بوسنیا کی آزادی میں پاکستانی افواج کا وہ خاموش مگر پراثر کردار جو تاریخ کا حصہ بن گیا
> "اگر پاکستان نہ ہوتا تو شاید ہم قوم کے طور پر ختم ہو چکے ہوتے۔" — یہ الفاظ بوسنیا کے ایک سابق صدر نے پاکستانی فوج کی قربانیوں کے اعتراف میں کہے تھے ۔
جب یورپ کے دل میں بوسنیا کے مسلمانوں کی نسل کشی کا تاریک باب لکھا جا رہا تھا اور دنیا کی اکثر نظریں اِدھر سے ہٹی ہوئی تھیں، ایک ایسا ملک تھا جس نے اپنے محدود وسائل کے باوجود بھی بوسنیا کے لیے وہ تمام کچھ کیا جس کی اسے سب سے زیادہ ضرورت تھی: عملی مدد، اخلاقی حمایت اور مایوسی کے عالم میں امید کی کرن۔ یہ ملک پاکستان تھا۔
1. ایک المناک پس منظر
1992 میں، جیسے ہی یوگوسلاویہ ٹوٹا اور بوسنیا نے آزادی کا اعلان کیا، ایک خوفناک جنگ کا آغاز ہو گیا ۔ بوسنیا کے مسلمان (بوشنیاک) سرب ملیشیا کے نرغے میں آ گئے۔ سرائیوو کا محاصرہ جدید تاریخ کا طویل ترین شہری محاصرہ بن گیا، جہاں شہریوں کو باقاعدہ نشانہ بنایا گیا ۔ ریپ کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا اور سربینیٹسا میں صرف ایک ہی دن میں آٹھ ہزار سے زیادہ مسلمان مردوں کا قتلِ عام ہوا ۔ اس وقت کے بوسنیائی صدر علی عزت بیگووچ نے کہا کہ یہ وہ وقت تھا جب پوری دنیا ان سے منہ موڑ چکی تھی۔
2. پاکستان کا ردِ عمل — الفاظ سے زیادہ عمل
ایسے میں پاکستان نے وہ کردار ادا کیا جس نے بوسنیائی عوام کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے اپنی جگہ بنا لی۔ یہ کردار تہہ دار اور جامع تھا:
* فوری اور واضح سیاسی حمایت پاکستان نے بوسنیا کی آزادی کو فوری طور پر تسلیم کیا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہو گئے ۔ عالمی فورمز پر پاکستان نے بوسنیا کے حق میں آواز بلند کی اور اقوام متحدہ کی طرف سے بوسنیا پر عائد اسلحہ پابندی کو "غیر قانونی" قرار دیا ۔
* اقوام متحدہ کے امن مشن (UNPROFOR) میں عملی شراکت پاکستان نے 3,000 فوجیوں پر مشتمل ایک بڑا دستہ بوسنیا بھیجا ۔ یہ تعیناتی صرف ایک عدد نہیں تھی۔ دیگر ممالک کے فوجی جہاں خطرات سے گھبراتے تھے، پاکستانی جوانوں نے خطرناک ترین علاقوں میں گشت جاری رکھا، ریپ کیمپوں سے عورتوں کو رہا کرایا اور سرب ٹینکوں کے سامنے بھی ڈٹے رہے ۔ ایک سرب رپورٹ میں لکھا گیا کہ "صرف پاکستانی تھے جو مقابلہ کرتے تھے۔ باقی تو چھپ جاتے تھے۔"
* خفیہ فوجی مدد کا معروف بیانیہ کئی تاریخی شواہد اور رپورٹس یہ بتاتی ہیں کہ پاکستان کی فوجی انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) نے اقوام متحدہ کی پابندی کے باوجود بھی، بوسنیا کی فوج (ARBiH) کو جدید اینٹی ٹینک میزائل اور دیگر اسلحہ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مدد جنگ کے پانسے پلٹنے میں اہم ثابت ہوئی۔ پاکستان کے اس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ جنرل جاوید ناصر نے بعد ازاں اس بات کا اعتراف بھی کیا ۔
* انسانی ہمدردی کا پیکج پاکستان نے ہزاروں بوسنیائی پناہ گزینوں کو اپنے ہاں پناہ دی، جو ترکی اور اردن کے بعد تیسرا سب سے بڑا اسلامی میزبان ملک تھا ۔ حکومتی اور عوامی سطح پر ادویات، خوراک اور امدادی سامان کی فراہمی جاری رہی۔
3. ناقابلِ فراموش قربانیاں اور تجربہ کار قیادت
اس راستے پر پاکستان نے اپنا خوں بھی دیا۔ چھ پاکستانی امن فوجی بوسنیا کے مشن میں شہید ہوئے ۔ ان میں سے ایک میجر نے ایک معصوم بچے کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی ۔ بوسنیا میں آج بھی پاکستانی شہداء کی قبریں موجود ہیں اور مقامی لوگ ان پر احتراماً پھول چڑھاتے ہیں ۔
بعد ازاں، پاکستان کے سابق سفیر برائے بوسنیا میجر جنرل (ر) خالد عامر جعفری جیسے افسران نے اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعے بوسنیا میں ہونے والے مظالم کی بین الاقوامی سطح پر گواہی دی، تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں ۔
4. جنگ کے بعد — پائیدار بھائی چارے کی بنیادیں
جنگ ختم ہونے کے بعد پاکستان کا تعاون ختم نہیں ہوا، بلکہ ایک نئی شکل اختیار کر گیا:
* دفاعی و معاشی تعاون دونوں ممالک نے باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے اور آزاد تجارتی معاہدے پر کام شروع کیا ۔ پاکستان نے بوسنیا کو دفاعی سازوسامان فراہم کیا ۔
* باہمی احترام کا تبادلہ جب 2005 میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلہ آیا، تو __بوسنیائی اسکول کے بچوں نے چندہ جمع کر کے وہاں ایک اسکول اور صحت مرکز بنانے میں مدد کی ۔ بوسنیا کے سفیر نے واضح کیا کہ یہ پاکستان کے اس وقت کے احسان کا اعتراف تھا ۔
* ثقافتی ربط آج بوسنیا میں پاکستان ایک محترم نام ہے۔ پاکستانی امن دستوں کو یاد کیا جاتا ہے اور عام بوسنیائی باشندے پاکستانیوں کو اپنے بھائی کے طور پر جانتے ہیں ۔
5. خاموش لیکن لازوال اثر
بوسنیا کی جنگ میں پاکستان کا کردار روایتی فاتحانہ انداز کا نہیں تھا۔ یہ ایک ایسے دوست کا کردار تھا جو خاموشی سے، مستقل مزاجی سے اور بے لوث ہو کر ایک مظلوم قوم کے ساتھ کھڑا رہا۔ اس نے عالمی سیاسی دباؤ کے باوجود عملی اقدامات کیے، اپنے جوانوں کی قربانی دی اور طویل مدتی بھائی چارے کی بنیاد رکھی۔
یہی وجہ ہے کہ آج، دہائیوں بعد بھی، بوسنیا کے لوگ پاکستان کی عزت کرتے ہیں ۔ وہ اپنے بچوں کو بتاتے ہیں کہ مشکل ترین وقت میں پاکستان نے ان کی مدد کی ۔ یہ نہ صرف دو ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی کہانی ہے، بلکہ انسانی ہمدردی، مذہبی یکجہتی اور بے غرض قربانی کی ایک ایسی داستان ہے جو تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔
بوسنیا کے اس سفر نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ایک اہم پہلو کو واضح کیا: "پاکستان ہمیشہ دنیا بھر میں مظلوم اور مقہور عوام کی مادی و اخلاقی حمایت کے لیے کوشاں رہے گا۔" ۔ بوسنیا کی آزادی میں اس کا کردار اسی وعدے کا زندہ اور پراثر ثبوت ہے۔
📚 اس مضمون کا انگریزی نسخہ پڑھیں
Read in EnglishEnglish version includes detailed analysis and references



