کیا امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ جنگ صرف دو ریاستوں کے درمیان سرحدی تنازعہ ہے یا اس سے بڑھ کر کوئی اور گہرا معاملہ ہے؟ جب ایک امریکی سینیٹر ایران کے رہنما کو "مذہبی نازی" قرار دے ، جب فوجی کمانڈر اپنے دستوں کو یہ بتائیں کہ صدر ٹرمپ کو "یسوع مسیح نے آرماجیڈن کی آگ روشن کرنے کے لیے منتخب کیا ہے" ، اور جب امریکی سفیر بائبل کے حوالوں سے "عظیم تر اسرائیل" کے خواب دیکھے ، تو پھر یہ محض سیاست نہیں رہتی بلکہ مذہب کی ایک خطرناک تفسیر بن جاتی ہے۔
یہ مضمون اسی المیے کا جائزہ لیتا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح مذہبی جنون نے امریکہ اور اسرائیل کی خارجہ پالیسی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، اور کیوں مسلم ممالک کو اس صورت حال پر گہرائی سے غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس تحقیق میں ہم ان بیانات اور واقعات کا تجزیہ کریں گے جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ جنگ محض مفادات کا ٹکراؤ نہیں بلکہ ایک "مقدس جنگ" کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔
باب اول ٫ تمہید - امریکی بیان کا پس منظر
فروری 2026ء میں امریکی سینیٹر ایلیسا سلاٹکن نے مشی گن میں رمضان ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو امریکی عوام پر واضح کرنا چاہیے کہ ان حملوں کا مقصد کیا ہے ۔ لیکن اس موقع پر دو یہودی تنظیموں - جیوش فیڈریشن آف ڈیٹرائٹ اور AIPAC - نے ان حملوں کی کھل کر حمایت کی۔ AIPAC کے بیان میں کہا گیا کہ "ایران کے ہاتھوں امریکی خون ہے" اور انہوں نے 1983ء میں بیروت میں میرینز پر حملے کا حوالہ دیا ۔
یہ صرف ایک سیاسی حمایت نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا مذہبی تصور کارفرما تھا۔ اس سے پہلے جنوری 2026ء میں ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو "مذہبی نازی" قرار دیا اور کہا کہ اگر ایران میں مظاہرین قتل ہوئے تو "ڈونلڈ جے ٹرمپ کا قتل ہوگا" ۔ ان بیانات میں مذہبی اشتعال کی ایک لہر واضح تھی۔
لیکن اصل انکشاف مارچ 2026ء میں ہوا جب ملٹری ریلیجیس فریڈم فاؤنڈیشن (MRFF) نے انکشاف کیا کہ امریکی فوجی کمانڈر اپنے دستوں کو بتا رہے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ "خدا کے منصوبے" کا حصہ ہے۔ ایک نان کمیشنڈ آفیسر نے شکایت درج کرائی کہ ان کے کمانڈر نے کہا: "صدر ٹرمپ کو یسوع مسیح نے ایران میں آرماجیڈن کی آگ روشن کرنے کے لیے منتخب کیا ہے تاکہ مسیح کی واپسی کا راستہ ہموار ہو" ۔ یہ بیانات صرف ایک یونٹ تک محدود نہیں تھے بلکہ MRFF کو 50 فوجی تنصیبات سے 200 سے زائد کالز موصول ہوئیں ۔
اس پس منظر میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا امریکی پالیسی واقعی مذہب سے متاثر ہے یا یہ محض پروپیگنڈہ ہے؟
باب دوم ٫ تاریخی پس منظر - یہودیت، عیسائیت اور اسلام میں مذہبی جنگ کا تصور
جب ہم مذہبی جنگ کی بات کرتے ہیں تو تینوں توحیدی مذاہب میں اس کی مختلف صورتیں موجود ہیں۔ یہودیت میں "ہیرم" کا تصور ہے جس کا مطلب ہے مکمل تباہی اور فنا۔ عہد نامہ قدیم میں بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ وہ کنعان کے شہروں کو مکمل طور پر تباہ کر دیں ۔ عیسائیت میں صلیبی جنگیں اس کی روشن مثال ہیں جب پوپ اربن دوم نے 1095ء میں مسلمانوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ اسلام میں جہاد کا تصور ہے جو اگرچہ بنیادی طور پر نفس کی جنگ ہے، لیکن دفاعی جنگ کی اجازت دیتا ہے ۔
جدید دور میں یہ تصورات مذہبی صیہونیت اور عیسائی صیہونیت میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ مذہبی صیہونی یہ مانتے ہیں کہ اسرائیل کا قیام مسیحا کی آمد کی شرط ہے، جبکہ عیسائی صیہونی سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کی حمایت کرنا بائبل کی پیشگوئیوں کی تکمیل ہے۔
باب سوم ٫ عیسائی صیہونیت اور امریکی سیاست پر اس کے اثرات
امریکہ میں عیسائی صیہونیت کی تحریک بہت مضبوط ہے۔ یہ تحریک سکھاتی ہے کہ یہودیوں کا فلسطین میں جمع ہونا اور یروشلم پر قبضہ مسیح کے دوسرے آنے کی شرط ہے۔ جان ہگی جیسے مبلغین نے ایران پر حملے کو "آخری زمانے کی علامت" قرار دیا ہے ۔
ٹرمپ کے روحانی مشیر پاؤلا وائٹ نے ہمیشہ اسرائیل کی حمایت پر زور دیا ہے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ موجودہ وزیر دفاع پِیٹ ہیگسیتھ، جو خود ایک بنیاد پرست عیسائی ہیں، نے پینٹاگون میں ماہانہ عبادت کی سیریز شروع کر رکھی ہے۔ انہوں نے ڈگ ولسن جیسے مبلغ کو پینٹاگون میں خطاب کی دعوت دی جو ہم جنس پرستی کو جرم قرار دینے اور خواتین کے ووٹ کے حق کے خلاف ہیں ۔
امریکی سفیر مائیک ہکابی تو خود ایک بیپٹسٹ مبلغ ہیں اور کرسچن صیہونی ہیں۔ انہوں نے صراحت سے کہا کہ "خدا نے ابراہیم کے ذریعے یہ سرزمین اپنی منتخب قوم کو دی ہے" اور امریکہ کو چاہیے کہ اسرائیل کو برکت دے، کیونکہ بائبل میں ہے کہ "جو اسرائیل کو برکت دے گا، خدا اسے برکت دے گا" ۔
باب چہارم ٫ "Pax Judaica" اور "Greater Israel" کا خواب
فروری 2026ء میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ٹکر کارلسن کے انٹرویو میں "Pax Judaica" اور "Greater Israel" کے تصور کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا حق ہے کہ وہ "نیل سے فرات تک" کے علاقے پر قبضہ کرے، جس میں اردن، شام، لبنان، سعودی عرب اور عراق کے بڑے حصے شامل ہیں ۔
یہ کوئی نئی بات نہیں۔ صیہونی تحریک کے بانیوں میں سے ایک تھیوڈور ہرزل نے بھی "Nil to Euphrates" کا خواب دیکھا تھا۔ لیکن جب یہ خواب کسی امریکی سفیر کی زبان سے نکلتا ہے، اور وہ بھی بائبل کے حوالے سے، تو یہ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
چودہ مسلم ممالک اور عرب لیگ، OIC اور GCC نے مشترکہ بیان میں ان بیانات کی مذمت کی اور کہا کہ یہ "انتہا پسندانہ بیان بازی" ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہے ۔ سعودی عرب نے اس پر وضاحت طلب کی، اردن نے اسے "اشتعال انگیز" قرار دیا، اور مصر نے اسے بین الاقوامی قانون سے "واضح انحراف" قرار دیا ۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محض مذمت کافی ہے؟
باب پنجم ٫ سینیٹر کرس مرفی کا موقف - امریکی سیاست میں اختلافی آواز
امریکی سینیٹ میں کرس مرفی (کنیکٹیکٹ سے ڈیموکریٹ) نے اس جنگ کی شدید مخالفت کی ہے۔ انہوں نے 4 مارچ 2026ء کو سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ "چھ امریکی اس غیر قانونی جنگ میں مر چکے ہیں جو کوئی نہیں چاہتا۔ نو سو سے ایک ہزار افراد خطے میں مر چکے ہیں۔ امریکی سفارت خانے حملوں کی زد میں ہیں" ۔
مرفی نے خبردار کیا کہ پاکستان میں ہزاروں شیعہ مسلمان احتجاج کر رہے ہیں اور "ایک شیعہ شورش امریکہ کے خلاف بن رہی ہے" ۔ انہوں نے عراق اور افغانستان کی مثالیں دیں کہ کس طرح امریکہ نے وہاں تباہی مچائی اور آخر کار طالبان دوبارہ برسراقتدار آ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ فضائی حملوں سے کوئی انقلاب نہیں آتا، اس کے لیے زمینی فوج درکار ہوتی ہے۔
ان کا سب سے اہم نکتہ یہ تھا کہ "اس جنگ کی وجہ کیا ہے؟ آدھی انتظامیہ کہتی ہے کہ اسرائیل نے ہمیں گھسیٹا، آدھی کہتی ہے کہ ہم خود آئے" ۔ یہ ابہام خطرناک ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید اصل وجوہات وہ نہیں جو بتائی جا رہی ہیں۔
باب ششم ٫ رمضان کے مہینے میں جنگ - مذہبی علامتوں کا تصادم
یہ جنگ رمضان المبارک کے مہینے میں شروع ہوئی، جو مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس مہینہ ہے۔ احمدیہ مسلم کمیونٹی کے عوامی امور کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نصیر بخاری نے کہا کہ جب امریکی حملے ہوئے تو رمضان کا بارھواں دن تھا، جب مسلمان روزہ رکھتے ہیں اور عبادت میں مشغول ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "جب بھی انسانی جان کا نقصان ہوتا ہے، ہم فکرمند ہوتے ہیں اور دعا کرتے ہیں" ۔
سینیٹر سلاٹکن نے رمضان ڈنر میں کہا کہ "رمضان کی قدریں - خیرات، عکاسی، فضیلت - وہ چیزیں ہیں جو یہ کمیونٹی پوری مشی گن کو سکھا سکتی ہے" ۔ لیکن یہ الفاظ اس وقت کتنے بامعنی ہیں جب امریکی بم اسی مہینے میں ایران پر گر رہے ہیں؟
یہ کوئی اتفاق نہیں کہ جنگ رمضان میں شروع ہوئی اور امریکی کمانڈر اپنے دستوں کو آرماجیڈن کا درس دے رہے ہیں۔ یہ مذہبی علامتوں کا تصادم ہے - اسلامی مہینہ صیام بمقابلہ عیسائی تصور قیامت۔
باب ہفتم ٫ مسلم ممالک کا ردعمل - سرکاری بیانات بمقابلہ عوامی جذبات
جب ہکابی کے بیانات سامنے آئے تو مسلم ممالک نے سخت ردعمل دیا۔ سعودی عرب نے انہیں "ناقابل قبول" قرار دیا ۔ 14 مسلم ممالک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ بیانات "انتہا پسندانہ ہیں اور سفارتی اصولوں کے خلاف ہیں" ۔
لیکن عوامی سطح پر جذبات کہیں زیادہ شدید ہیں۔ کرس مرفی نے سینیٹ میں بتایا کہ "پاکستان میں ہزاروں شیعہ مسلمان احتجاج کر رہے ہیں - ایک شیعہ شورش امریکہ کے خلاف بن رہی ہے" ۔
انڈونیشیا، ملائیشیا، ترکی جیسے ممالک نے بھی ان بیانات کی مذمت کی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان ممالک نے امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کیے؟ نہیں۔ انہوں نے اقتصادی پابندیاں لگائیں؟ نہیں۔ مسلم ممالک کا ردعمل ابھی تک محض زبانی احتجاج تک محدود ہے۔
باب ہشتم ٫ مسلم ممالک کے لیے لائحہ عمل - کیا کیا جائے؟
مسلم ممالک کو اب محض بیانات دینے سے آگے بڑھ کر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ مندرجہ ذیل نکات اس سلسلے میں اہم ہیں:
1. " اتحاد " مسلم ممالک میں پہلے سے زیادہ اتحاد درکار ہے۔ OIC کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ سعودی ایران تنازعہ ختم کرنا ہوگا تاکہ متحدہ محاذ بن سکے۔
2. " اقتصادی طاقت " مسلم ممالک کے پاس تیل کی دولت ہے، آبادی ہے، اور بڑی مارکیٹ ہے۔ اگر وہ اقتصادی طاقت کو استعمال کریں تو امریکہ کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی پڑے گی۔
3. " سفارتی حکمت عملی " اقوام متحدہ میں مذمتی قراردادیں لانی چاہئیں۔ بین الاقوامی عدالت انصاف میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مقدمہ دائر کیا جائے۔
4. " میڈیا " مغربی میڈیا میں مسلم نقطہ نظر پیش کرنا ہوگا۔ عیسائی صیہونیت کے خطرات کو اجاگر کیا جائے۔
5. " تعلیم " مسلم نوجوانوں کو اپنے مذہب کی صحیح تعلیم دی جائے تاکہ وہ انتہا پسندی کا شکار نہ ہوں، بلکہ اعتدال پر رہیں۔
6. " سائنس اور ٹیکنالوجی " مغرب پر انحصار کم کرنے کے لیے مسلم ممالک کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں خودکفیل ہونا ہوگا۔
باب نہم٫ مسلم ممالک کو کیا سوچنا چاہیے؟
مسلم ممالک کو درج ذیل نکات پر غور کرنا ہوگا:
" پہلا نکتہ " یہ جنگ دراصل اسلام اور مغرب کی جنگ نہیں ہے، بلکہ بنیاد پرست عیسائیت اور یہودیت کے خلاف ہے جو اسلام کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔
" دوسرا نکتہ " مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر موجود انتہا پسندی کو ختم کریں۔ جب تک مسلم ممالک میں دہشت گردی اور فرقہ واریت ختم نہیں ہوگی، مغرب میں یہ پروپیگنڈہ کامیاب رہے گا کہ اسلام دہشت گردی کا مذہب ہے۔
" تیسرا نکتہ " مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل میں موجود ان آوازوں کی حمایت کریں جو اس جنگ کی مخالفت کر رہی ہیں۔ سینیٹر کرس مرفی جیسے لوگوں کو مسلم ممالک کی حمایت حاصل ہونی چاہیے ۔
" چوتھا نکتہ " مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ بین المذاہب مکالمہ کو فروغ دیں۔ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ مکالمہ ضروری ہے تاکہ انہیں بتایا جائے کہ اسلام ان کا دشمن نہیں ہے۔
" پانچواں نکتہ " مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ فلسطین کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ مسئلہ جب تک حل نہیں ہوگا، مذہبی جنون ختم نہیں ہوگا۔
" چھٹا نکتہ " مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے عوام کو بہتر زندگی دیں۔ جب عوام مطمئن ہوں گے، تو وہ مذہبی جنون کا شکار نہیں ہوں گے۔
باب دہم:
مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے
جب ہم ان تمام واقعات کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک خطرناک تصویر ابھرتی ہے۔ امریکی کمانڈر اپنے فوجیوں کو بتا رہے ہیں کہ وہ آرماجیڈن کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ امریکی سفیر بائبل کے حوالے سے مشرق وسطیٰ کو "عظیم تر اسرائیل" قرار دے رہے ہیں ۔ سینیٹر ایران کے خلاف "مذہبی نازی" جیسی اصطلاحات استعمال کر رہے ہیں ۔
یہ صرف سیاسی تنازعہ نہیں ہے، یہ ایک مذہبی جنگ ہے جو اسلام اور یہودیت عیسائیت کے درمیان نہیں ہے، بلکہ بنیاد پرست عیسائی اور یہودی عناصر اور مسلم دنیا کے درمیان ہے۔ لیکن مسلم ممالک کو سمجھنا ہوگا کہ ان کے پاس صرف دو راستے ہیں: یا تو وہ متحد ہو کر اس چیلنج کا مقابلہ کریں، یا پھر تقسیم در تقسیم کا شکار ہو کر مزید کمزور ہوتے جائیں۔
سینیٹر مرفی نے سینیٹ میں کہا کہ "تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ فضائی مہم سے کوئی ظالم حکومت نہیں گرتی، بلکہ جو ہونے والا ہے وہ یہ ہے کہ ایران میں مزید سخت گیر حکومت آئے گی اور امریکہ مزید برسوں اس جنگ میں الجھا رہے گا" ۔ یہ الفاظ نہ صرف امریکیوں کے لیے بلکہ مسلم ممالک کے لیے بھی سوچنے کا مقام ہیں۔
رمضان میں روزہ رکھنے والے مسلمانوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ وہ صبر اور عکاسی کا مظاہرہ کریں ۔ لیکن عکاسی کا مطلب یہ نہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں۔ عکاسی کا مطلب ہے کہ صورتحال کا جائزہ لیں، غلطیوں سے سبق سیکھیں، اور مستقبل کے لیے بہتر حکمت عملی بنائیں۔
آخر میں، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا واقعی یہ مذہبی جنگ ہے؟ اگر امریکی کمانڈر اپنے فوجیوں کو آرماجیڈن کا درس دے رہے ہیں، تو یقیناً یہ مذہبی جنگ ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تمام عیسائی اور یہودی اس جنگ کے حامی ہیں۔ جس طرح مسلمانوں میں انتہا پسند اور اعتدال پسند دونوں ہیں، اسی طرح عیسائیوں اور یہودیوں میں بھی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اعتدال پسند عناصر اکٹھے ہوں اور انتہا پسندی کو شکست دیں۔
مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ اس موقع پر غور کریں اور ایک مربوط حکمت عملی بنائیں۔ ورنہ تاریخ ان سے یہ سوال ضرور کرے گی کہ جب وہ بتائے جا رہے تھے کہ یہ مذہبی جنگ ہے، تو تم نے کیا کیا؟
حوالہ جات
1. The Detroit News: Slotkin addresses Iran strikes at Ramadan event as Jewish groups weigh in (February 28, 2026)
2. The Daily Beast: Troops Reveal Trumpy Commanders‘ Bonkers Reasons for War (March 2, 2026)
3. Austin Peay State University: HIST 5016 - The Battle for God: Jihad, Herem and Other Theologies of War and Peace
4. WION: Arab and Muslim nations condemn US ambassador’s ’Greater Israel’ remarks, demand clarification (February 22, 2026)
5. Republic World: 'Religious Nazi Who Kills His Own People': US Senator On Iran's Khamenei; Warns Of Lethal Strikes (January 9, 2026)
6. Asianet Newsable: "Prepare for Jesus" – Trump's US Commanders Spark Outrage With Armageddon Prophecy in Iran War Briefing (March 3, 2026)
7. Dallas Public Library: Holy War in Judaism, Christianity, and Islam
8. RT International: Muslim states condemn US envoy over remarks on Israel's 'biblical rights' (February 22, 2026)
9. U.S. Senator Chris Murphy: Murphy on Trump's Illegal War with Iran (March 4, 2026)
10. nj.com: US troops were told Trump was 'anointed by Jesus' to start a war with Iran, watchdog says (March 2, 2026)
حوالہ جات (Bibliography) وہ تمام ذرائع ہیں جو میرے اس مضمون "کیا امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ مذہبی جنگ ہے؟" میں استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ خبری ویب سائٹس، یونیورسٹی کے کورسز اور سرکاری بیانات پر مشتمل ہیں۔ ذیل میں ان کی تفصیل اور مضمون میں ان کے استعمال کی وضاحت پیش ہے۔
---
| باب نمبر | باب کا عنوان | حوالہ جات (Citations) | حوالہ کی تفصیل |
| :--- | :--- | :--- | :--- |
| باب اول | تمہید - امریکی بیان کا پس منظر | | ڈیٹرائٹ نیوز کی رپورٹ: سینیٹر ایلیسا سلاٹکن کا رمضان ڈنر میں خطاب اور یہودی تنظیموں (AIPAC, Jewish Federation) کے ایران پر حملوں کی حمایت کے بیانات۔ |
| | | | دی ڈیلی بیسٹ / MRFF کی رپورٹ: امریکی فوجی کمانڈرز کا اپنے دستوں کو ایران کے خلاف جنگ کو "خدا کے منصوبے" اور "آرماجیڈن" سے جوڑنا۔ |
| باب دوم | تاریخی پس منظر - یہودیت، عیسائیت اور اسلام میں مذہبی جنگ کا تصور | | آسٹن پے اسٹیٹ یونیورسٹی کا کورس (HIST 5016): "The Battle for God: Jihad, Herem and Other Theologies of War and Peace" جو یہودیت، عیسائیت اور اسلام میں مقدس جنگ کے تصورات کی وضاحت کرتا ہے۔ |
| | | | آسٹن پے اسٹیٹ یونیورسٹی کا ایک اور کورس (PHIL 380C): "The Battle of God" جو تینوں مذاہب میں جنگ اور امن کے نظریات کا جائزہ لیتا ہے۔ |
| باب سوم | عیسائی صیہونیت اور امریکی سیاست پر اس کے اثرات | | MRFF کی رپورٹ میں وزیر دفاع پِیٹ ہیگسیتھ کے پینٹاگون میں مذہبی تقریبات اور ڈگ ولسن جیسے مبلغ کو دعوت دینے کا ذکر۔ |
| باب چہارم | "Pax Judaica" اور "Greater Israel" کا خواب | | WION نیوز کی رپورٹ: امریکی سفیر مائیک ہکابی کا ٹکر کارلسن کو انٹرویو، "Pax Judaica" اور "Greater Israel" (نیل سے فرات تک) کے تصور کی حمایت اور مسلم ممالک کا ردعمل۔ |
| | | | Euronews کی رپورٹ: 14 عرب اور مسلم ممالک کا ہکابی کے بیانات پر مشترکہ احتجاج اور اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دینا۔ |
| | | | The Vibes کی رپورٹ: ہکابی کے "بائبلیائی حقوق" والے بیان پر سعودی عرب، اردن، کویت، مصر وغیرہ کے انفرادی اور اجتماعی ردعمل۔ |
| | | | Daily The Patriot کی رپورٹ: پاکستان سمیت 13 ممالک کا ہکابی کے بیانات پر مشترکہ بیان اور اسرائیل کی توسیع پسندی کی مذمت۔ |
| باب پنجم | سینیٹر کرس مرفی کا موقف - امریکی سیاست میں اختلافی آواز | | سینیٹر کرس مرفی کا سینیٹ میں ایران کے خلاف غیر قانونی جنگ پر تقریر کا حوالہ (حوالہ نمبر 9 مضمون میں)۔ اگرچہ یہ سرچ ریزلٹس میں براہ راست نہیں ہے، یہ مضمون میں موجود ایک علیحدہ حوالہ ہے۔ |
| باب ششم | رمضان کے مہینے میں جنگ - مذہبی علامتوں کا تصادم | | ڈیٹرائٹ نیوز کی رپورٹ میں احمدیہ مسلم کمیونٹی کے عوامی امور کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نصیر بخاری کا بیان کہ حملے رمضان کے 12ویں روز ہوئے۔ |
| باب ہفتم| مسلم ممالک کا ردعمل - سرکاری بیانات بمقابلہ عوامی جذبات | | WION کی رپورٹ میں سعودی عرب اور 14 مسلم ممالک کے مشترکہ بیان کا حوالہ۔ |
| | | | Euronews کی رپورٹ میں مسلم ممالک کے ردعمل کی تفصیلات۔ |
| | | | The Vibes کی رپورٹ میں مختلف ممالک کے ردعمل کا خلاصہ۔ |
| | | | Daily The Patriot میں پاکستان سمیت ممالک کے ردعمل کی تفصیل۔ |
| باب نہم| مسلم ممالک کو کیا سوچنا چاہیے؟ | | سینیٹر کرس مرفی کا حوالہ۔ |
| باب دہم| - مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے | | سینیٹر سلاٹکن کا رمضان کے حوالے سے بیان۔ |
| | | | فوجی کمانڈرز کا آرماجیڈن والا بیان۔ |
| | | | سفیر ہکابی کا "عظیم تر اسرائیل" والا بیان۔ |

