پاکستان کی ضرورت نظریہ پاکستان ہے جمہوریت نہیں
پاکستان کی ضرورت نظریہ پاکستان ہے جمہوریت نہیں
لیکن افسوس ! ان سیاسی مداریوں کیوجہ سے آج تک ہم پر ایک باطل جمہوری نظام مسلط ہے جو دراصل divide into rule والا فارمولا ہے کہ تقسیم کرو اور حکومت کروں۔ اس باطل جمہوری نظام اور جمہوروں کیوجہ سے ہم ہر پوائنٹ پر تقسیم ہوۓ ہیں (پارٹیوں ,فرقوں میں) اور ترقی نہیں کرسکتے۔ حالانکہ اسلام ہمیں اتفاق و اتحاد اور اجتماعیت کا درس دیتا ہے۔
ان سیاسی مداریوں سے مزید خیر کی امید نہیں رکھنا چاہۓ یہ سب ایک ہیں ایک ہی نظریہ جمہوریت کے پیروکار ہے سب کو موقع ملا کسی نے بھی اس باطل جمہوری نظام سے بائیکاٹ نہیں کیااور نظام اسلام کے نفاذ کا نعرہ نہیں لگایا۔ کہیں جیۓ بٹھو کے نعرے ہیں تو کہیں شریف لٹیروں کے کہیں خان ہے کہیں مولانا وغیرہ ۔ ان سیاسی مداریوں کے کچھ سیاسی زومبیز انکے گرد بھنگڑے ڈالے ہیں سیاسی خاندانی قیدی و غلام۔
کیا آپ ان سیاسی مداریوں کے خاندانی غلامی کےلۓ پیدا کیے گۓ ہوں؟ آج یہ ہیں کل انکی اولاد ہوگی یا ان کیطرح کوئی اور جمہوریت پسند ظالم لوگ آپ پر مسلط ہونگے ۔ خدا نے عقل دی سوچنے اور سمجھنے کو, ایک نہیں دو آنکھیں دی دیکھنے کو,ایک نہیں دو کان دیئے سننے اور راہ کا تعین کرنے کےلۓ۔ کیا اللّہ نے تمہیں ان سیاسی مداریوں کے ہر الٹے سیدھے کاموں پر تالیاں بجانے اور بھنگڑا ڈالنے کےلۓ پیدا کیا ہے؟ کیا یہ جمہورے جو مرضی کرتے پھیریں خواہ جھوٹ بولیں,غیبت کریں, قوم پر مہنگائی مسلط کریں,ملک و قوم کی دولت لوٹیں ,نظام اسلام کو نذرانداز کریں ۔ تم نے اپنی آنکھیں اور کان بند کرکے ان کےنعرے ہی لگانے ہیں؟
اے قوم! خدا کےلۓ جاگو اگر ہمیں آخرت کی زرا برابر بھی فکر ہے تو ہمیں سنجیدگی سے اپنا حساب لگا کر دیکھنا ہوگا کہ ہماری سوچ و فکر خدا سے بے نیازی و بغاوت پر مبنی نظام کو چلانے اور اسے مستحکم کرنے میں کتنا حصہ لے رہی ہیں؟ اور کس قدر اللّہ کی حاکمیت اور نظام اسلام کے نفاذ کےلۓ صرف ہورہی ہیں؟
زرا ٹھنڈے دل سے سوچو! آخرت کے نقطہ نظر سے سوچ کر بتاؤ کہ گمراہ لوگوں (جمہوریت پسند۔ سیاستدانوں) کی راہ (جمہوریت) پر چلتے ہوۓ ہمیں وہ عزت,سربلندی اور وقار کیسے حاصل ہوگا۔ جس کا اللّہ نے سچی مومن سے وعدہ فرمایا ہے؟
پاکستانیوں! اپنی ذمہ داریوں کا احساس کیجے اور اس باطل جمہوری نظام اور ان سیاسی مداریوں سے بائیکاٹ کریں اور قومی پرچم کے ساۓ تلے ایک ہوجائیں اور اللّہ کی زمین پر اللّہ کا نظام نافذ کرنے کےلۓ جدوجہد کریں ۔
اگر آپ چاہتے ہوں کہ مہنگائی , ذخیرہ اندوزی, بے روزگاری, ناانصافی بدامنی وغیرہ ختم ہوجاۓ تو پھر ان سیاسی جھنڈوں کو سائیڈ پر رکھ کر قومی پرچم کے ساۓ تلے ایک ہوجائیں اور وطن عزیز میں خلافت راشدہ ماڈل نظام اسلامی آئین و قوانین کیساتھ اسلامی صدارتی نظام کے نفاذ کےلۓ آواز بلند کریں ۔جس میں قرآن ہمارا دستور اور احادیث مبارکہ اسکے تشریح ہوں اور تمام پارٹیوں فرقوں پر تاحیات پابندی ہوں کیونکہ اسلام ہمیں پارٹیوں فرقوں سے سختی سے منع کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ اور صدر بھی ان سیاسی مداریوں میں سے نہیں بلکہ عوام میں سے ایماندار اور عادل شخص ریفرنڈم کے زریعے منتخب ہوں جس پر کسی کا اعتراض نہ ہوں۔
نوٹ۔ اگر ہم ایک ہوسکتے ہیں تو صرف اور صرف نظریہ پاکستان پر ایک ہوسکتے ہیں نظریہ پاکستان ہی اصل میں نظریہ اسلام ہے ۔
آئیں وطن عزیز میں خلافت راشدہ ماڈل نظام اسلامی آئین و قوانین کیساتھ اسلامی صدارتی نظام کے نفاذ کےلۓ غیر سیاسی قومی مقاصد کی تحریک ''قائم'' کر کے اس میں شمولیت اختیار کریں اور اس تحریک کی قیادت کریں ۔ یہ کوئی سیاسی پارٹی یا جماعت نہ ہو بلکہ ایک غیر سیاسی قومی مقاصد کی تحریک ہو تحریک پاکستان کی طرح ۔
اور نہ ہی تحریک کا مقصد عہدہ,منسب یا اقتدار حاصل کرنا ہو، بلکہ تحریک کا مقصد نظام تبدیل کرنا ہو اور اسلامی اصولوں کے مطابق عوام میں سے ایماندار اور عادل شخص کو ریفرنڈم کے زریعے سربراہ مملکت منتخب کرنا ہو جو اسلامی قوانین کے تحت ہر ظالم ,کرپٹ اور غلط شخص احتساب کریں ۔
حل صرف اسلامی نظام!
حکومتیں اور چہرے نہیں۔۔۔ نظام کو بدلو
