغان طالبان کی حریف قوت ہے اور وہ چاہتی ہے کہ پاکستان طالبان پر دباؤ ڈالنے کے لیے اس راہداری کو استعمال کرے۔
2. " مقبوضہ علاقے کا مسئلہ " یہ اتحاد سمجھتا ہے کہ واخان پر پاکستانی قبضے سے طالبان کی توجہ بٹے گی۔
3. " بین الاقوامی حمایت کی تلاش " طالبان مخالف گروہ بین الاقوامی سطح پر اپنی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایسے اقدامات کر رہے ہیں۔
تاہم یہ بات اہم ہے کہ " پاکستان نے سرکاری سطح پر ایسے کسی منصوبے کی تصدیق نہیں کی "
طالبان کی حساسیت
افغان طالبان نے واخان کاریڈور کی حفاظت کے لیے غیر معمولی حساسیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ملا یعقوب، جو طالبان کے بانی ملا عمر کے بیٹے اور موجودہ افغان دفاع کے قائم مقام وزیر ہیں، ان خبروں کے بعد فوری طور پر بدخشاں کا دورہ کیا اور واخان میں سیکیورٹی کا جائزہ لیا۔
اس کی وجوہات:
1. " تزویراتی اہمیت " واخان طالبان کے لیے چین کا گیٹ وے ہے۔
2. " ٹی ٹی پی کا مسئلہ " افغان طالبان پر الزام ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو پناہ دے رہے ہیں ۔
3. " عوامی حمایت کی بحالی " واخان پر کوئی بیرونی قبضہ طالبان کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا۔
4. " روس اور چین کا دباؤ " طالبان پر روس اور چین کی جانب سے سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے دباؤ ہے۔
پاکستان کے لیے واخان کی اہمیت
اقتصادی پہلو
پاکستان کے لیے واخان کاریڈور کی اہمیت کئی جہتوں میں ہے:
1. " وسطی ایشیا تک براہِ راست رسائی " اس وقت پاکستان کا وسطی ایشیا سے زمینی راستے سے تجارت کرنے کا واحد راستہ افغانستان ہے ۔ واخان کاریڈور پاکستان کو " تاجکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں سے براہِ راست جوڑ سکتا ہے "
2. " معدنی دولت " اس علاقے میں معدنی وسائل کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
3. " سی پیک کی توسیع " چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو وسطی ایشیا تک پھیلانے کے لیے واخان کاریڈور ایک قدرتی راستہ ہے ۔
تزویراتی پہلو
وسطی ایشیا میں اب نئی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ انڈیا نے تاجکستان میں اپنا فضائی اڈہ خالی کر دیا ہے اور اب چین اور پاکستان کے ساتھ تاجکستان کے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔
قانونی حیثیت کا پہلو
واخان کی تاریخی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، پاکستان اس علاقے پر کوئی بھی اقدام کرتے وقت درج ذیل نکات پر غور کر سکتا ہے:
1. " یہ علاقہ افغانستان کا موروثی حصہ نہیں " بلکہ برطانوی ہندوستان کے زیرِ اثر علاقوں کا حصہ تھا۔
2. " افغانستان کو یہ علاقہ بطور بفر زون دیا گیا تھا " اور اس کی دیکھ بھال کے لیے معاوضہ دیا جاتا تھا ۔
3. " افغانستان نے خود ڈیورنڈ لائن کو مستقل طور پر تسلیم نہیں کیا " اور مختلف اوقات میں اسے چیلنج کیا ہے ۔
4. " موجودہ طالبان حکومت کو اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت کا درجہ حاصل نہیں "
قبضے کے ممکنہ فوائد اور نقصانات
" فوائد "
- وسطی ایشیا تک براہِ راست زمینی راستہ
- معدنی وسائل تک رسائی
- ٹی ٹی پی کے خلاف موثر کارروائی
- علاقائی تجارت کو فروغ
" نقصانات "
- بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
- افغان طالبان سے مکمل تصادم
- چین کا ممکنہ عدم اطمینان
- بھارت کو پروپیگنڈے کا موقع "
کیا واخان کی بات طالبان کے لیے وارننگ ہے؟
ماہرین کے مطابق واخان کی یہ افواہیں افغان طالبان کے لیے ایک " واضح پیغام " ہیں:
1. " ٹی ٹی پی کا مسئلہ حل کرو " پاکستان طالبان کو متنبہ کر رہا ہے کہ اگر انہوں نے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی نہ کی تو پاکستان کو اپنے مفادات کے تحفظ کا کوئی اور راستہ تلاش کرنا پڑے گا ۔
2. " ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ " افغان طالبان ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتے ۔ پاکستان انہیں بتانا چاہتا ہے کہ اگر سرحدی تنازعات اٹھائے گئے تو پاکستان بھی واخان جیسے علاقوں میں اپنے مؤقف پیش کر سکتا ہے۔
3. " اقتصادی راہداری کی اہمیت " پاکستان وسطی ایشیا تک رسائی چاہتا ہے اور وہ اس راستے میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کرے گا ۔
سوشل میڈیا بیانیہ اور پروپیگنڈا
اس ایشو سے جڑے کئی پہلوؤں پر پاکستان مخالف طاقتوں نے سوشل میڈیا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے:
1. " انتشار پسند سیاسی پروپیگنڈا " پاکستان میں کچھ سیاسی عناصر اس قسم کی افواہوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
2. " بھارتی سوشل میڈیا مہم " بھارتی میڈیا نے فوری طور پر ان خبروں کو ہوا دی اور پاکستان کو " جارحیت پسند " قرار دینے کی کوشش کی۔
3. " افغان طالبان کا پروپیگنڈا " طالبان نے ان خبروں کو " پاکستان مخالف جذبات " بھڑکانے کے لیے استعمال کیا۔
4.
خلاصہ گفتگو
واخان کاریڈور کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ علاقہ کبھی بھی افغانستان کا موروثی حصہ نہیں رہا۔ یہ برطانوی ہندوستان اور روسی سلطنت کے درمیان تصادم روکنے کے لیے " ایک مصنوعی بفر زون " کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا اور اس کی دیکھ بھال کے لیے برطانیہ افغانستان کو باقاعدہ معاوضہ ادا کرتا تھا ۔
موجودہ صورتحال میں، پاکستان کے پاس واخان کے حوالے سے درج ذیل راستے ہیں ۔۔۔
1. " سفارتی راستہ " افغان طالبان سے مذاکرات کے ذریعے واخان کے ذریعے وسطی ایشیا تک رسائی کا راستہ تلاش کیا جائے۔
2. " خریداری یا لیز کا آپشن "
3. کچھ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ پاکستان اس علاقے کو خریدنے یا لیز پر لینے کے لیے قانونی راستے تلاش کرے ۔
3. " تاریخی حقائق کی بنیاد پر مؤقف "
4. پاکستان واخان کی تاریخی حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے اپنا مؤقف پیش کر سکتا ہے کہ یہ علاقہ کبھی افغانستان کا مستقل حصہ نہیں تھا۔
4. " چین کا کردار " چین کو اس معاملے میں ثالث بنایا جائے، کیونکہ چین کے مفادات بھی اس علاقے سے وابستہ ہیں ۔
" واخان کاریڈور " کی تاریخ ہمیں سبق دیتی ہے کہ یہ خطہ بفر زون کے طور پر بنا تھا اور آج بھی یہ علاقائی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ تاریخی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے قومی مفادات کے حصول کی کوشش کرے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ واخان کی پٹی کی حقیقی حیثیت کو سمجھے بغیر اس پر کوئی بھی بحث ادھوری ہے۔ یہ علاقہ افغانستان کو " بطور امانت " دیا گیا تھا، مستقل ملکیت کے طور پر نہیں۔ اور جب افغانستان خود ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتا تو وہ واخان پر اپنے دعوے کیسے کر سکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب طالبان کو خود دینا ہوگا۔
یہ مضمون تحقیقی نوعیت کا ہے اور اس میں پیش کردہ تجزیے مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔ قارئین سے گزارش ہے کہ وہ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے مزید ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔

