Visit Our Official Web دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟ کیا ہونے جا رہا ہے؟ Dastan Gou Dastan Gou داستان گو

دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟ کیا ہونے جا رہا ہے؟


 چین کو کیسے ختم کیا جائے ؟؟؟؟؟؟

برطانیہ اور فرانس کا یوکرائن میں فوجیں بھیجنے کا فیصلہ۔۔۔۔۔۔ برطانیہ اور فرانس دونوں ہی یخ و دی لابی کے سرکردہ ممالک ہیں۔ ان کا یوکرائن میں فوجیں بھیجنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔وینزویلا میں رشیا اور چین کی  امریکہ کے خلاف مزاحمت کو روکنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ ابھی چند دن میں دو بڑے معاہدے ہونے والے ہیں دونوں کے ڈرافٹ تیار ہیں ایک پاکستان + ترکی + سعودی عرب جو مشرق وسطیٰ میں از را ایلی امریکی پیش قدمی کو مینیج کرنے کیلئے۔ دوسرا پاکستان بنگلہ دیش جنوبی ایشیاء میں انڈیا امریکہ کو روکنے کیلئے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دونوں محاذوں پر پاکستانی فوج کا کردار بڑا کلیدی ہوگا۔ یورپ کو یوکرائن کے محاذ پر ذبح کروانا مقصود ہے۔ چین کا سر دست براہِ راست کسی بارڈر پر ٹکراؤ بنتا نظر نہیں آرہا۔ وہ دو جگہ پر آکر اپنی لڑائی خود لڑے گا ایک تائیوان میں امریکہ کے خلاف جس سے روس کو کور ملے گا اور امریکہ براہِ راست روس سے ٹکرانے سے بچ جائے گا۔ دوسری لڑائی وہ انڈیا کے خلاف سیون سسٹر اور بنگلہ دیشی سمندر میں انڈیا کے خلاف لڑے گا تاکہ آبنائے ملائکہ جو بلاک ہونے بچا سکے۔ ایک محاذ اور کھلتا نظر آرہا ہے ہو سکتا ہے کہ ایران براہ راست از را ایل پر حملہ کر دے تاکہ خلیج میں موجود امریکی بحری بیڑے غیر محفوظ ہو جائیں اور ایران کی از را ایل کے خلاف سے ملک میں جاری عوامی انتشار تحریک دم توڑ جائے۔ کیونکہ اس کے بغیر امریکی از را ایلی حمایت یافتہ عوامی تحریک کو ختم کرنے کا کوئی اور راستہ نظر نہیں آرہا۔ چین وینزویلا میں امریکی دراندازی کے بعد ایرانی تیل کو گنوانے کا رسک نہیں لے سکتا۔ 

ایران پر امریکی حملہ اس لیے بھی ضروری ہو گیا ہے کیونکہ وینزویلا میں دنیا دستیاب تیل کے 20 فیصد ذخایر ہیں۔ اس تیل کا 20 فیصد چین خریدتا ہے۔ یہاں ہر چین نے 550 ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ کی ہوئی ہے۔ اب اس تیل کی دستیابی مشکل ہو گئی ہے اس لیے چین نے جو ایران میں جاری 400 ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ کو میچور کرنے اور سی پیک کے حقیقی استعمال کا وقت آگیا ہے۔ چین ایران سے کھلم کھلا تیل خریدے گا اور سی پیک کے ذریعے لیکر جائے گا۔ اس جنگی دور میں سی پیک پاکستان کی مالی آمدن کا بڑا سورس بنے گا۔

اگر اس سارے انتشار اور جنگی فساد مچانے کا مرکزی اور بنیادی نقطہ چین کو مار کر عالمی قیادت کے منصب پر فائز ہونے کی خواہش کو ختم کرنا ہے۔ کیونکہ امریکہ کی 37 ٹریلین ڈالر کی مقروض ریاست اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ رہی ہے۔ اس عالمی قیادت کی کرسی کے تین امیدوار تھے جن میں ایک کی منشاء، خواب اور خواہش کے جنازے کو  ہم نے مئی 2025 میں راجستان کے صحراؤں، پنجاب کے کھیت کھلیانوں اور کشمیر کے پہاڑوں میں دفن کر دیا۔ سمندر برد ہونے سے اس لیے بچ گیا کہ وہ کراچی پر حملہ کرنے جرت نہیں کر سکا۔ یہ ہی چار جنگی محاذ ہوتے ہیں یہ چار جنگی مہارتیں ہیں جن میں پاکستان نے حقیقی معنوں میں چاروں خانے چت کر دیا ہے۔ باقی بچیں دو ایک ازرا ایل اور چین۔ 

ازرا ایل کی خواہش غیر فطری، کسی طرح بھی درست اور برحق نہیں ہے کیونکہ اس کے پاس نہ اپنی زمین ہے نہ جغرافیائی وجود ہے نہ عالمی فوج ہے، نہ اپنی معیشت ہے اور نہ ہی اقوام عالم کی ضروریات اور تحفظ فراہم کرنے کا کوئی نظام ہے۔ قبضے کی زمین کرائے کے فوجی دھونس دھاندلی اور بلیک میلنگ کی سیاست اور خریدے ہو غدار کبھی کسی عالمی قیادت کی بنیاد فراہم نہیں کر سکتے۔ اس لیے چین فطری طور پر اس منصب کا سب سے بڑا اور حقیقی اہل ہے۔ چین کے پاس عالمی طور پر مسلمہ زمین موجود ہے ہزاروں سال پرانی تاریخ رکھنے والی محنتی قوم ہے۔  ملک میں ایک صدی سے زائد جاری مستحکم  سیاسی معاشی وفاقی نظام موجود ہے، صنعتی طور پر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتا ہے، عسکری قوت کو  مئی 2025 میں پاکستان نے دنیا بھر کے سامنے متعارف کرا دیا ہے اب کوئی ایسا پہلو باقی نہیں جو اس کی عالمی قیادت کی خواہش میں حائل ہو۔ مگر از را ایلی لوگوں کی ایک بچگانہ خواہش کو پورا کرنے کے لیے پوری دنیا کو جنگوں کے ایندھن میں دھکیلا جا رہا ہے۔ جیسے یہ ملک غیر فطری ہے اسی طرح اس کی خواہش بھی غیر فطری ہے اور یہ جنگیں بھی غیر فطری ہیں اور یقینا ایسی قوت جس کی بنیاد ہی فطرت کے قوانین کے خلاف تو اس کی  کبھی بھی ایسی مذموم خواہش پوری نہیں ہو سکتی اور آخر کار چین ہی امید ہے کہ اگلے تین سے چار سال میں دنیا کی عالمی قیادت یہ منصب پر فائض نظر ائے گا۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے سلطنت عثمانیہ کی باقیات میں سے جو 57 اسلامی ملکوں کی شکل میں منتشر  وجود نظر آرہا ہے وہ سب پاکستان کی قیادت میں متحد ہو کر اگلے عالمی معاشی اور سیاسی نظام میں بڑے کلیدی وجود کے ساتھ شامل ہوں گے۔ امید واثق ہے کہ اسلامی ممالک کی شیرازہ بندی دنیا میں اسلام کے احیاء اور نشاۃ ثانیہ کی شکل اختیار کرے گا۔ میرے لیے خاص طور پر اور ہر باشعور پاکستانی کیلئے عام پر سعادتِ کا مقام ہے کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا کام اللہ تعالیٰ وطن عزیز سے لینے جا رہا ہے۔ اسی لیے اس غزہ ہند میں شریک لوگوں سے جنت کا پیشگی وعدہ کیا گیا ہے۔ ہے کوئی اس سچے کے سچے وعدے پر یقین کرنے والا۔

❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤

Previous Post
No Comment
Add Comment
comment url