خون، برف اور فولاد وہ رات جب 'کالے بگلوں' نے تاریخ لکھ دی
آسمان نے سیاہ چادر اوڑھ لی تھی اور زمین برف کی سفید چادر میں سانس بھی رکے بے جان پڑی تھی۔ افغانستان کے کنڑ کے پہاڑی درے، جو تاریخ کے گواہ ہیں، اسی کی دہائی کی ایک کڑکڑاتی ہوئی رات میں اپنی گہری خاموشی کے پردے میں ایک ایسا ڈراما تیار کر رہے تھے، جس کی گونج عشروں تک سنائی دیتی رہے گی۔ یہ وہ دور تھا جب سوویت یونین کا ریڈ بِئیر اپنی طاقت کے زور پر افغان سرزمین پر چھا گیا تھا، مگر پہاڑوں کے دل میں ایک آگ سلگ رہی تھی – آزادی کی آگ۔ اور اس آگ کو بجھانے کے لیے، ماسکو نے اپنا سب سے خوفناک، سب سے خونخوار اور سب سے خفیہ ہتھیار میدان میں اتارا: اسپیٹسناز۔
یہ روسی فوج کا دماغ اور پنجہ تھے۔ وہ لوگ جن کی تربیت اتنی سخت، اتنی بے رحم تھی کہ ہر دس میں سے نو ناکام ہو جاتے تھے۔ یہ وہ سپاہی تھے جو چاقو کی دھار پر چلنا جانتے تھے، جو اندھیرے میں دیکھ سکتے تھے، اور خاموشی میں اپنے دشمن کی دھڑکن سن سکتے تھے۔ ان کا مشن اس رات بالکل صاف تھا: افغان مجاہدین کی شہ رگ، ان کی سپلائی لائنوں کو تلاش کرنا، کاٹنا اور انہیں چن چن کر ختم کرنا۔ یوں، خیال تھا کہ پہاڑوں میں گھر کر لڑنے والے ان بہادروں کو گھٹنوں کے بل لایا جا سکے گا۔
جدید ترین ہتھیاروں سے لیس، اپنی لاٹھی میں اپنے ہی بھوسے کے غرور سے سرشار، یہ روسی گوریلے پیراشوٹوں سے اس برفانی وادی میں اترے۔ ان کے بوٹوں نے برف کو کچلا۔ ہوا میں صرف جیکٹوں کے ریشم جیسے کپڑوں کی سرسراہٹ تھی۔ وہ اپنی پوزیشنیں سنبھال رہے تھے، ریڈیو پر خاموش احکامات سن رہے تھے، اور اپنے کمانڈر سے اگلے حکم کا انتظار کر رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ شکار کرنے آئے ہیں۔ انہیں احساس تک نہ تھا کہ وہ خود شکار بن چکے ہیں۔
کیونکہ اندھیرے میں، ان سیاہ چٹانوں اور برفانی چوٹیوں پر، کچھ اور سائے چل رہے تھے۔ یہ سائے پتھروں کا حصہ لگتے تھے، ریت کے ذروں کی طرح ہوا میں تیرتے محسوس ہوتے تھے۔ نہ کوئی آواز، نہ کوئی جھنکار، نہ پتھر لڑھکنے کی آہٹ۔ یہ خاموشی موت کی خاموشی سے بھی گہری تھی۔ یہ سائے، حرکت میں ہونے کے باوجود، جمود کا روپ دھارے ہوئے تھے۔ وہ روسی دستے کے حلقے میں اس طرح گھس گئے جیسے دھند پہاڑوں میں اترتی ہے – بے آواز، بے وزن، مگر ہر چیز کو ڈھانپ لینے والی۔
پھر، ایک لمحے میں، خاموشی چکناچور ہوئی۔
برفانی رات کا سکوت گولیوں کی گھن گرج، دستی بم کے دھماکوں اور آہوں کی ایک ہولناک سمفنی میں بدل گیا۔ یہ حملہ اتنا اچانک، اتنا منظم اور اتنا شدید تھا کہ اسپیٹسناز کے تربیت یافتہ کمانڈوز کے پاس بھی سنبھلنے کا موقع نہ ملا۔ وہ دنیا کی سخت ترین تربیت دینے والی فورس تھی، مگر اس رات ان کا سامنا کسی ایسی چیز سے تھا جو تربیت سے بالاتر تھی۔ یہ صرف جنگ نہیں تھی؛ یہ انتقام کا ایک پراسرار، خوفناک اور بے انتہا موثر اظہار تھا۔ لڑائی ہر طرف پھیل گئی۔ قریب سے مار کرنے والے ہتھیاروں کی آوازیں گونجنے لگیں۔ یہ صرف دور سے فائرنگ کا معرکہ نہیں تھا؛ یہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑنے کا وقت تھا۔
جب اگلی صبح سورج نے کنڑ کی وادی میں جھانکا، تو اس نے ایک ایسا منظر دیکھا جسے دیکھ کر سوویت کمان کے حواس ہی باختہ ہو گئے۔ برف سرخ ہو چکی تھی۔ ان کی پراسرار، ناقابل شکست سمجھی جانے والی اسپیٹسناز یونٹ تباہ حال پڑی تھی۔ بھاری جانی نقصان ہوا تھا۔ سوال یہ تھا: یہ کس نے کیا؟ کون تھے وہ سائے؟ کس فوج نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا تھا؟ افغان مجاہدین بہادر تھے، مگر اس طرح کی پراسیژن، اس طرح کی بے رحم اور خاموش کارروائی؟ اس کا جواب ایک روسی میجر کے سینے پر ملا۔
وہاں، اس کے دل کے قریب، ایک خنجر پیوست تھا۔ یہ کوئی عام بازار کا خنجر نہ تھا۔ اس کا ڈیزائن، اس کی ساخت، اس کی دم پر بنی علامت... یہ پاکستان کے ایلیٹ اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کمانڈوز کا مخصوص ہتھیار تھا۔ یہ خنجر صرف ایک ہتھیار نہیں تھا؛ یہ ایک پیغام تھا، ایک دستخط تھا، ایک اعلان تھا۔ یہ کہہ رہا تھا: "ہم یہاں تھے۔ ہم نے تمہیں قریب سے دیکھا۔ اور ہم نے تمہیں قریب سے ہی مارا۔" یہ وہ لمحہ تھا جب ایک نئی داستان نے جنم لیا – 'کالے بگلوں' کی داستان۔
یہیں سے، تربیلا کے قریب چراٹ کے گھنے، ویران اور خوفناک جنگلوں میں تربیت پانے والے ان کمانڈوز کا نام 'بلیک اسٹورکس' یا 'کالے بگلے' پڑا۔ افغان مجاہدین نے یہ نام دیا، اور روسی فوجی اسے خوف کے ساتھ اپنے وائرلیس پر دہرانے لگے۔ میدانِ جنگ گرم ہوتا، تو روسی فوجی اپنے ہیڈ کوارٹر کو سگنل بھیجتے: "کالے بگلے آ گئے ہیں! بلیک اسٹورکس!" یہ اعلانِ جنگ نہیں، اعترافِ شکست کی ایک دہشت زدہ پکار بن گئی۔
روسی ہیلی کاپٹر پائلٹوں نے اپنی ڈائریوں میں لکھا: "وہ سیاہ وردیوں میں پیراشوٹ سے ایسے اترتے ہیں جیسے شکاری پرندے اپنے شکار پر جھپٹتے ہیں... بگلا اسی طرح چپکے سے، بجلی کی سی سرعت سے حملہ آور ہوتا ہے۔ یہ اسی طرح ہیں۔"
خانہ بدوش کے قلم سے -ایس ایس جی – فولاد کو ڈھالنے کا راستہ
ایس ایس جی کی اس ہیبت ناک اور پراسرار دنیا میں داخلہ ہر کسی کے نصیب کی بات نہیں۔ یہ راستہ گلابوں کے بجائے کانٹوں، بلکہ خنجروں سے بچھا ہوا ہے۔ یہاں براہِ راست بھرتی نام کی کوئی چیز نہیں۔ یہ اعزاز صرف منتخب ہستیوں کے حصے میں آتا ہے۔ پاک فوج کے وہ چُنیدہ ترین جوان اور افسران، جو جسمانی طاقت کے ساتھ ساتھ ذہنی صلاحیتوں کے بھی پیکر ہوتے ہیں، جو اپنے جگر میں ایک آگ رکھتے ہیں، وہ خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ پیشکش محض الفاظ نہیں ہوتی؛ یہ اپنے آپ کو دوزخ کے دروازے پر کھڑے کرنے کی درخواست ہوتی ہے۔
پہلا مرحلہ ہی خواب دیکھنے والوں کو جگا دینے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ ہفتوں پر محیط یہ ابتدائی ٹیسٹ صرف جسم کی نہیں، روح کی جانچ کرتے ہیں۔ انتہائی کٹھن جسمانی مشقوں کے ساتھ ساتھ ذہنی دباؤ کے ایسے تجربات ہوتے ہیں جو عام آدمی کے اعصاب کا پتہ نہیں چھوڑتے۔ نتیجہ؟ اسی فیصد سے زائد امیدوار پہلے ہی ہفتوں میں واپس ہو جاتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں شکست کا وہی خوف نہیں ہوتا جو انہوں نے چھوڑا تھا، بلکہ ایک حیرت ہوتی ہے – یہ احساس کہ جو راستہ انہوں نے چنا تھا، وہ ان کے اندازے سے کہیں زیادہ سنگلاخ تھا-
جو باقی بچتے ہیں، انہیں چراٹ کے اسرار بھرے پہاڑوں کی طرف روانہ کر دیا جاتا ہے۔ یہاں 'ایس ایس جی کورس' کا اصل سفر شروع ہوتا ہے۔ یہ تربیت صرف دوڑنے، کودنے یا گولی چلانے کا نام نہیں۔ یہ ایک انسان کو دوبارہ سے ڈھالنا ہے۔ اس کی ہڈیوں، پٹھوں، اس کے اعصاب اور اس کی روح کو ایک نئے فولاد میں ڈھالنا ہے۔
تصور کیجئے: بارہ گھنٹے کے اندر آپ کو اٹھاون کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا ہے۔ یہ کوئی ہموار سڑک نہیں، بلکہ پہاڑی راستے، کنکریلے ڈھلان اور گہری وادیاں ہیں۔ اور آپ کے کندھوں پر بھاری بھرکم سامان ہے۔ یا پھر یہ سوچیے کہ آپ کو تیس سے چالیس منٹ میں آٹھ کلومیٹر دوڑنا ہے – یہ صرف دوڑ نہیں، وقت کے خلاف ایک جنگ ہے، جس میں ہار کا مطلب ناکامی ہے۔ یہاں 'ناممکن' کا لفظ لغت سے خارج کر دیا جاتا ہے۔
تربیت کا سب سے ہولناک، سب سے دلچسپ اور سب سے اہم مرحلہ 'سروائیول ٹریننگ' کہلاتا ہے۔ یہ وہ جہنم کا دروازہ ہے جہاں انسان کو جانور بننا پڑتا ہے، صرف زندہ رہنے کے لیے۔ کمانڈو کو ایک فرضی 'دشمن' کے علاقے میں، بالکل تنہا، بغیر کسی خوراک، پانی یا جدید سہولیات کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اب اس کا اپنا دماغ ہی اس کا سب سے بڑا ہتھیار اور سب سے بڑا دشمن بن جاتا ہے۔
بھوک کی آگ بجھانے کے لیے، اسے جنگل کی زبان سیکھنی پڑتی ہے۔ کونسی جڑی بوٹی کھائی جا سکتی ہے، کونسی زہریلی ہے۔ یہاں تک کہ مینڈک، چھپکلی، سانپ پکڑ کر کھانا ایک معمول کی بات بن جاتی ہے۔ جانوروں کا خون پینا، اس سے حاصل ہونے والی توانائی اور نمی پر گزارا کرنا سکھایا جاتا ہے۔ یہ مکروہ نہیں، ضرورت ہے۔ مقصد صرف ایک ہے:
مشن کی تکمیل۔
بھوک، پیاس، تھکن، سردی – یہ سب رکاوٹیں نہیں، صرف چیلنج ہیں جنہیں شکست دینا ہے۔
اسی دوران، وہ ہتھیاروں کے استعمال میں اتنا ماہر بن جاتا ہے کہ وہ اور اسلحہ ایک ہی وجود بن جاتے ہیں۔ اندھیرے میں، صرف آواز کی بنیاد پر نشانہ لگانا۔ چلتی گاڑی سے فائرنگ کرنا۔ ہر گولی کا ایک ہی مقصد: حتمی وار۔ چاہے وہ دور دراز سے اسنائپر رائفل کا شاٹ ہو یا قریب سے ہینڈ گن کا، ہر اقدام موت کا پروانہ ہوتا ہ
مگر ان سب سے بالا، تربیت کا سب سے خفیہ اور تکلیف دہ پہلو ہے -'تشدد سہنے کی صلاحیت' یعنی 'Resistance to Interrogation'۔ یہ وہ امتحان ہے جو انسانیت کی حدوں کو پرکھتا ہے۔ امیدوار کو فرضی طور پر دشمن کی قید میں ڈال دیا جاتا ہے۔ پھر شروع ہوتا ہے وہ سلسلہ جو کسی بھی انسان کے خوابوں میں بھی ڈراؤنا ہو سکتا
مسلسل کئی دنوں تک نیند سے محروم رکھا جاتا ہے، تاکہ دماغ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہو جائے۔ بے انتہا بھوکا پیاسا رکھا جاتا ہے۔ پھر جسمانی اور ذہنی تشدد کے وہ تمام طریقے آزمائے جاتے ہیں جو انسان نے دوسرے انسان پر ظلم ڈھانے کے لیے ایجاد کیے ہیں۔ مار پیٹ، برفانی پانی میں ڈبویی، تیز روشنیوں اور شور کا مسلسل استعمال، تنہائی کی کوٹھری... یہ سب کچھ اس لیے نہیں کہ انہیں تکلیف دی جائے، بلکہ اس لیے کہ ان کے عزم کی دھار تیز کی
مقصد واضح ہے: "ہڈیاں ٹوٹ جائیں گی، مگر عزم نہیں۔ زبان چیری جا سکتی ہے، مگر راز نہیں کھلے گا۔" یہ تربیت انہیں یقین دلاتی ہے کہ اگر کبھی وہ اصل جنگ میں پکڑے بھی گئے، تو وہ صرف ایک لاش ہوں گے جو بولتی نہیں۔ ان کی پہچان یہی ناقابل شکست ارادہ
خانہ بدوش سوچتا ہے: یہ کہانی صرف ایک فوجی دستے کی نہیں ہے۔ یہ قوم کے اس لوہے کے ستون کی کہانی ہے جو ہمیشہ اندھیرے میں چمکتا رہتا ہے۔ کنڑ کی وادی میں وہ خنجر صرف ایک میجر کے سینے میں نہیں گھونپا گیا تھا؛ وہ تاریخ کے صفحے پر ایک ایسا نشان تھا جس نے اعلان کر دیا کہ ہمت اور وفا کے کچھ دھنی ایسے بھی ہیں جو پہاڑوں سے ٹکرا کر انہیں ہلا دیتے ہیں۔ 'کالے بگلے' ایک علامت بن گئے – خاموشی، صبر، پھر اچانک اور حتمی حملے کی علامت۔ وہ رات آج بھی ان پہاڑوں میں گونجتی ہے، ایک یاد دہانی کے طور پر کہ کچھ قلعے ایسے بھی ہیں جو نظر نہیں آتے، مگر ٹوٹتے نہیں۔
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
اسپیٹسناز، ایس ایس جی، پاکستان کمانڈوز، بلیک اسٹورکس، کالے بگلے، افغانستان جنگ، سوویت یونین، روسی فوج، کنڑ کی جنگ، خفیہ آپریشن، کمانڈو تربیت، چراٹ کیمپ، خصوصی فورسز، شب خون، گوریلا جنگ، سروائیول ٹریننگ، مزاحمتی تربیت، پاک فوج ایلیٹ، تاریخی واقعہ، فوجی ہیروز، جنگی قصہ، جاسوسی، خنجر، اسنائپر، پیراشوٹ آپریشن، برفانی جنگ، پہاڑی لڑائی، 1980 کی دہائی، سرد جنگ۔
Spetsnaz, SSG Pakistan, Black Storks, Special Services Group, Soviet-Afghan War, Commandos, Elite Forces, Covert Operation, Kurram Valley, Night Raid, Commando Training, Survival Training, Resistance to Interrogation, Chirat Camp, Pakistan Army, Military History, Special Operations, Guerrilla Warfare, Knife Combat, Sniper, Parachute Insertion, Mountain Warfare, 1980s, Cold War, War Story, Military Heroes, Secret Mission, Soviet Union, Red Army, Historical Battle.
