ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہ
قسط سوم: پردے کے پیچھے کے مہرے
جمہوریت کا استعمال — بیرونی طاقتوں کے پاکستانی مہرے
بیرونی فنڈنگ: سیاسی جماعتوں کے نام پر
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے متعدد سیاسی جماعتوں کے غیر ملکی فنڈنگ کیسز کی تحقیقات کی ہیں۔ USAID، NED، IRI، NDI جیسے اداروں کے ذریعے اربوں روپے کی فنڈنگ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو دی جاتی ہے۔ بدلے میں یہ جماعتیں ان ممالک کے ایجنڈے آگے بڑھاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کا بیرونی طاقتوں کے ساتھ تعلق صرف ظاہری بیانیے تک محدود نہیں، بلکہ گہرے اسٹریٹجک مفادات پر مبنی ہے۔
پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے بیرونی تعلقات (حقیقی تجزیہ)
| سیاسی خاندان/جماعت | بیرونی رابطہ (ظاہری) | بیرونی رابطہ (حقیقی) | کردار اور تنقیدی جائزہ |
|---|---|---|---|
| بھٹو-زرداری خاندان (پاکستان پیپلز پارٹی) |
امریکہ، برطانیہ | امریکہ، برطانیہ، مغربی ممالک | روایتی طور پر امریکہ کے قریب ترین۔ بینظیر بھٹو کا امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک ڈائیلاگ، آصف زرداری کا امریکی سفارت خانے سے قریبی تعلقات۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ مغربی مفادات کی ترجمانی کرتی رہی ہے۔ |
| شریف خاندان (مسلم لیگ ن) |
سعودی عرب، امریکہ | سعودی عرب، امریکہ، برطانیہ | سعودی عرب کے قریب ترین۔ نواز شریف کا سعودی عرب میں جلاوطنی کا عرصہ۔ امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ بھی مضبوط تعلقات۔ مسلم لیگ ن کی خارجہ پالیسی ہمیشہ مغربی اور خلیجی مفادات کے تابع رہی ہے۔ |
| عمران خان نیازی (تحریک انصاف) |
روس، چین کے قریب (2022 کے بعد) |
امریکہ، ہندوستان، اسرائیل کے قریب (2018-2022 کے دوران) |
حقیقت: عمران خان کا دور حکومت (2018-2022) امریکہ کے قریب ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ • امریکہ: ان کی حکومت نے امریکی ڈرون حملوں پر پابندی نہیں لگائی، امریکہ سے قرضوں کا سلسلہ جاری رکھا، اور افغان امن مذاکرات میں امریکی ایجنڈے کو آگے بڑھایا۔ • ہندوستان: کارتارپور راہداری کھولی، مودی حکومت کے ساتھ پشت پردہ تعلقات رہے۔ کشمیر کی صورتحال پر امریکہ کے مطابق نرم موقف اختیار کیا۔ • اسرائیل: ان کے دور میں اسرائیل سے پشت پردہ تعلقات کے شواہد ملتے ہیں۔ فلسطین کے حوالے سے سخت بیان سے گریز کیا گیا۔ • چین: سی پیک (CPEC) کے منصوبوں میں تاخیر ہوئی۔ چین کے ساتھ متعدد معاہدے ٹھپ ہو گئے۔ چینی حکومت نے ان کے دور کو "مشکل دور" قرار دیا۔ • روس: 2022 میں ماسکو کا دورہ امریکہ کی ناراضی کے باوجود کیا گیا، لیکن یہ دورہ روس مخالف مغربی بیانیے کے تحت اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے "دباؤ" کا حصہ تھا، حقیقی روس دوستی نہیں تھی۔ نتیجہ: 2022 کے بعد جب حکومت سے ہٹائے گئے تو "امریکہ مخالف" بیانیہ اپنایا گیا، جبکہ دور حکومت میں ان کی پالیسیاں امریکہ، ہندوستان اور اسرائیل کے مفادات کے مطابق تھیں۔ |
| فضل الرحمان (جمعیت علمائے اسلام - ف) |
سعودی عرب، قطر، ترکی | سعودی عرب، قطر، ترکی، امریکہ (بالواسطہ) | مذہبی بنیادوں پر قطر اور ترکی کے قریب۔ افغان طالبان کے ساتھ تاریخی تعلقات۔ امریکہ کی افغانستان پالیسی میں استعمال ہونے والا کردار۔ |
اگرچہ 2022 کے بعد تحریک انصاف نے "امریکہ مخالف" اور "چین و روس دوست" کا بیانیہ اپنایا، لیکن دور حکومت کے حقائق کچھ اور ہی تھے۔ عمران خان کی حکومت نے:
- امریکہ کے ساتھ: ڈرون حملوں کو جاری رکھا، امریکی قرضوں پر انحصار بڑھایا، اور افغانستان میں امریکی انخلا کے دوران امریکی مفادات کی ترجمانی کی۔
- ہندوستان کے ساتھ: کارتارپور راہداری کھول کر بھارتی ایجنڈے کو آگے بڑھایا، کشمیر پر بین الاقوامی فورمز میں خاموشی اختیار کی۔
- اسرائیل کے ساتھ: پشت پردہ تعلقات قائم کیے، فلسطین کے مسئلے پر سخت موقف سے گریز کیا۔
- چین کے ساتھ: سی پیک کے منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر کی، چین کے ساتھ تعلقات کو ٹھنڈا کیا۔
- روس کے ساتھ: کوئی اسٹریٹجک معاہدہ نہیں کیا، روس مخالف مغربی بیانیے کا حصہ رہے۔
نتیجہ: عمران خان کا دور حکومت امریکہ، ہندوستان اور اسرائیل کے مفادات کے قریب ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ 2022 کے بعد "امریکہ مخالف" بیانیہ سیاسی بقا کی حکمت عملی تھی، حقیقی خارجہ پالیسی میں تبدیلی نہیں۔
افواج پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈہ مہم
پروپیگنڈے کی تاریخ: 1971 سے 2026 تک
فوج مخالف پروپیگنڈہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر ٹرولز، بوٹس اور ڈیپ فیک کے ذریعے فوج کے خلاف مواد پھیلایا جا رہا ہے۔ روایتی میڈیا کے کچھ اینکرز بھی اس مہم کا حصہ ہیں۔ یہ پروپیگنڈہ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے باری باری چلایا جاتا ہے — جب کوئی جماعت اقتدار سے باہر ہوتی ہے تو وہ فوج کے خلاف نعرے لگاتی ہے، اور جب اقتدار میں آتی ہے تو فوج کی تعریف کرتی ہے۔
فرقہ ورانہ سیاسی جماعتیں — تقسیم کا ہتھیار
اہم فرقہ ورانہ جماعتیں اور بیرونی پشت پناہی
| جماعت | فرقہ | بیرونی رابطہ | کردار |
|---|---|---|---|
| سپاہ صحابہ / اہل سنت والجماعت | دیوبندی سنی | سعودی عرب | سنی انتہا پسندی، شیعہ مخالف تشدد |
| اسلامی تحریک پاکستان | شیعہ | ایران | شیعہ حقوق کے نام پر ایران کا ایجنڈا |
| تحریک لبیک پاکستان | بریلوی | قطر، ترکی | مذہبی جذبات کا استعمال، سیاسی مفادات |
یہ جماعتیں عوام کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرتی ہیں اور بیرونی طاقتوں کے ایجنڈے آگے بڑھاتی ہیں۔ ان کا وجود پاکستان کی قومی یکجہتی کے لیے زہر قاتل ہے۔
مستقبل کی پیشن گوئی — کیا پاکستان بچ سکتا ہے؟
تین منظرنامے
| منظرنامہ | تفصیل | امکانات |
|---|---|---|
| بہترین | سیاسی جماعتیں قومی مفاد پر متحد ہوں، فوج کے خلاف پروپیگنڈہ بند ہو، فرقہ ورانہ سیاست ختم ہو، بیرونی طاقتیں مداخلت بند کریں۔ پاکستان 2035 تک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو۔ | 10% |
| متوقع | موجودہ صورت حال جاری رہے۔ سیاسی جماعتیں آپس میں لڑتی رہیں، فوج کے خلاف پروپیگنڈہ جاری رہے، لیکن پاکستان ٹوٹنے نہ پائے۔ پاکستان درمیانی سطح پر رہے۔ | 50% |
| بدترین | پاکستان تین طرفہ محاصرے (افغانستان، ایران، بھارت) میں گھر جائے۔ سیاسی جماعتیں ملک کو تقسیم کریں، فوج کے خلاف پروپیگنڈہ عوام میں پھیل جائے، بیرونی طاقتیں پاکستان کو تباہ کر دیں۔ | 40% |
پاکستان کو کیا کرنا ہے؟
پاکستان کو اگر بدترین منظرنامے سے بچنا ہے تو اسے درج ذیل اقدامات کرنے ہوں گے:
- سیاسی جماعتوں پر پابندی: جو جماعتیں غیر ملکی فنڈنگ لے رہی ہیں، ان پر پابندی لگائی جائے۔ جو جماعتیں فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہی ہیں، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
- میڈیا ریگولیشن: جو میڈیا ادارے غیر ملکی فنڈنگ پر چل رہے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سوشل میڈیا پر فوج مخالف مواد پر پابندی لگائی جائے۔
- تعلیمی نصاب میں تبدیلی: نوجوانوں کو پاکستان کی حقیقی تاریخ پڑھائی جائے۔ فوج کی قربانیوں کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔
- فرقہ ورانہ جماعتوں کا خاتمہ: جو جماعتیں فرقہ ورانہ تشدد پھیلا رہی ہیں، ان پر پابندی لگائی جائے۔
- بیرونی مداخلت کا خاتمہ: امریکہ، بھارت اور اسرائیل کی مداخلت کو روکنے کے لیے سفارتی حکمت عملی بنائی جائے۔
اختتامیہ: مہروں کی حقیقت — کون کس کا مہرہ ہے؟
پاکستان پر تین طرفہ حملہ ہو رہا ہے: بیرونی حملہ (امریکہ، بھارت، اسرائیل)، اندرونی حملہ (سیاسی جماعتیں، فرقہ ورانہ گروپ)، اور نفسیاتی حملہ (عوام میں فوج کے خلاف پروپیگنڈہ)۔
عمران خان کا دور حکومت اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح ایک جماعت "مقبولیت" کے بیانیے کے باوجود بیرونی مفادات کی ترجمانی کر سکتی ہے۔ 2022 کے بعد ان کا "امریکہ مخالف" نعرہ محض سیاسی بقا کی حکمت عملی تھی، حقیقی خارجہ پالیسی میں تبدیلی نہیں۔
• فوج دشمن نہیں، محافظ ہے۔
• سیاسی جماعتیں محافظ نہیں، مفاد پرست ہیں۔
• بیرونی طاقتیں دوست نہیں، دشمن ہیں۔
• حقیقت کو بیانیوں سے نہیں، حقائق سے پرکھیں۔
اگر عوام جاگ گئے اور پروپیگنڈے کو پہچان لیا، تو پاکستان بچ سکتا ہے۔ ورنہ مہرے بدلتے رہیں گے، اور قوم رہنے والوں کے ہاتھوں تباہ ہوتی رہے گی۔
ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہ
قسط سوم: پردے کے پیچھے کے مہرے
جمہوریت کا استعمال — بیرونی طاقتوں کے پاکستانی مہرے
بیرونی فنڈنگ: سیاسی جماعتوں کے نام پر
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے متعدد سیاسی جماعتوں کے غیر ملکی فنڈنگ کیسز کی تحقیقات کی ہیں۔ USAID، NED، IRI، NDI جیسے اداروں کے ذریعے اربوں روپے کی فنڈنگ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو دی جاتی ہے۔ بدلے میں یہ جماعتیں ان ممالک کے ایجنڈے آگے بڑھاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کا بیرونی طاقتوں کے ساتھ تعلق صرف ظاہری بیانیے تک محدود نہیں، بلکہ گہرے اسٹریٹجک مفادات پر مبنی ہے۔
پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے بیرونی تعلقات (حقیقی تجزیہ)
| سیاسی خاندان/جماعت | بیرونی رابطہ (ظاہری) | بیرونی رابطہ (حقیقی) | کردار اور تنقیدی جائزہ |
|---|---|---|---|
| بھٹو-زرداری خاندان (پاکستان پیپلز پارٹی) | امریکہ، برطانیہ | امریکہ، برطانیہ، مغربی ممالک | روایتی طور پر امریکہ کے قریب ترین۔ بینظیر بھٹو کا امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک ڈائیلاگ، آصف زرداری کا امریکی سفارت خانے سے قریبی تعلقات۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ مغربی مفادات کی ترجمانی کرتی رہی ہے۔ |
| شریف خاندان (مسلم لیگ ن) | سعودی عرب، امریکہ | سعودی عرب، امریکہ، برطانیہ | سعودی عرب کے قریب ترین۔ نواز شریف کا سعودی عرب میں جلاوطنی کا عرصہ۔ امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ بھی مضبوط تعلقات۔ مسلم لیگ ن کی خارجہ پالیسی ہمیشہ مغربی اور خلیجی مفادات کے تابع رہی ہے۔ |
| عمران خان نیازی (تحریک انصاف) | روس، چین کے قریب (2022 کے بعد) | امریکہ، ہندوستان، اسرائیل کے قریب (2018-2022 کے دوران) |
حقیقت: عمران خان کا دور حکومت (2018-2022) امریکہ کے قریب ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ • امریکہ: ان کی حکومت نے امریکی ڈرون حملوں پر پابندی نہیں لگائی، امریکہ سے قرضوں کا سلسلہ جاری رکھا، اور افغان امن مذاکرات میں امریکی ایجنڈے کو آگے بڑھایا۔ • ہندوستان: کارتارپور راہداری کھولی، مودی حکومت کے ساتھ پشت پردہ تعلقات رہے۔ کشمیر کی صورتحال پر امریکہ کے مطابق نرم موقف اختیار کیا۔ • اسرائیل: ان کے دور میں اسرائیل سے پشت پردہ تعلقات کے شواہد ملتے ہیں۔ فلسطین کے حوالے سے سخت بیان سے گریز کیا گیا۔ • چین: سی پیک (CPEC) کے منصوبوں میں تاخیر ہوئی۔ چین کے ساتھ متعدد معاہدے ٹھپ ہو گئے۔ چینی حکومت نے ان کے دور کو "مشکل دور" قرار دیا۔ • روس: 2022 میں ماسکو کا دورہ امریکہ کی ناراضی کے باوجود کیا گیا، لیکن یہ دورہ روس مخالف مغربی بیانیے کے تحت اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے "دباؤ" کا حصہ تھا، حقیقی روس دوستی نہیں تھی۔ نتیجہ: 2022 کے بعد جب حکومت سے ہٹائے گئے تو "امریکہ مخالف" بیانیہ اپنایا گیا، جبکہ دور حکومت میں ان کی پالیسیاں امریکہ، ہندوستان اور اسرائیل کے مفادات کے مطابق تھیں۔ |
| فضل الرحمان (جمعیت علمائے اسلام - ف) | سعودی عرب، قطر، ترکی | سعودی عرب، قطر، ترکی، امریکہ (بالواسطہ) | مذہبی بنیادوں پر قطر اور ترکی کے قریب۔ افغان طالبان کے ساتھ تاریخی تعلقات۔ امریکہ کی افغانستان پالیسی میں استعمال ہونے والا کردار۔ |
اگرچہ 2022 کے بعد تحریک انصاف نے "امریکہ مخالف" اور "چین و روس دوست" کا بیانیہ اپنایا، لیکن دور حکومت کے حقائق کچھ اور ہی تھے۔ عمران خان کی حکومت نے:
- امریکہ کے ساتھ: ڈرون حملوں کو جاری رکھا، امریکی قرضوں پر انحصار بڑھایا، اور افغانستان میں امریکی انخلا کے دوران امریکی مفادات کی ترجمانی کی۔
- ہندوستان کے ساتھ: کارتارپور راہداری کھول کر بھارتی ایجنڈے کو آگے بڑھایا، کشمیر پر بین الاقوامی فورمز میں خاموشی اختیار کی۔
- اسرائیل کے ساتھ: پشت پردہ تعلقات قائم کیے، فلسطین کے مسئلے پر سخت موقف سے گریز کیا۔
- چین کے ساتھ: سی پیک کے منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر کی، چین کے ساتھ تعلقات کو ٹھنڈا کیا۔
- روس کے ساتھ: کوئی اسٹریٹجک معاہدہ نہیں کیا، روس مخالف مغربی بیانیے کا حصہ رہے۔
نتیجہ: عمران خان کا دور حکومت امریکہ، ہندوستان اور اسرائیل کے مفادات کے قریب ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ 2022 کے بعد "امریکہ مخالف" بیانیہ سیاسی بقا کی حکمت عملی تھی، حقیقی خارجہ پالیسی میں تبدیلی نہیں۔
افواج پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈہ مہم
پروپیگنڈے کی تاریخ: 1971 سے 2026 تک
فوج مخالف پروپیگنڈہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر ٹرولز، بوٹس اور ڈیپ فیک کے ذریعے فوج کے خلاف مواد پھیلایا جا رہا ہے۔ روایتی میڈیا کے کچھ اینکرز بھی اس مہم کا حصہ ہیں۔ یہ پروپیگنڈہ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے باری باری چلایا جاتا ہے — جب کوئی جماعت اقتدار سے باہر ہوتی ہے تو وہ فوج کے خلاف نعرے لگاتی ہے، اور جب اقتدار میں آتی ہے تو فوج کی تعریف کرتی ہے۔
فرقہ ورانہ سیاسی جماعتیں — تقسیم کا ہتھیار
اہم فرقہ ورانہ جماعتیں اور بیرونی پشت پناہی
| جماعت | فرقہ | بیرونی رابطہ | کردار |
|---|---|---|---|
| سپاہ صحابہ / اہل سنت والجماعت | دیوبندی سنی | سعودی عرب | سنی انتہا پسندی، شیعہ مخالف تشدد |
| اسلامی تحریک پاکستان | شیعہ | ایران | شیعہ حقوق کے نام پر ایران کا ایجنڈا |
| تحریک لبیک پاکستان | بریلوی | قطر، ترکی | مذہبی جذبات کا استعمال، سیاسی مفادات |
یہ جماعتیں عوام کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرتی ہیں اور بیرونی طاقتوں کے ایجنڈے آگے بڑھاتی ہیں۔ ان کا وجود پاکستان کی قومی یکجہتی کے لیے زہر قاتل ہے۔
مستقبل کی پیشن گوئی — کیا پاکستان بچ سکتا ہے؟
تین منظرنامے
| منظرنامہ | تفصیل | امکانات |
|---|---|---|
| بہترین | سیاسی جماعتیں قومی مفاد پر متحد ہوں، فوج کے خلاف پروپیگنڈہ بند ہو، فرقہ ورانہ سیاست ختم ہو، بیرونی طاقتیں مداخلت بند کریں۔ پاکستان 2035 تک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو۔ | 10% |
| متوقع | موجودہ صورت حال جاری رہے۔ سیاسی جماعتیں آپس میں لڑتی رہیں، فوج کے خلاف پروپیگنڈہ جاری رہے، لیکن پاکستان ٹوٹنے نہ پائے۔ پاکستان درمیانی سطح پر رہے۔ | 50% |
| بدترین | پاکستان تین طرفہ محاصرے (افغانستان، ایران، بھارت) میں گھر جائے۔ سیاسی جماعتیں ملک کو تقسیم کریں، فوج کے خلاف پروپیگنڈہ عوام میں پھیل جائے، بیرونی طاقتیں پاکستان کو تباہ کر دیں۔ | 40% |
پاکستان کو کیا کرنا ہے؟
پاکستان کو اگر بدترین منظرنامے سے بچنا ہے تو اسے درج ذیل اقدامات کرنے ہوں گے:
- سیاسی جماعتوں پر پابندی: جو جماعتیں غیر ملکی فنڈنگ لے رہی ہیں، ان پر پابندی لگائی جائے۔ جو جماعتیں فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہی ہیں، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
- میڈیا ریگولیشن: جو میڈیا ادارے غیر ملکی فنڈنگ پر چل رہے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سوشل میڈیا پر فوج مخالف مواد پر پابندی لگائی جائے۔
- تعلیمی نصاب میں تبدیلی: نوجوانوں کو پاکستان کی حقیقی تاریخ پڑھائی جائے۔ فوج کی قربانیوں کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔
- فرقہ ورانہ جماعتوں کا خاتمہ: جو جماعتیں فرقہ ورانہ تشدد پھیلا رہی ہیں، ان پر پابندی لگائی جائے۔
- بیرونی مداخلت کا خاتمہ: امریکہ، بھارت اور اسرائیل کی مداخلت کو روکنے کے لیے سفارتی حکمت عملی بنائی جائے۔
اختتامیہ: مہروں کی حقیقت — کون کس کا مہرہ ہے؟
پاکستان پر تین طرفہ حملہ ہو رہا ہے: بیرونی حملہ (امریکہ، بھارت، اسرائیل)، اندرونی حملہ (سیاسی جماعتیں، فرقہ ورانہ گروپ)، اور نفسیاتی حملہ (عوام میں فوج کے خلاف پروپیگنڈہ)۔
عمران خان کا دور حکومت اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح ایک جماعت "مقبولیت" کے بیانیے کے باوجود بیرونی مفادات کی ترجمانی کر سکتی ہے۔ 2022 کے بعد ان کا "امریکہ مخالف" نعرہ محض سیاسی بقا کی حکمت عملی تھی، حقیقی خارجہ پالیسی میں تبدیلی نہیں۔
• فوج دشمن نہیں، محافظ ہے۔
• سیاسی جماعتیں محافظ نہیں، مفاد پرست ہیں۔
• بیرونی طاقتیں دوست نہیں، دشمن ہیں۔
• حقیقت کو بیانیوں سے نہیں، حقائق سے پرکھیں۔
اگر عوام جاگ گئے اور پروپیگنڈے کو پہچان لیا، تو پاکستان بچ سکتا ہے۔ ورنہ مہرے بدلتے رہیں گے، اور قوم رہنے والوں کے ہاتھوں تباہ ہوتی رہے گی۔

