" زندگی آگ کے ڈھیر پر "

0 Admin


سکندر بیگ مرزا


       "  پس, آئینہ "

 یوں تو وطن عزیز جب سے معرض وجود میں آیا ہے قدرتی آفات اور آسمانی بلیات نے اس   کا راستہ دیکھ رکھا  ہے آئے روز یہاں روح فرسا اور دل دہلا دینے والے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں  بد قسمتی سے ان  واقعات اور حادثات کو ایک خبر سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی  گیس سلنڈر پھٹنے اور آتش زدگی  کے واقعات  کو یہاں  معمول  کے واقعات سمجھا جاتا ہے   سترہ جنوری کی شب جناح روڈ کراچی پر واقع تین منزلہ عمارت  گل پلازہ میں رونما ہونے والے   واقعہ نے وقتی طور پر پورے ملک کو غم زدہ کر دیا اس روح فرسا سانحہ  کی رپورٹ پوری دنیا میں حیرت کے ساتھ  سنی گئی کہ   ترقی یافتہ دور میں بھی پاکستان جیسے ملک میں اس قسم کے دل سوز واقعات پر قابو پانے کے لئے حفاظتی اقدامات کا  کوئی موثر   نظام  موجود  نہیں ہے گل پلازہ کے واقعہ میں 26  ہلاکتوں کے علاوہ 77 شہریوں کو  گمشدہ قرار دے کر فائل کلوز کر دی گئی ہے اس طرح  آگ میں جل کر مرنے والوں کی تعداد دانستہ طور پر  کم بتائی گئی ہے  تا کہ حکومت معاوضوں کی ادائیگیوں سے بچ جائے   ایک ہزار دوکانوں کے علاوہ    تین اربںسے زائد  کا سامان     جل کر خاکستر ہو چکا ہے اس مرحلے پر  نقصانات کی تفصیل بتانا مقصود نہیں مقصود یہ ہے کہ پاکستان میں آتش زدگی کی روک تھام کے لئے سوائے بیان بازی کے کوئی عملی اقدامات  نہیں کئے جاتے  حالانکہ 2024 اور 2025 میں  صرف کراچی شہر میں 2500 سے زیادہ آتش  زدگی کے واقعات رونما  ہو  چکے تھے   لیکن ہر واقعہ کو قدرتی حادثے کا نام دے کر فائلوں میں دفن کر دیا جانا رہا ہے یہ  ہمارے قومی اداروں کا مروجہ طریقہ کا ہے 

 حالانکہ آتش زدگی کے واقعات کو قدرتی آفات کے زمرے میں شمار نہیں کیا جاسکتا دریاوں ندی نالوں میں جنم لینے والے   سیلاب سونامی اور  زلزلوں کی تباہ کاریوں کے سامنے  انسان ہمیشہ    بے بس ہو تے ہیں   گو کہ بروقت تدابیر   اختیار کر لینے سے  ایسے مواقع پر   جانی نقصانات کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے 

 لیکن آتش زدگی کے واقعات کو قدرتی آفات  قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اس میں انسانی کردار کا ملوث ہونا بعید از قیاس نہیں ہوتا  مشاہدے میں یہ بات ائی ہے کہ سرکاری دفاتر بالخصوص مالیاتی اداروں میں ریکارڈ کو جان بوجھ کر نذر آتش کیا جاتا ہے تا کہ  فراڈ اور مالی بد عنوانیوں کے  شواہد تلف کئے جا سکیں  اس کے علاوہ گیارہ ستمبر  دو ہزار باراں   کو بلدیہ فیکٹری کراچی میں جرائم پیشہ بھتہ خوروں نے دو سو نوے  مزدورں کو زندہ جلا کر گارمینٹس فیکٹری کو   راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا   تھا  اس افسوس ناک واقعہ  میں مہاجر قومی موومنٹ کے دشت گر ملوث نکلے علاوہ ازیں  گھروں ہوٹلوں  فیکٹریوں اور   گاڑیوں میں گیس سلنڈروں کے دھماکے معمولی کی خبریں  سمجھی  جاتی ہیں  ناقص میٹریل سے  تیار شدہ  گیس سلنڈر سرے عام فروخت کئے جاتے ہیں زائد المعیاد  سلنڈر گاڑیوں اور گھروں  میں استعمال ہوتے ہیں دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں  محکمے موجود  ہیں تنخوائیں بر وقت ادا کی جاتی ہیں  ضروری سازو سامان  اور گاڑیوں کی مرمت اور پٹرول کے لئے اربوں روپے کے فنڈز ہر سال مختص کئے جاتے ہیں   سرکار نے ایک ہی نیچر کا کام کرنے کے لئے کئی کئی متوازی محکمے قائم کر رکھے ہیں صرف اگ بجھانے کے لئے سول ڈیفس 1122  سپشل فائر فاٹئنگ سکواڈز کے علاوہ  دیگر معاون محکمے ملک میں ناگہانی آفات کی صورت میں   مل کر بھی آگ پر قابو پانے    کی  صلاحیت   نہیں رکھتے میرے نزدیک  آتش زدگی   سرا سر  انسانی  مجرمانہ  غفلت کا شاخسانہ ہوتی ہے سرکاری ملازمین  اگر پچاس فیصد بھی  فرائض کی ادائیگی  کریں تو بڑے سے  بڑے رونما ہونے والے سانحات کو کم کیا جا سکتا ہے سول ڈیفینس محکمے والوں کو مکمل علم ہوتا  ہے کہ سرکاری دفاتر   غیر سرکاری مارکیٹوں پلازوں ہوٹلوں  سکولوں ہسپتالوں شادی ہالوں  کے علاوہ پبلک پلیسز پر  آتش زدگی کے واقعات کا سد باب کرنے کے لئے کس قسم کے فائر فائٹنگ  ارینج منٹ   کی ضرورت ہوتی ہے سچ تو یہ ہے کہ کوئی محکمہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے سر انجام نہیں  دینا    جس کا نتیجہ یہ نکلا  ہے کہ  پورا ملک بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے خدشہ ہے کہ سرکاری بھتہ خور اور سویلین مافیاز  مل کر پورے ملک کو کسی بڑے سانحہ سے دوچار نہ کر دیں     

فارم 47 اور ان کے تخلیق کاروں کو اگر حکمرانی کا شوق ہے تو اس کے بنیادی تقاضے بھی نبھائیں 

کرپشن لاقانونیت مہنگائی سمگلنگ قومی دولت کی چوری چکاری  جہالت اور فرقہ  واریت  کا راستہ  بر وقت  روکیں   انسانی جانوں کا زیاں  اور  قومی   مالی نقصان خود بخود رک جائے گا وگرنہ اب پورا ملک کسی  ٹائم بم پر تو بیٹھا ہوا ہے خدا نخواستہ  کسی   لمحے بھی   کوئی دلخراش  سانحہ  جنم لے سکتا ہے 


۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ زمیں آفات سے دو چار ہے 

زندگی صدمات سے دو چار ہے 


آنکھ بھر لائی سمندر شہر میں  

ہر گلی برسات سے دو چار ہے 


بجھ گئے کتنے ستارے رات کو 

ہر قدم خدشات سے دو چار ہے 


جیت جاتے ہیں سگ, آوارگاں

آدمیت مات سے دو چار ہے 


۔۔۔۔۔۔    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

داستان گو

ہم اردو زبان کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں ۔ آپ اسے اور بہتر بنانے کے لئے مشورہ دیں۔ کیوں کہ آپ کا مشورہ ہمارے لئے انتہائی اہم ہے۔