یہ غازی یہ تیرے پرسرار بندے
ایس ایس جی ٹریننگ سینٹر کے باہر نصب وہ سنگ میل محض پتھر اور رنگ کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک نظریے کا مجسم اعلان ہے۔ اس پر کندہ یروشلم، دہلی اور سری نگر کے فاصلے کسی جغرافیائی سبق سے زیادہ، تربیت پانے والے ہر کمانڈو کے ذہن و روح میں ایک مقصد کی تخم ریزی کرتے ہیں۔ یہ مقصد صرف جغرافیائی حدود کا دفاع نہیں، بلکہ ان اصولوں، نظریات اور امتوں سے وابستگی کا اظہار ہے جن کے تحفظ کی ذمہ داری ایک سپاہی اپنے کندھوں پر محسوس کرتا ہے۔ یہاں، پتھر پر لکھے گئے یہ عدد درحقیقت ایمان کے پیمانے ہیں، جو یہ باور کرانے آئے ہیں کہ ایک سپاہی کی نظریں محض سرحدی چوکیوں تک محدود نہیں، بلکہ عالمی سطح پر ہونے والے مظالم اور ناانصافیوں کو بھی دیکھتی اور پرکھتی ہیں۔
تاہم، اسی مقدس فریضہ شناسی اور جذبۂ حریت کو ایک مخصوص گروہ، جسے تحریر میں "ابن ابی منافق گروپ" سے تعبیر کیا گیا ہے، اپنی سیاسی و نظریاتی اغراض کے لیے مسخ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ ان کا الزام عجیب paradox ہے: وہ پاک فوج کو امریکی ایجنٹ قرار دیتے ہوئے یہ پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں کہ اگر وہ فلسطین جاتی ہے تو وہ درحقیقت امریکی اور صیہونی مفادات کی تکمیل کرے گی۔ یہ نکتہ غور طلب ہے کہ جو گروہ خود ممکنہ طور پر بیرونی اخراجات اور ایجنڈے پر چل رہا ہو، وہ اپنے دفاع اور مقبولیت کے لیے قومی اداروں کو ہی بیرونی طاقتوں کا آلۂ کار ثابت کرنے میں مصروف ہے۔ یہ بالکل وہی نفاق ہے جس کی طرف قرآن مجید میں واضح اشارہ ملتا ہے: "اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ یاد رکھو! یہی لوگ فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں" (سورۃ البقرہ: 11-12)۔ ان کے الفاظ "اصلاح" کے ہوتے ہیں، مگر ان کی حرکات، ان کے تعلقات اور ان کا پروپیگنڈا اکثر و بیشتر انتشار، بداعتمادی اور قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
ایس ایس جی کے سنگ میل کی علامت کے پیچھے حقیقت
اس بورڈ کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے پیچھے کارفرما فکری اور نظریاتی ڈھانچے کو دیکھنا ہوگا۔ پاکستان کی مسلح افواج، بالخصوص اس کی ایلیٹ فورسز، کی تربیت محض جسمانی مشقوں اور ہتھیار چلانے تک محدود نہیں۔ اس تربیت کا ایک اہم ستار نظریاتی علم اور جہادی جذبے کی افزائش ہے۔ یروشلم کا نام اس بورڈ پر اس لیے ہے کہ وہ اسلام کے قبلہ اول کی علامت ہے، جس پر صیہونی قبضہ عالم اسلام کے لیے ایک دائمی زخم ہے۔ یہ نام کمانڈو کے دل میں امت مسلمہ سے وابستگی اور مقبوضہ فلسطین کی آزادی کی تڑپ کو زندہ رکھتا ہے۔ دہلی کا نام کشمیر کی نہ ختم ہونے والی دردناک داستان، اس پر بھارت کے غیرقانونی تسلط، اور وہاں کے عوام پر ہونے والے مظالم کی یاد دہانی کراتا ہے۔ سری نگر کشمیر کا دل ہے، جس کی آزادی پاکستانی قوم کے نظریے کا مرکز ہے۔
یہ بورڈ، درحقیقت، ایک "نظریاتی کمپاس" ہے۔ یہ تربیت کے سخت ترین اوقات میں، جب جسم تھک کر چور ہو رہا ہوتا ہے، سپاہی کو یہ یاد دہانی کرانے کے لیے ہے کہ وہ محض ایک فوجی نہیں، بلکہ ایک مقصد کا حامل مجاہد ہے۔ اس کی جدوجہد محض تنخواہ یا ملازمت کے لیے نہیں، بلکہ ایک اعلیٰ تر نظریے، یعنی اسلام کی حفاظت، مظلوم مسلمانوں کی حمایت اور وطن کی سرزمین کے دفاع کے لیے ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو پاک فوج کے جوان کو دنیا کی بہترین فوجیوں میں سے ایک بناتا ہے۔
پروپیگنڈے کا جال اور "امریکی ایجنٹ" کا نعرہ
"ابن ابی منافق گروپ" یا ان جیسے دیگر عناصر، جو مختلف پلیٹ فارمز پر سرگرم ہیں، اسی جذبے اور نظریاتی وابستگی کو مشکوک بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا مرکزی ہتھیار "امریکی ایجنٹ" یا "غلام فوج" کا لیبل لگانا ہے۔ یہ ایک پرانا، مگر اکثر مؤثر رہنے والا، پروپیگنڈا طریقہ ہے۔ اس کے پیچھے درج ذیل مقاصد کارفرما ہوسکتے ہیں:
1. قومی یکجہتی کو کمزور کرنا
پاک فوج ملک کی سب سے منظم اور سب سے زیادہ بااعتماد قومی ادارہ ہے۔ اس پر اعتماد کو مجروح کر کے پورے معاشرے میں انتشار اور بداعتمادی پھیلائی جاسکتی ہے۔
2. عوامی توجہ ہٹانا
جب قوم کسی بیرونی دشمن یا داخلی بحران کی بجائے اپنے ہی محافظ اداروں کے بارے میں شکوک و شبہات میں الجھی ہو، تو اس کے اصل مسائل اور ان کے پیچھے کارفرما حقیقی عناصر پردے کے پیچھے چھپے رہتے ہیں۔
3. بیرونی ایجنڈے کی تکمیل
یہ گروہ خود بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لیے کام کر رہے ہوں گے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے جس کی جغرافیائی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اسے غیرمستحکم اور اندرونی کشمکش میں مبتلا کرنا خطے میں کئی طاقتوں کے مفاد میں ہے۔ اپنے آپ کو "اصلاح کار" ظاہر کرتے ہوئے قومی دفاعی مراکز پر حملہ کرنا درحقیقت انہی طاقتوں کے ایجنڈے کی تکمیل ہے۔
4. نظریہ پاکستان کو مسخ کرنا
پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا۔ پاک فوج کا نظریاتی تربیتی بورڈ اسی نظریے کی عکاسی کرتا ہے۔ اسے "امریکی ایجنٹ" ثابت کرنا درحقیقت پاکستان کے قیام کے بنیادی مقصد ہی پر حملہ ہے۔
فلسطین کا معاملہ جذبات کا استحصال
فلسطین کا معاملہ پوری امت مسلمہ کے جذبات کا مرکز ہے۔ پاک فوج کے ہر فرد کا دل بھی فلسطینیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ تاہم، ایک ریاست کی حیثیت سے فوجی مداخلت ایک پیچیدہ جیوپولیٹیکل فیصلہ ہے، جس میں لاکھوں عوامل کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ پاک فوج حکومت کی پالیسی کا تابع ہے۔ پروپیگنڈا کرنے والے اس پیچیدہ حقیقت کو نظرانداز کرتے ہوئے، محض جذباتی نعروں سے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ "فوج نہیں جا رہی، کیونکہ وہ امریکہ کی ایجنٹ ہے۔" یہ انتہائی سطحی اور گمراہ کن تجزیہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاک فوج نے تاریخ میں کبھی بھی مسلم ممالک کے خلاف جنگ میں امریکہ یا کسی اور طاقت کا ساتھ نہیں دیا۔ بلکہ، اس نے بوسنیا، سربیا کے خلاف اقوام متحدہ کی امن فوج میں حصہ لے کر مسلمانوں کی حفاظت کی کوشش کی ہے۔ فلسطین کے معاملے پر پاکستان ہمیشہ سفارتی، اخلاقی اور اخلاقی سطح پر فلسطینیوں کے موقف کی مکمل حمایت کرتا آیا ہے۔ افواج کی تیاری اور نظریہ سازی میں فلسطین کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جیسا کہ ایس ایس جی کے بورڈ سے ظاہر ہے۔ مگر کسی ملک کی فوج کو بلا سوچے سمجھے کسی دوسرے خطے میں اترنے کا مشورہ دینا فوجی علمیت نہیں، بلکہ جذباتی بے وقوفی ہے۔
قرآنی تناظر اور مفسدین کا روپ
قرآن مجید نے منافقین کے اس رویے کو واضح الفاظ میں بیان کیا ہے۔ وہ اپنے آپ کو مصلح، راہنماء اور حق بات کرنے والا ظاہر کرتے ہیں۔ ان کی زبان پر ملک و قوم کی محبت، اسلام کی خدمت اور نظام کی اصلاح کے نعرے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کا اصل ہدف انتشار پھیلانا، لوگوں کے درمیان پھوٹ ڈالنا، اور قومی طاقت کے مراکز کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔ ان کی "اصلاح" درحقیقت "فساد" کا پردہ ہوتی ہے۔
آج کے دور میں "ابن ابی منافق گروپ" یہی کام کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا، یوٹیوب چینلز، اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے وہ مسلسل زہر اگلتے ہیں۔ وہ قومی ہیروز پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہیں، قومی اداروں کے خلاف توہین آمیز بیانات دیتے ہیں، اور عوام کو یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کا راستہ ہی نجات کا راستہ ہے۔ وہ اپنے آپ کو "سچا مسلمان" اور "حقیقی محب وطن" قرار دے کر دوسروں کو غدار اور ایجنٹ ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ یہی وہ "فساد فی الارض" ہے جس سے قرآن نے ڈرایا ہے۔
شعور، یکجہتی اور تحقیق کی ضرورت
ایس ایس جی کے بورڈ پر لکھے یروشلم، دہلی اور سری نگر کے نام قومی عزم کی علامت ہیں۔ یہ عزم امریکہ یا کسی اور طاقت کے مفادات کے تابع نہیں، بلکہ پاکستان کے نظریے اور امت مسلمہ سے وابستگی کا اظہار ہے۔ اس عزم کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے والے گروہوں کے بارے میں ہمیں قرآن مجید کی روشنی میں سوچنا چاہیے۔
عوام الناس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات یا وائرال ہونے والی ویڈیو پر یقین کرنے کی بجائے تحقیق اور غور و فکر سے کام لیں۔ قومی اداروں، بالخصوص افواج پاکستان، کی قربانیوں اور تاریخ کو جاننے کی کوشش کریں۔ ان پروپیگنڈا گروپوں کے مالیاتی ذرائع، ان کے پس پردہ تعلقات اور ان کے طویل مدتی مقاصد پر نظر رکھیں۔
پاک فوج اسی قوم کا حصہ ہے۔ اس کے جوان ہمارے بھائی، بیٹے اور باپ ہیں۔ ان کی نظریاتی تربیت انہیں محب وطن اور امت مسلمہ کا درد رکھنے والا بناتی ہے۔ اس تربیت اور عزم پر شک و شبہ کا اظہار درحقیقت ہماری اپنی سلامتی اور ہمارے قومی نظریے پر خود کیا گیا وار ہے۔ آئیں، ہم قرآن کی اس نصیحت پر عمل کریں کہ "اور جو تمہارے پاس خبر لائے اس کی تحقیق کر لیا کرو" (سورۃ الحجرات: 6)، اور ان مفسدین کے جال میں پھنسنے سے بچیں جو "اصلاح" کے نام پر ملک و قوم میں فساد برپا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ حقیقی اصلاح تو وہ ہے جو قومی یکجہتی کو مضبوط، اداروں کی عزت کو بحال، اور ملک کی سلامتی کو مستحکم کرے۔ اور یہ کام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
📚 اس مضمون کا انگریزی نسخہ پڑھیں
Read in EnglishEnglish version includes detailed analysis and references

