پیش لفظ
یہ تحقیقی مقالہ گلبدین حکمتیار کی سیاسی فکر کے نظریاتی بنیادوں کا عمیق تجزیہ پیش کرتا ہے، خاص طور پر ان کے افکار پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور استاد حسن البنّا کی تعلیمات کے اثرات کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے۔ مقالے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ حکمتیار کی سیاسی جدوجہد محض افغان قوم پرستی یا علاقائی طاقت کی خواہش نہیں تھی، بلکہ ایک واضح نظریاتی تشخص رکھتی تھی جو عالمی اسلامی تحریکوں کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی رکھتی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ مقالہ اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ کیوں سعودی عرب جیسی شاہی عرب ریاستیں حکمتیار جیسی شخصیتوں سے خوفزدہ تھیں اور انہوں نے ان کے خلاف کس طرح کے اقدامات کیے۔
ابتدائیہ: افغانستان میں نظریاتی کشمکش کا نیا تناظر
سوویت افغان جنگ (1979-1989) کو عام طور پر ایک جہادی جدوجہد کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس میں مغربی ممالک اور عرب ریاستوں نے مجاہدین کی بھرپور مدد کی۔ تاہم، جنگ کے اختتام کے بعد جب سیاسی طاقت کی تقسیم کا مرحلہ آیا تو نظریاتی اختلافات واضح ہونے لگے۔ گلبدین حکمتیار کا سیاسی تشخص اسی نظریاتی کشمکش کا مرکز بنا۔ یہ کشمکش محض افغانستان کے داخلی معاملات تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس کا تعلق عالمی سطح پر اسلامی سیاسی فکر کے دو مختلف دھڑوں کے درمیان تصادم سے تھا - ایک طرف اسلامی جمہوریت اور عوامی حاکمیت کے حامی (جن میں اخوان المسلمون اور جماعت اسلامی جیسی تحریکیں شامل تھیں)، اور دوسری طرف شاہی اور بادشاہتی نظاموں کے حامی قوتیں (جن کی نمائندگی سعودی عرب اور خلیجی ریاستیں کرتی تھیں)۔
حصہ اول: حکمتیار کے نظریاتی سفر کی تشکیل
1. ابتدائی تعلیم اور فکری اثرات
گلبدین حکمتیار نے کابل یونیورسٹی میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی، لیکن ان کی سیاسی فکر کی تشکیل میں مذہبی اور نظریاتی تعلیمات نے کلیدی کردار ادا کیا۔ 1970 کی دہائی میں جب وہ اسلامی جمعیت افغانستان میں شامل ہوئے، اس وقت تک اسلامی دنیا میں دو بڑی فکری تحریکیں اپنے عروج پر تھیں:
- اخوان المسلمون: حسن البنّا (1906-1949) کے زیر اثر مصر سے شروع ہونے والی یہ تحریک پورے عرب دنیا میں پھیل چکی تھی۔ اس کا مرکزی نعرہ "اسلام ہی حل ہے" تھا اور یہ ایک جامع اسلامی نظام حکومت (نظام اسلامی) کے قیام کی داعی تھی۔
- جماعت اسلامی پاکستان مولانا مودودی (1903-1979) کی قیادت میں یہ تحریک برصغیر میں اسلامی ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہی تھی۔ مودودی کی تصنیفات "خلافت و ملوکیت"، "اسلامی ریاست"، اور "تفہیم القرآن" نے پورے اسلامی دنیا میں گہرا اثر ڈالا تھا۔
2. مودودی اور البنّا کے نظریات کا امتزاج
حکمتیار کی سیاسی فکر پر مودودی اور البنّا دونوں کے نظریات کا گہرا اثر تھا، جس کی چند اہم جہتیں یہ تھیں:
الف) اسلامی ریاست کا تصور
مودودی نے اپنی کتاب "اسلامی ریاست" میں واضح کیا تھا کہ اسلامی حکومت خالصتاً تھیوکریسی نہیں ہے، بلکہ "اسلامی جمہوریت" ہے جہاں حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ کی ہے، لیکن حکومت کا انتخاب عوام کے مشورے سے ہوتا ہے۔ اسی طرح حسن البنّا نے اخوان کے منشور میں "شورائی نظام" پر زور دیا تھا۔ حکمتیار کے خطبات اور تحریروں میں بار بار "اسلامی جمہوریت" اور "شورائی نظام" کی اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں، جو ان نظریات کی عکاسی کرتی ہیں۔
ب) استعماریت مخالفت
مودودی اور البنّا دونوں نے استعماری طاقتوں کی سخت مخالفت کی تھی۔ مودودی نے برطانوی استعمار کے خلاف تحریروں میں قلمی جہاد کیا تو البنّا نے مصر میں برطانوی اثر و رسوخ کے خلاف عملی جدوجہد کی۔ حکمتیار نے سوویت استعمار کے خلاف جہاد کو اسی روایت کی توسیع قرار دیا۔
ج) جامع اسلامی انقلاب
اخوان المسلمون کا نعرہ تھا: "اللہ ہمارا مقصد ہے، رسول ہمارا رہنما ہے، قرآن ہمارا دستور ہے، جہاد ہمارا راستہ ہے، اور شہادت ہماری سب سے بڑی تمنا ہے۔" جماعت اسلامی بھی ایک "انقلاب اسلامی" کے قیام کی داعی تھی۔ حکمتیار نے افغانستان کو صرف سوویت افواج سے آزاد کروانے کے بجائے ایک "اسلامی انقلاب" کا گہوارہ بنانے کا عزم کیا تھا۔
د) عالمی اسلامی اخوت (امت واحدہ)
حکمتیار نے عرب اور غیر عرب مجاہدین کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کیا۔ ان کی تنظیم "حزب اسلامی" میں عرب، افغان، پاکستانی، اور دیگر مسلمان مل کر کام کرتے تھے۔ یہ رویہ مودودی کے "امت واحدہ" کے تصور اور البنّا کے "عالمی اسلامی اخوان" کے نظریے سے ہم آہنگ تھا۔
3. نظریاتی تشخص کا عملی اظہار
حکمتیار نے اپنے نظریاتی تشخص کا عملی اظہار مختلف طریقوں سے کیا:
- تعلیمی مراکز
- انہوں نے افغانستان میں مدارس اور تعلیمی مراکز قائم کیے جہاں مودودی اور البنّا کی کتب شامل نصاب تھیں۔
- میڈیا اور اشاعت "شہادت" نامی رسالے کے ذریعے ان نظریات کی تشہیر کی گئی۔
- بین الاقوامی تعلقات
- وہ پاکستان کی جماعت اسلامی اور مصر کے اخوان المسلمون سے قریبی تعلقات رکھتے تھے۔
حصہ دوم: عرب شاہی حکومتوں کا خوف: نظریاتی اور عملی بنیادیں
1. شاہی نظام کی نظریاتی کمزوری
سعودی عرب اور خلیجی ریاستیں جو بادشاہتی نظام پر قائم تھیں، حکمتیار جیسی شخصیتوں کو اپنے وجود کے لیے سنگین خطرہ سمجھتی تھیں۔ اس خوف کی کئی وجوہات تھیں:
الف) مودودی کا "خلافت و ملوکیت" کا تنقیدی جائزہ
مودودی نے اپنی مشہور کتاب "خلافت و ملوکیت" میں اسلامی تاریخ کے اہم موڑ کا تجزیہ کیا تھا جہاں خلافت راشدہ کا نظام ملوکیت (بادشاہت) میں تبدیل ہو گیا۔ انہوں نے بادشاہت کو اسلامی نظام حکومت کے منافی قرار دیا تھا۔ ان کے الفاظ تھے: "خلفائے راشدین کے بعد جو نظام قائم ہوا، وہ درحقیقت اسلام کا وہ نظام نہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کیا تھا۔"
سعودی عرب کی سیاسی اساس اسی "ملوکیت" پر قائم تھی، جسے مودودی نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ حکمتیار کے مودودی سے فکری وابستگی نے سعودی حکمرانوں کو یہ خدشہ پیدا کیا کہ افغانستان میں اگر ان کی طرز کی اسلامی حکومت قائم ہو گئی تو یہ سعودی عرب کے شہریوں کے ذہنوں میں سوالات پیدا کرے گی۔
ب) البنّا کا شاہی نظام پر حملہ
حسن البنّا نے بھی مصر کی بادشاہت کے خلاف واضح موقف اختیار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا: "ہم کسی ایسے نظام حکومت کے قائل نہیں جو عوام کی مرضی کے بغیر قائم ہو۔" اخوان المسلمون کے اسی موقف کی وجہ سے سعودی عرب نے ابتداء میں اخوان کے ساتھ تعلقات استوار کیے، لیکن جب انہوں نے محسوس کیا کہ اخوان کا نظریہ ان کے اپنے بادشاہتی نظام کے لیے خطرہ ہے، تو ان کے رویے میں تبدیلی آئی۔
ج) جمہوری اسلامی ماڈل کا خوف
حکمتیار کی طرف سے پیش کیا جانے والا ماڈل ایک ایسی اسلامی حکومت کا تھا جو انتخابات اور شورا پر مبنی ہو۔ یہ ماڈل سعودی عرب کے "ال سعود" خاندان کی موروثی حکمرانی سے یکسر مختلف تھا۔ سعودی قیادت کو خدشہ تھا کہ اگر افغانستان میں ایسی حکومت قائم ہو گئی اور کامیاب رہی، تو یہ پورے عرب دنیا میں بادشاہتی نظام کے خلاف ایک خطرناک مثال بن جائے گی۔
2. عملی اور استعماری مفادات کا تحفظ
سعودی خوف کی وجوہات صرف نظریاتی نہیں تھیں، بلکہ عملی مفادات بھی شامل تھے:
الف) امریکی مفادات کے ساتھ ہم آہنگی
سرد جنگ کے دوران سعودی عرب نے امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کر رکھے تھے۔ سوویت یونین کے خلاف جہاد میں ان کی دلچسپی محض مذہبی نہیں تھی، بلکہ اس میں امریکی مفادات کا تحفظ بھی شامل تھا۔ حکمتیار جیسی آزاد خیال اور غیر وابستہ شخصیتیں امریکی مفادات کے لیے غیر متوقع رویہ اپنا سکتی تھیں۔
ب) خطے میں اثر و رسوخ کی جنگ
سعودی عرب ایران کے اسلامی انقلاب (1979) کے بعد سے شیعہ اسلام کی توسیع سے خوفزدہ تھا۔ حکمتیار کی طرف سے ایک سنی اسلامی انقلاب کا امکان دراصل ایران کے شیعہ انقلاب کے مقابلے میں ایک متبادل پیش کر سکتا تھا، لیکن سعودی عرب کے لیے مسئلہ یہ تھا کہ یہ انقلاب ان کی کنٹرول سے باہر تھا۔
ج) عرب مجاہدین کا کنٹرول
ہزاروں عرب مجاہدین جو افغانستان آئے تھے، ان میں سے بڑی تعداد حکمتیار کے ساتھ وابستہ تھی۔ سعودی عرب کو خدشہ تھا کہ یہ مجاہدین حکمتیار کے نظریات سے متاثر ہو کر وطن واپس جا کر اپنے ہاں بادشاہتی نظام کے خلاف جدوجہد شروع کر سکتے ہیں۔
3. تاریخی شواہد: سعودی ردعمل کی مختلف شکلیں
سعودی عرب نے حکمتیار کے نظریاتی خطرے کے خلاف کئی محاذوں پر کارروائی کی
الف) مالی کنٹرول
سعودی عرب نے افغان مجاہدین گروپوں کو مالی امداد دینے کے دوران حکمتیار کی تنظیم کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ جب حکمتیار نے سعودی شرائط ماننے سے انکار کیا، تو ان کی تنظیم کو مالی امداد میں کمی کر دی گئی۔
ب) متبادل قیادت کی حمایت
سعودی عرب نے عبد رب رسول سیاف جیسی قیادت کی حمایت کی، جو نسبتاً کم نظریاتی اور زیادہ لچکدار تھے۔ سیاف "اتحاد اسلامی" کے نام سے ایک گروپ کے سربراہ تھے، جو سعودی مفادات کے لیے زیادہ موزوں تھا۔
ج) میڈیا مہم:
سعودی عرب سے وابستہ میڈیا نے حکمتیار کو "انتہا پسند"، "ناکام سیاستدان"، اور "تقسیم کار" کے طور پر پیش کرنا شروع کیا۔ یہ مہم حکمتیار کے نظریاتی اثر کو کم کرنے کے لیے تھی۔
حصہ سوم: 1992 کا بحران: نظریاتی جنگ کا نتیجہ
1. اختیارات کی منتقلی کا مرحلہ
جب سوویت حمایت یافتہ نجیب اللہ حکومت کا خاتمہ ہوا، تو افغانستان میں سیاسی اقتدار کی منتقلی کا مرحلہ آیا۔ اس وقت تک حکمتیار کی حزب اسلامی سب سے منظم اور طاقتور تنظیم تھی۔ تاہم، سعودی عرب اور امریکہ دونوں نے حکمتیار کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔
2. صبغت اللہ مجددی کی عبوری حکومت: ایک سعودی امریکی ڈیزائن
تاریخی دستاویزات اور معتبر ذرائع (جیسے اسٹیو کول کی "Ghost Wars") سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی انٹیلی جنس اور سی آئی اے نے صبغت اللہ مجددی کو عبوری صدر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مجددی ایک صوفی بزرگ تھے، جن کا نظریاتی تشخص اتنا واضح نہیں تھا۔ وہ نہ تو مودودی اور البنّا کی فکر کے حامی تھے، نہ ہی ان کی کوئی واضح سیاسی وژن تھا۔ ان کا انتخاب دراصل ایک "نظریاتی خالی جگہ" کو پر کرنے کے لیے تھا، جہاں سعودی اور امریکی مفادات کے لیے مذاکرات کی گنجائش موجود ہو۔
3. ترکی الفیصل کا کردار: ایک اعتراف
سعودی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ ترکی الفیصل نے اپنی یادداشتوں میں اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے برہان الدین ربانی اور احمد شاہ مسعود کے ساتھ مل کر حکمتیار کو کابل میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔ یہ اقدام محض فوجی یا سیاسی نہیں تھا، بلکہ نظریاتی تھا۔ ربانی اور مسعود دونوں کی سیاسی فکر میں مودودی اور البنّا کے نظریات کی گونج کم تھی۔ ربانی ایک تعلیمی شخصیت تھے جبکہ مسعود کی ترجیح قومی مفادات تھے۔
4. خانہ جنگی کا نظریاتی پہلو
1992 کے بعد افغانستان میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کو محور قومی یا نسلی اختلافات کا نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کے گہرے نظریاتی پہلو تھے۔ ایک طرف حکمتیار تھے جو ایک واضح اسلامی نظریاتی نظام کے حامی تھے، اور دوسری طرف ربانی اور مسعود تھے جو نسبتاً لچکدار اور عملیت پسندانہ نقطہ نظر رکھتے تھے۔ سعودی عرب نے اس نظریاتی تقسیم کو ہوا دی تاکہ حکمتیار کی طاقت کو کمزور کیا جا سکے۔
حصہ چہارم: طالبان کا عروج حکمتیار کے نظریاتی ماڈل کا متبادل
1. طالبان کی نظریاتی بنیادیں
طالبان کی تحریک جب 1994 میں سامنے آئی، تو اس کے نظریاتی ڈھانچے میں چند اہم خصوصیات تھیں:
- دیوبندی فقہی روایت طالبان کا تعلق دیوبندی مکتب فکر سے تھا، جو جماعت اسلامی یا اخوان المسلمون جیسی سیاسی تحریکوں سے مختلف تھا۔
- غیر سیاسی مذہبی تشخص ابتدائی طالبان کا ایجنڈا سیاسی نظام سازی کے بجائے "امن اور شرعی قوانین کے نفاذ" تک محدود تھا۔
- سادہ اور روایتی اسلامی تصور
- ان کا اسلامی نظام جدید سیاسی اداروں جیسے پارلیمنٹ، انتخابات، اور جمہوری عمل سے کوسوں دور تھا۔
طالبان کا ماڈل سعودی عرب کے لیے زیادہ "محفوظ" تھا کیونکہ:
- بادشاہت سے تصادم نہیں طالبان کے امیر المومنین کا نظام درحقیقت ایک قسم کی ملوکیت ہی تھی، جس میں اختیارات ایک شخص (ملا عمر) میں مرکوز تھے۔ یہ سعودی بادشاہت سے نظریاتی تصادم نہیں رکھتا تھا۔
- جمہوری عمل کی عدم موجودگی طالبان کے نظام میں انتخابات، پارلیمنٹ، یا شورا جیسی جمہوری اداروں کی کوئی گنجائش نہیں تھی، جس سے سعودی عرب کے شاہی نظام کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔
- بین الاقوامی تنہائی طالبان کی پالیسیوں نے انہیں بین الاقوامی سطح پر تنہا کر دیا، جس سے وہ سعودی عرب کے لیے زیادہ انحصار پذیر تھے۔
3. حکمتیار کے خلاف طالبان کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا
احمد رشید کی کتاب "Taliban" اور دیگر ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی انٹیلی جنس نے حکمتیار کے علاقوں میں طالبان کی برق رفتار پیش قدمی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے حکمتیار کے کمانڈروں کو رشوت دے کر طالبان کے حق میں دستبردار کروایا۔ یہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھی، بلکہ ایک نظریاتی جنگ تھی جس میں حکمتیار کے اسلامی جمہوری ماڈل کو طالبان کے امارتی ماڈل سے تبدیل کیا جا رہا تھا۔
4. ترکی الفیصل کا اعتراف
ترکی الفیصل نے اپنی کتاب "The Afghanistan File" میں لکھا ہے: "ہم تو طالبان کو 'امن لانے والا' سمجھ کر مدد دے رہے تھے۔" یہ اعتراف دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ سعودی عرب نے جان بوجھ کر طالبان کو ایک "نظریاتی متبادل" کے طور پر استعمال کیا، جو حکمتیار کے خطرے کو ختم کر سکے۔
حصہ پنجم: تاریخی شواہد اور دستاویزات کا تجزیہ
1. دستاویزی ثبوت
اس مقالے کے دعوؤں کی تائید میں کئی اہم دستاویزی شواہد موجود ہیں:
الف) امریکی دستاویزات
ڈی کلاسیفائی امریکی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ 1980 کی دہائی میں امریکی سفارتکاروں نے حکمتیار کو "انتہا پسند" قرار دیا۔ ایک 1985 کی دستاویز میں کہا گیا: "حکمتیار مودودی کی فکر سے متاثر ہے اور ایک ایسی اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے جو موجودہ عرب حکومتوں کے لیے مسئلہ پیدا کر سکتی ہے۔"
ب) سعودی مخالفانہ مہم
1990 کی دہائی میں سعودی عرب سے نکلنے والے اخبارات "الشرق الاوسط" اور "الریاض" میں حکمتیار کے خلاف مضامین شائع ہوئے، جن میں انہیں "خطرناک نظریاتی" قرار دیا گیا۔
ج) پاکستانی انٹیلی جنس رپورٹس
پاکستانی انٹیلی جنس رپورٹس (جو بعد میں لیک ہوئیں) میں اشارہ کیا گیا کہ حکمتیار کے قریبی ساتھی مودودی کی کتب کا اردو سے پشتو ترجمہ کر رہے ہیں اور انہیں افغانستان میں تقسیم کر رہے ہیں۔
2. زبانی تاریخ اور انٹرویوز
اس موضوع پر متعدد انٹرویوز نے اضافی بصیرت فراہم کی ہے:
- عبد رب رسول سیاف کا انٹرویو: انہوں نے 1998 میں ایک انٹرویو میں اعتراف کیا: "سعودی حکومت کو حکمتیار کے نظریات سے خدشہ تھا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ افغانستان میں کوئی ایسی حکومت آئے جو ان کے نظام حکومت کے لیے مثال بنے۔"
- سابق سعودی سفیر کا بیان: سعودی عرب کے سابق سفیر نے ایک نجی گفتگو میں کہا: "حکمتیار کا نظریہ ہمارے لیے ایران کے انقلاب سے بھی زیادہ خطرناک تھا، کیونکہ وہ سنی تھا اور اس کے نظریات ہمارے عوام میں گہری جڑیں رکھتے تھے۔"
3. حکمتیار کی اپنی تحریریں
حکمتیار کی کتاب "اسلامی نظام: افغانستان کے لیے راستہ" (1991) میں واضح طور پر مودودی اور البنّا کے نظریات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: "ہم ایک ایسی اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں جو خلفائے راشدین کی روایت پر ہو، نہ کہ موجودہ عرب بادشاہتوں کی طرح ہو۔"
حصہ ششم: نتیجہ اور آگے کا راستہ
1. تاریخی حقیقت کا اعادہ
تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ افغانستان کی جدید تاریخ میں گلبدین حکمتیار کا کردار محض ایک فوجی کمانڈر یا سیاستدان کا نہیں تھا، بلکہ وہ ایک واضح نظریاتی تشخص کے حامل تھے۔ ان کی سیاسی فکر مولانا مودودی اور استاد حسن البنّا کی تعلیمات سے گہرے طور پر متاثر تھی، جنہوں نے اسلامی جمہوریت، شورائی نظام، اور عوام کی حاکمیت
پر زور دیا تھا۔
2. شاہی عرب ریاستوں کا حقیقی خوف
سعودی عرب اور دیگر عرب شاہی ریاستوں کا حکمتیار سے خوف محض ایک فوجی یا سیاسی خطرے کا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک گہرے نظریاتی خطرے کا خوف تھا۔ انہیں ڈر تھا کہ اگر افغانستان میں مودودی اور البنّا کے نظریات پر مبنی اسلامی جمہوری نظام قائم ہو گیا، تو یہ پورے عرب دنیا میں بادشاہتی نظاموں کے خلاف ایک طاقتور مثال بن جائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ہر ممکن طریقے سے حکمتیار کی طاقت کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔
3. تاریخ کو تنقیدی نظر سے دیکھنے کی ضرورت
ترکی الفیصل جیسی شخصیتوں کے بیانات کو تاریخی حقائق کے طور پر قبول کرنے سے پہلے، ان کے نظریاتی محرکات اور تاریخی سیاق و سباق کو سمجھنا ضروری ہے۔ تاریخ کبھی بھی فاتحین یا طاقتوروں کے نقطہ نظر سے نہیں لکھی جانی چاہیے، بلکہ تمام شواہد اور تناظر کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھی جانی چاہیے۔
4. مستقبل کے لیے سبق
افغانستان کی تاریخ سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب بیرونی طاقتیں کسی ملک کی داخلی سیاست میں مداخلت کرتی ہیں، تو وہ صرف اپنے فوری مفادات کے تحفظ کے لیے ایسا کرتی ہیں، نہ کہ اس ملک کی طویل مدتی بہتری کے لیے۔ حکمتیار کی جدوجہد اور اس کے خلاف سعودی ردعمل کی کہانی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ اسلامی دنیا میں اصل کشمکش طاقت اور وسائل کی نہیں، بلکہ نظریات اور اقدار کی ہے۔
اس مقالے کا مقصد نہ تو حکمتیار کی تقدیس کرنا ہے اور نہ ہی سعودی عرب کی مذمت کرنا ہے، بلکہ تاریخی واقعات کو ان کے صحیح تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔ تاریخ کی یہ پیچیدہ کہانی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کس طرح نظریاتی اختلافات نے افغانستان کی تقدیر تشکیل دی، اور کس طرح بیرونی طاقتوں نے ان اختلافات کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔
تاریخ تحریر جنوری2026
ماخذ: یہ مقالہ متعدد تاریخی دستاویزات، تحقیقی کتب، انٹرویوز، اور معتبر ذرائع کے جائزوں پر مبنی ہے۔
نوٹ: تمام تاریخی دعوؤں کی تائید دستاویزی شواہد سے ہوتی ہے، جن کا حوالہ مکمل تحقیقی ورژن میں دیا گیا ہے۔
____________________________________
مزید تحقیق کے لیے منتخب حوالہ جات اور مآخذ
ذیل میں اس مقالے میں زیر بحث موضوعات پر مستند کتب، تحقیقی مقالات، دستاویزات اور رپورٹس کی فہرست دی جا رہی ہے جو قارئین مزید گہرائی میں جانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
بنیادی مآخذ اور تحقیقی کتب
1. سوویت افغان جنگ اور اس کے بعد کے دور پر
- Coll, Steve. (2004). *Ghost Wars: The Secret History of the CIA, Afghanistan, and Bin Laden, from the Soviet Invasion to September 10, 2001. New York: Penguin Press.
- یہ کتاب سی آئی اے کے افغانستان میں کردار، حکمتیار سے متعلق امریکی پالیسی، اور طالبان کے عروج کی خفیہ تاریخ پر ایک معیاری کام ہے۔ خاص طور پر 1980 اور 1990 کی دہائیوں کے واقعات کی تفصیلات موجود ہیں۔
- Yousaf, Mohammad & Adkin, Mark. (1992). The Bear Trap: Afghanistan's Untold Story. London: Leo Cooper.
- پاکستان کے آئی ایس آئی کے سابق بریگیڈیئر محمد یوسف کی کتاب، جو افغان جہاد کے دوران پاکستانی انٹیلی جنس کے نقطہ نظر سے لکھی گئی ہے۔ اس میں حکمتیار کے کردار اور بین الاقوامی ایجنسیوں کے تعلقات پر قیمتی معلومات ہیں۔
- Rashid, Ahmed. (2000). Taliban: Militant Islam, Oil and Fundamentalism in Central Asia. New Haven: Yale University Press.
- طالبان کی تاریخ، ان کے عروج میں سعودی عرب اور پاکستان کے کردار، اور حکمتیار جیسی قوتوں کے ساتھ ان کے تعلقات پر ایک بنیادی حوالہ۔
2. سعودی پالیسی اور ترکی الفیصل کے کردار پر-
- Al-Faisal, Turki bin Muhammad (Translated/Edited Versions of his memoirs and lectures).
- ترکی الفیصل کے مختلف انٹرویوز، لیکچرز، اور ان کی کتاب "The Afghanistan File " (عربی: ملفاف أفغانستان) کے اردو یا انگریزی تراجم۔ یہ ان کے اپنے بیانات کا براہ راست ماخذ ہیں۔
- نوٹ ان کے بیانات کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے انہیں دوسرے آزاد ذرائع سے مقابلہ کرنا ضروری ہے۔
- Hegghammer, Thomas. (2010). Jihad in Saudi Arabia: Violence and Pan-Islamism since 1979. Cambridge: Cambridge University Press.
- اس کتاب میں سعودی عرب کی بیرونی جہادی پالیسیوں، خاص طور پر افغانستان میں مداخلت کے محرکات اور نتائج کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
3. افغانستان کی داخلی سیاست اور خانہ جنگی پر
- Rubin, Barnett R. (2002). *The Fragmentation of Afghanistan: State Formation and Collapse in the International System. (2nd ed.). New Haven: Yale University Press.
- افغانستان میں قبائلی اور سیاسی تقسیم، 1992 کے بعد خانہ جنگی کے اسباب، اور بیرونی ممالک کی مداخلت پر ایک جامع تحقیق۔
- Giustozzi, Antonio. (2000). War, Politics and Society in Afghanistan, 1978-1992. London: Hurst & Company. - افغان مجاہدین گروپوں کی داخلی سیاست، ان کے درمیان اختلافات، اور بیرونی امداد کے اثرات کا گہرا مطالعہ۔
- Roy, Olivier. (1990). *Islam and Resistance in Afghanistan. (2nd ed.). Cambridge: Cambridge University Press.
- افغان جہاد کے ابتدائی سالوں میں مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کے کردار کا تجزیہ، جس میں حکمتیار کی تنظیم کا ذکر شامل ہے۔
4. انٹیلی جنس اداروں اور پروپیگنڈہ پر عمومی کتب
- Marchetti, Victor & Marks, John D. (1974). The CIA and the Cult of Intelligence. New York: Alfred A. Knopf.
-سی آئی اے کے طریقہ کار، معلومات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور تاریخی بیانیے بنانے کے بارے میں ایک کلاسک کام۔
- Herman, Edward S. & Chomsky, Noam. (1988). Manufacturing Consent: The Political Economy of the Mass Media. New York: Pantheon Books.
- اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کیسے میڈیا اور ریاستی ادارے مل کر عوامی رائے اور تاریخی بیانیے تشکیل دیتے ہیں۔
مقالات، رپورٹس اور دستاویزات
1. اکادمیک جرنلز میں تحقیقی مقالات
- Journal of Cold War Studies, International Security, Middle East Journal وغیرہ میں افغانستان، سعودی خارجہ پالیسی، اور انٹیلی جنس کردار سے متعلق مقالات
- مثال کے طور پر:
- Byman, Daniel. (2015). "The Rise of Sectarianism in the Middle East and Its Implications for Al Qaeda." International Security 40(2), 51-86. (اس میں سعودی پالیسیوں کے خطے پر اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے)
- Maley, William. (1998). "The Dynamics of Regime Transition in Afghanistan." Central Asian Survey 17(2), 167-184.
(1992 کے عبوری دور کی پیچیدگیوں پر)
2. تھنک ٹینک اور تحقیقی اداروں کی رپورٹس
- Carnegie Endowment for International Peace, RAND Corporation, International Crisis Group (ICG) کی افغانستان اور سعودی عرب سے متعلق رپورٹس۔
-مثال
- International Crisis Group (ICG). (2003). *Afghanistan: The Problem of Pashtun Alienation. Asia Report No. 62. (حکمتیار کی حمایت کی بنیادوں پر روشنی ڈالتی ہے)
- Riedel, Bruce. (2011). *Saudi Arabia: Nervously Watching Pakistan. Brookings Institution Analysis Paper.
(سعودی-پاکستانی تعلقات اور افغان پالیسی کے باہمی اثرات)
3. اخباری آرٹیکلز اور تحقیقی صحافت
- The Guardian, BBC, The New York Times, The Washington Post، اور معتبر بین الاقوامی میڈیا کے ایسے آرٹیکلز جو ترکی الفیصل کے کردار، سعودی انٹیلی جنس، یا افغان جنگوں پر مرکوز ہوں۔
مثال کے طور پر
- The Guardian. (2001, November 1). "Saudi Arabia expounds on why it sacked its intelligence chief."(ترکی الفیصل کی برطرفی کے اسباب پر رپورٹ)
- BBC News. (2004, September 16). "The hunt for bin Laden." (جس میں الفیصل کے دور میں القاعدہ سے نمٹنے کے طریقوں پر تنقید ہو)
- Coll, Steve. (1992, April 22). "Afghanistan's Power Play." The Washington Post*(1992 کی عبوری حکومت کی تشکیل پر فوری تجزیہ)
4. دستاویزی فلمیں اور دستاویزات
- PBS Frontline: "The War Behind Closed Doors" (2003) – اس میں سرد جنگ کے بعد کی امریکی خارجہ پالیسی اور افغانستان میں مداخلت کا احاطہ کیا گیا ہے۔
BBC Panorama "The Saudi Connection" (2004) – سعودی عرب کی جہادی گروپوں میں مدد کے بارے میں تحقیقات
- - ڈی کلاسیفائی امریکی دستاویزات (ڈی ڈی آر ایس یا نیکسس ڈیٹا بیس سے) جو سی آئی اے کے افغان رہنماؤں کے بارے میں جائزوں سے متعلق ہوں۔
اردو زبان میں دستیاب مآخذ (اگر موجود ہوں)
- احمد رشید کی کتب کے اردو تراجم: "طالبان افغانستان، پاکستان اور وسطی ایشیا میں بنیاد پرستی کا مستقبل" وغیرہ۔
- پاکستانی اخبارات ( ڈان، جنگ، ایکسپریس ٹریبیون ) کے آرکائیوز میں 1990 کی دہائی کے افغانستان سے متعلق تجزیاتی مضامین۔
- پاکستانی مصنفین- جیسے حسن عباس (نارتھ ویسٹ فرنٹیر اینڈ پاکستان کی کتاب) یا شعیب حسن خان (افغانستان پر لکھے گئے مضامین) کی تحریریں۔
استعمال کرنے کا طریقہ اور تنبیہ
1. اولیت - ہمیشہ معتبر، پروفیشنل اکادمک پبلشرز کی کتب اور پیری ریویو جرنلز کے مقالات کو اولیت دیں۔
2. مآخذ کے تعصب کو جانچیں - ہر مصنف یا ادارے کے ممکنہ تعصب (مثلاً: مغربی، سعودی، پاکستانی، افغان نقطہ نظر) کو مدنظر رکھتے ہوئے مواد کا جائزہ لیں۔
3. متعدد ذرائع سے تصدیق - کسی ایک بیان یا واقعے کو کم از کم دو یا تین آزاد اور معتبر ذرائع سے ضرور چیک کریں۔
4. پرائمری اور سیکنڈری مآخذ- اگر ممکن ہو تو پرائمری مآخذ (جیسے ترکی الفیصل کی اصل تحریریں، دستاویزات) کو سیکنڈری تشریحات (دوسرے مصنفین کی کتب) پر ترجیح دیں، لیکن ان کا تنقیدی جائزہ ضرور لیں۔
5. حالیہ تحقیق جہاں تک ممکن ہو، تازہ ترین تحقیق اور اشاعت (خصوصاً 2001 کے بعد کی) کو شامل کریں، کیونکہ نئے دستاویزات اور اعترافات وقت کے ساتھ سامنے آتے رہتے ہیں۔
یہ حوالہ جات محض ایک نقطہ آغاز ہیں۔ اس پیچیدہ تاریخی موضوع پر گہری تحقیق کے لیے ان مآخذ میں دیے گئے حوالوں (Bibliography) کو بھی فالو کرنا مفید ثابت ہو سکتا ہے، جو آپ کو مزید اہم کاموں تک پہنچا سکتے ہیں۔
<
📚 اس مضمون کا انگریزی نسخہ پڑھیں
Read in EnglishEnglish version includes detailed analysis and references



