سینوں پہ پھونکنے کے لئے دم بتائیں گے
اس دم کے ساتھ دل میں چھپے غم بتائیں گے
صوفی تجھے خبر ہی نہیں رازِ عشق کی
آنا ہمارے پاس کبھی ہم بتائیں گے
ہم خود بتائیں گے تمہیں اپنی برائیاں
وہ اس لئے کہ لوگ تمہیں کم بتائیں گے
یا تم کو ہم بتائیں گے مستی کے قاعدے
یا پھر ہمارے حضرتِ بیدم بتائیں گے
فلٹر سے پانی لائیں گے حجّاج اپنے گھر
اور ملنے آئے لوگوں کو زم زم بتائیں گے
حیوانیت کے درجے سے نیچے گرے ہوئے
ٹی وی پہ آکے عظمتِ آدم بتائیں گے
وحشت کے پِیر حضرتِ تحسین کے حضور
ہم کون ہیں جو آبروئے غم بتائیں گے
یونس تحسین
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
کیوں نہ پھِر سے اُس دور میں جایا جائے
مانگ کر آگ گھر کا چُولھا جلایا جائے
بیٹھ کر گلی میں کریں سب دِل کی باتیں
رَکھ کر مکئی کی روٹی پہ ساگ کھایا جائے
جب درختوں پہ چڑھ کے بیر کھاتے تھے
کوئی ویسا درخت پھِر گھر میں لگایا جائے
وہ تانگے کی سواری وہ گھوڑے کی ٹپ ٹپ
دھیمے سُروں میں پھِر کوئی ترانہ گایا جائے
مہمان آئیں گھر میں اور ہو گرمی کا موسم
شکر اور ستو کا شربت اُن کو پلایا جائے
شام ہو تو بچوں کو گھر بُلائیں آوازیں دے کر
ڈال کر مٹی کا تیل لالٹین کو جلایا جائے
کاش وہ سادہ لوح لوگ پلٹ آئیں واپس امیر
اور جدیدیت کا جنازہ دھُوم سے اُٹھایا جائے
❤❤❤❤❤❤❤


