ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہ
قسط دوم: خطے کی نو تشکیل شدہ جغرافیائی سیاست
قطر اور یو اے ای کا دوہرا کردار
دوہا مذاکرات: مہمان نوازی یا پناہ گاہ؟
قطر نے 2013 میں افغان طالبان کے لیے دوحہ میں سیاسی دفتر کھولا۔ یہ وہی دفتر تھا جہاں 2020 میں امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ معاہدہ ہوا۔ پاکستان اور طالبان کے درمیان تین مذاکراتی دور — دوحہ، استنبول اور پھر دوحہ — قطر کی میزبانی میں ہوئے۔ پاکستان نے شواہد پیش کیے کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی قیادت افغانستان میں طالبان کی سرپرستی میں مقیم ہے۔
یو اے ای: اقتصادی ترقی کے نام پر اسٹریٹجک تعاون
متحدہ عرب امارات پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، لیکن اس نے کابل میں سفارتی موجودگی برقرار رکھی ہے۔ یو اے ای کا کردار قطر کے مقابلے میں پاکستان کے زیادہ قریب ہے، لیکن وہ بھی خلیجی مفادات کے تحت چلتا ہے۔
ایران اسرائیل جنگ — خطے میں نئی آگ
28 فروری 2026: وہ دن جب مشرق وسطیٰ بدل گیا
28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے۔ دفاعی وزیر خواجہ آصف نے واضح کیا: "افغانستان، ایران اور بھارت کا مشترکہ سنگل پوائنٹ ایجنڈا پاکستان کے خلاف دشمنی ہو گا، ہماری سرحدوں کو غیر محفوظ بنانا، اور پاکستان کو واسل اسٹیٹ میں تبدیل کرنا ہو گا۔"
عظیم طاقتوں کی شطرنج: امریکہ، روس، چین
امریکہ: وسطی ایشیا میں واپسی
امریکہ کی نئی حکمت عملی وسطی ایشیائی ریاستوں میں اپنی موجودگی بڑھانے کی ہے، تاکہ روس اور چین کے اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکے۔
چین: سی پیک اور استحکام کی جدوجہد
چین کے لیے پاکستان کا استحکام کوئی آپشن نہیں، ضرورت ہے۔ سی پیک میں 60 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی حفاظت سب سے بڑا چیلنج ہے۔
روس: پرانی سوویت سرزمین پر نظر
روس کسی صورت نہیں چاہتا کہ امریکہ وسطی ایشیا میں مضبوط ہو جائے۔ وہ شنگھائی تعاون تنظیم اور فوجی تعاون کے ذریعے اپنا اثر برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان — بگڑتے تعلقات کی حقیقت
تین مذاکراتی دور: دوحہ، استنبول اور ناکامی
| دور | مقام | تاریخ | نتیجہ |
|---|---|---|---|
| پہلا دور | دوحہ | اکتوبر 2025 | عبوری معاہدہ، عارضی جنگ بندی |
| دوسرا دور | استنبول | 25-29 اکتوبر 2025 | ناکام، طالبان نے پہلے کے معاہدے سے انکار کیا |
| تیسرا دور | استنبول | 6-7 نومبر 2025 | ناکام، کوئی معنی خیز معاہدہ نہ ہو سکا |
پاکستان کی شرائط: ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی قیادت کا خاتمہ، عسکریت پسندوں کی ملک بدری۔ طالبان کا موقف: مسلمانوں کے درمیان مذاکرات بہتر ہیں، جبری اقدامات نہیں۔
اختتامیہ: مہروں کی نئی ترتیب
قطر طالبان کو سفارتی پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔ یو اے ای اقتصادی تعاون کے نام پر اسٹریٹجک مفادات آگے بڑھا رہا ہے۔ ایران اسرائیل جنگ نے خطے میں نئی آگ لگا دی ہے۔ ان سب کے درمیان پاکستان ہے — جو اس شطرنج کی بساط پر ایک مہرہ ہے۔ مہرے بھی کبھی کبھی کھلاڑی بن جاتے ہیں۔
ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہ
قسط دوم: خطے کی نو تشکیل شدہ جغرافیائی سیاست
قطر اور یو اے ای کا دوہرا کردار
دوہا مذاکرات: مہمان نوازی یا پناہ گاہ؟
قطر نے 2013 میں افغان طالبان کے لیے دوحہ میں سیاسی دفتر کھولا۔ یہ وہی دفتر تھا جہاں 2020 میں امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ معاہدہ ہوا۔ پاکستان اور طالبان کے درمیان تین مذاکراتی دور — دوحہ، استنبول اور پھر دوحہ — قطر کی میزبانی میں ہوئے۔ پاکستان نے شواہد پیش کیے کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی قیادت افغانستان میں طالبان کی سرپرستی میں مقیم ہے۔
یو اے ای: اقتصادی ترقی کے نام پر اسٹریٹجک تعاون
متحدہ عرب امارات پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، لیکن اس نے کابل میں سفارتی موجودگی برقرار رکھی ہے۔ یو اے ای کا کردار قطر کے مقابلے میں پاکستان کے زیادہ قریب ہے، لیکن وہ بھی خلیجی مفادات کے تحت چلتا ہے۔
ایران اسرائیل جنگ — خطے میں نئی آگ
28 فروری 2026: وہ دن جب مشرق وسطیٰ بدل گیا
28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے۔ دفاعی وزیر خواجہ آصف نے واضح کیا: "افغانستان، ایران اور بھارت کا مشترکہ سنگل پوائنٹ ایجنڈا پاکستان کے خلاف دشمنی ہو گا، ہماری سرحدوں کو غیر محفوظ بنانا، اور پاکستان کو واسل اسٹیٹ میں تبدیل کرنا ہو گا۔"
عظیم طاقتوں کی شطرنج: امریکہ، روس، چین
امریکہ: وسطی ایشیا میں واپسی
امریکہ کی نئی حکمت عملی وسطی ایشیائی ریاستوں میں اپنی موجودگی بڑھانے کی ہے، تاکہ روس اور چین کے اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکے۔
چین: سی پیک اور استحکام کی جدوجہد
چین کے لیے پاکستان کا استحکام کوئی آپشن نہیں، ضرورت ہے۔ سی پیک میں 60 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی حفاظت سب سے بڑا چیلنج ہے۔
روس: پرانی سوویت سرزمین پر نظر
روس کسی صورت نہیں چاہتا کہ امریکہ وسطی ایشیا میں مضبوط ہو جائے۔ وہ شنگھائی تعاون تنظیم اور فوجی تعاون کے ذریعے اپنا اثر برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان — بگڑتے تعلقات کی حقیقت
تین مذاکراتی دور: دوحہ، استنبول اور ناکامی
| دور | مقام | تاریخ | نتیجہ |
|---|---|---|---|
| پہلا دور | دوحہ | اکتوبر 2025 | عبوری معاہدہ، عارضی جنگ بندی |
| دوسرا دور | استنبول | 25-29 اکتوبر 2025 | ناکام، طالبان نے پہلے کے معاہدے سے انکار کیا |
| تیسرا دور | استنبول | 6-7 نومبر 2025 | ناکام، کوئی معنی خیز معاہدہ نہ ہو سکا |
پاکستان کی شرائط: ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی قیادت کا خاتمہ، عسکریت پسندوں کی ملک بدری۔ طالبان کا موقف: مسلمانوں کے درمیان مذاکرات بہتر ہیں، جبری اقدامات نہیں۔
اختتامیہ: مہروں کی نئی ترتیب
قطر طالبان کو سفارتی پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔ یو اے ای اقتصادی تعاون کے نام پر اسٹریٹجک مفادات آگے بڑھا رہا ہے۔ ایران اسرائیل جنگ نے خطے میں نئی آگ لگا دی ہے۔ ان سب کے درمیان پاکستان ہے — جو اس شطرنج کی بساط پر ایک مہرہ ہے۔ مہرے بھی کبھی کبھی کھلاڑی بن جاتے ہیں۔
ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہ
قسط دوم: خطے کی نو تشکیل شدہ جغرافیائی سیاست
قطر اور یو اے ای کا دوہرا کردار
دوہا مذاکرات: مہمان نوازی یا پناہ گاہ؟
قطر نے 2013 میں افغان طالبان کے لیے دوحہ میں سیاسی دفتر کھولا۔ یہ وہی دفتر تھا جہاں 2020 میں امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ معاہدہ ہوا۔ پاکستان اور طالبان کے درمیان تین مذاکراتی دور — دوحہ، استنبول اور پھر دوحہ — قطر کی میزبانی میں ہوئے۔ پاکستان نے شواہد پیش کیے کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی قیادت افغانستان میں طالبان کی سرپرستی میں مقیم ہے۔
یو اے ای: اقتصادی ترقی کے نام پر اسٹریٹجک تعاون
متحدہ عرب امارات پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، لیکن اس نے کابل میں سفارتی موجودگی برقرار رکھی ہے۔ یو اے ای کا کردار قطر کے مقابلے میں پاکستان کے زیادہ قریب ہے، لیکن وہ بھی خلیجی مفادات کے تحت چلتا ہے۔
ایران اسرائیل جنگ — خطے میں نئی آگ
28 فروری 2026: وہ دن جب مشرق وسطیٰ بدل گیا
28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے۔ دفاعی وزیر خواجہ آصف نے واضح کیا: "افغانستان، ایران اور بھارت کا مشترکہ سنگل پوائنٹ ایجنڈا پاکستان کے خلاف دشمنی ہو گا، ہماری سرحدوں کو غیر محفوظ بنانا، اور پاکستان کو واسل اسٹیٹ میں تبدیل کرنا ہو گا۔"
عظیم طاقتوں کی شطرنج: امریکہ، روس، چین
امریکہ: وسطی ایشیا میں واپسی
امریکہ کی نئی حکمت عملی وسطی ایشیائی ریاستوں میں اپنی موجودگی بڑھانے کی ہے، تاکہ روس اور چین کے اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکے۔
چین: سی پیک اور استحکام کی جدوجہد
چین کے لیے پاکستان کا استحکام کوئی آپشن نہیں، ضرورت ہے۔ سی پیک میں 60 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی حفاظت سب سے بڑا چیلنج ہے۔
روس: پرانی سوویت سرزمین پر نظر
روس کسی صورت نہیں چاہتا کہ امریکہ وسطی ایشیا میں مضبوط ہو جائے۔ وہ شنگھائی تعاون تنظیم اور فوجی تعاون کے ذریعے اپنا اثر برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان — بگڑتے تعلقات کی حقیقت
تین مذاکراتی دور: دوحہ، استنبول اور ناکامی
| دور | مقام | تاریخ | نتیجہ |
|---|---|---|---|
| پہلا دور | دوحہ | اکتوبر 2025 | عبوری معاہدہ، عارضی جنگ بندی |
| دوسرا دور | استنبول | 25-29 اکتوبر 2025 | ناکام، طالبان نے پہلے کے معاہدے سے انکار کیا |
| تیسرا دور | استنبول | 6-7 نومبر 2025 | ناکام، کوئی معنی خیز معاہدہ نہ ہو سکا |
پاکستان کی شرائط: ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی قیادت کا خاتمہ، عسکریت پسندوں کی ملک بدری۔ طالبان کا موقف: مسلمانوں کے درمیان مذاکرات بہتر ہیں، جبری اقدامات نہیں۔
اختتامیہ: مہروں کی نئی ترتیب
قطر طالبان کو سفارتی پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔ یو اے ای اقتصادی تعاون کے نام پر اسٹریٹجک مفادات آگے بڑھا رہا ہے۔ ایران اسرائیل جنگ نے خطے میں نئی آگ لگا دی ہے۔ ان سب کے درمیان پاکستان ہے — جو اس شطرنج کی بساط پر ایک مہرہ ہے۔ مہرے بھی کبھی کبھی کھلاڑی بن جاتے ہیں۔

